ایچ ای سی کی تحقیقی کلچر اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے حوالے سے نمایاں کامیابیاں

ایچ ای سی کی تحقیقی کلچر اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے حوالے سے نمایاں کامیابیاں

  



 لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)اعلٰی تعلیمی کمیشن ( ایچ ای سی)نے سال 2017کے اختتام پرپاکستان میں اعلیٰ تعلیمی شعبے کی مجموعی ترقی پر مبنی کاوشوں میں تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے اعلٰی تعلیم ، تحقیقی کلچر اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے حوالے سے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور اپنی توجہ ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ ، مقامی و غیر ملکی تعلیمی تعاون اور اعلٰی تعلیم تک یکساں رسائی سے متعلق پیش رفت پر مرکوز رکھی۔فیڈرل ایچ ای سی کی سالانہ کارکردگی رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2017میں ایچ ای سی نے بیرون ملک میں اعلٰی تعلیم کے لیے 395 جبکہ اندرون ملک کے لیے 1068وظائف فراہم کیے۔ انٹرنیشنل ریسرچ سپورٹ پروگرام کے تحت 412 پی ایچ ڈی سکالرز کو تحقیق کے لیے باہر بھجوایا گیا۔ ہائیر ایجوکیشن اینڈ سائنٹیفک ایکسچینج پروگرام کے تحت157پاکستانی طلباء کو ہنگری حصولِ تعلیم کے لئے بھیجا گیا۔ امریکہ پاکستان تعلیمی راہداری منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز کرنے کے ساتھ ساتھ پاک برطانیہ نالج گیٹ وے منصوبے کی تکمیل پر سیر حاصل اجلاس منعقد کئے ۔ ایچ ای سی نے افغان طلباء کے لئے 3000وظائف پر مبنی علامہ ڈاکٹر محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام شروع کیا ۔علاوہ ازیں پاکستانی طلباء کو ترکی کی جامعات میں اعلٰی تعلیم کے لئے بھیجنے سے متعلق ترکی کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے۔ بلوچستان اور قبائلی علاقوں کے طلباء کے لئے اعلٰی تعلیمی مواقع پر محیط پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا ۔ اس کے علاوہ اسی سال ایچ ای سی اور چائنہ روڈ اینڈ برج کارپوریشن نے ٹرانسپورٹیشن انجینئرنگ میں پاکستانی طلباء کو ماسٹرز کے30وظائف کی فراہمی پر اتفاق کیا۔ 2017 میں پاکستان معاہدۂ واشنگٹن (Washington Accord)کا بھی حصہ بنا جو پاکستانی انجینئرنگ گریجویٹس کی قابلیت کا بین الاقوامی اعتراف ہے۔ اس سال ڈگریوں کی تصدیق کے لئے آن لائن نظام تشکیل دیا گیا جس کی وجہ اسناد اور ڈگریوں کی تصدیق کا عمل کو آسان ہو گیا ۔ اسی سال ایچ ای سی کال سنٹر کی سہولت بھی متعاف کرائی گئی تاکہ والدین، اساتذہ ، طلباء اور محققین اپنے سوالوں کے جوابات گھر بیٹھے ہی حاصل کر سکیں۔ یہی سال اسمارٹ اینڈ سیف کیمپسز اور ایچ ای سی آر ڈی سنٹر کے افتتاح کا سال بنا اور ایچ ای سی نے ایونٹ رجسٹریشن پورٹل کا بھی آغاز کیا جو کہ تعلیمی کیلنڈر کی حیثیت رکھتا ہے۔ زیرنظر سال میں پاکستان کے پہلے انٹرنیٹ ایکسچینج پوائنٹ کا بھی افتتاح کیا گیاتاکہ نیٹ ورکس کے مابین براہ راست رابطہ ممکن بنایا جا سکے۔ ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل (ای ٹی سی )کا قیام بھی اسی سال عمل میں آیا ۔ ای ٹی سی جامعات میں داخلے کے لئے مفت اور معیاری ٹیسٹ کی سہولیات فراہم کرنے کی غرض سے قائم کیا گیا ہے۔ ایچ ای سی نے ہوآوے آئی سی ٹی اسکل کمپٹیشن 2017کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا گیا جس میں چھ پاکستانی طلباء نے قومی سطح پر منعقد کردہ مقابلوں میں کامیابی حاصل کی اور اب وہ بین الاقوامی مقابلے کے لئے تیار ہیں۔ اسی طرح ایچ ای سی اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز کے پروگرام ’سٹیم‘ کے تحت منتخب پاکستانی طلباء پر مشتمل چار مختلف ٹیموں نے بین الاقوامی سائنس اولمپیڈز میں چار کانسی اور پانچ اعزازی تذکرے جیت کر ملک کا نام روشن کیا۔ سال 2017میں قومی کوالیفیکیشن فریم ورک کے ایک حصے کے طور پر پاکستان کوالیفیکیشن رجسٹر (پی کیو آر)کا آغاز کیا گیا جس کی مدد سے طلباء اپنے مستقبل کے شعبہ جات کے حوالے سے علم کی بنیاد پر فیصلہ کرسکیں گے اور اپنی پسند کے پروگراموں میں داخلہ لے سکیں گے۔ جامعات میں گورننس اور امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے ایچ ای سی نے متعدد کانفرنسز کا انعقاد کیا اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا تاکہ نوجوانوں کو انتہاپسندی کے رجحانات سے بچایا جاسکے۔ ینگ پِیس اینڈ ڈیویلپمنٹ کورپس کا قیام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ یہ کورپس اسی سال قائم کی گئی اور 20جامعات کے طلباء اس کا حصہ بنیں۔ ملک میں امن، برداشت اور صحتمندانہ مباحثوں کا فروغ کورپس کے بنیادی کاموں میں سے ہیں۔ ایچ ای سی نے 2016میں قائم کردہ روایت کو دہراتے ہوئے 2017میں تھری جی(گلوبل گُڈگورننس )ایوارڈآف کیمبرج آئی ایف انالٹیکا حاصل کیا ۔ ایوارڈکی تقریب دبئی میں منعقد ہوئی۔ یہ ایوارڈ سرکاری اداروں، کارپوریشنز اور این جی اوز کو شفافیت، گڈ گورننس اور سماجی ذمہ دارانہ کارکردگی کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔2017 میں سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی، لسبیلا یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف پونچھ کے نوشکی، وادھ اور فارورڈکہوٹہ میں بالترتیب کیمپسز آپریشنل ہو گئے۔ ایچ ای سی نے خوشاب کے عوام کے لئے یونیورسٹی کے قیام کی منظوری دی جبک اور ژوب اور ڈیرہ مراد جمالی میں یونیورسٹی کالجز کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ تاہم ایچ ای سی نے معیار تعلیم پر سمجھوتہ کرنے اور ایچ ای سی کے معیار پر پورا نہ اُترنے والی چار جامعات کو کام سے روک دیا تاکہ طلباء کے مستقبل کو خراب ہونے سے بچایا جاسکے۔ اسی طرح ایچ ای سی اب تک تقریباََ 450ایم ایس اور پی ایچ ڈی پروگراموں کو بدانتظامی ، بدعنوانی اورایک متعین تعلیمی معیار سے دوری کے سبب بند کرا چکا ہے۔ ایچ ای سی نے اس سال بھی والدین اور طلباء میں تعلیمی مستقبل اور جامعات کے غیر منظورشدہ پروگراموں سے متعلق آگاہی پھیلانے کے لئے اشتہارات شائع کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ۔ایچ ای سی کی طرف سے ملک میں معیارتعلیم کی بہتری کے لئے متعدد اقدامات سامنے آئے اور ایچ ای سی نے جامعات کو ہدایت کی کہ لیکچررز کی تعیناتی کے لئے کم از کم معیار یعنی اٹھارہ سالہ تعلیم کے طریقہ کار کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔ اس سال مارچ میں منظر عام پر آنے والے ٹائمز ہائیر ایجوکیشن 2017کی درجہ بندی میں پاکستان کی سات جامعات نے اپنی جگہ بنائی۔ گزشتہ سال یہ تعداد محض دو تھی۔ایچ ای سی کے چےئرمین ڈاکٹر مختار احمد اور کئی جامعات کے وائس چانسلرز پر مشتمل ایک وفد نے2017میں برطانیہ میں منعقد کردہ گوئنگ گلوبل کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ اس کانفرنس میں دنیا کے 77ممالک کے 900مندوبین تشریک لائے۔ ایچ ای سی نے 2017میں سی پیک کنسورشیم آف بزنس اسکولز کا آغاز کیا جو کہ چین۔پاکستان اقتصادی راہداری پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک پیش رفت ہے۔ یہ کنسورشیم معیشت اور انتظام کے معاملات پر کام کرے گا اور دونوں ممالک کی حکومتوں سے تعاون کے سلسلے میں اسے مختلف منصوبے دیے جائیں گے تاکہ یہ سی پیک کے حوالے سے معاونت کرے۔ ملک میں ٹیکنالوجی کے فروغ کے عزم پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ایچ ای سی نے ٹیکنالوجی ڈیویلپمنٹ فنڈ کے تحت 31منصوبے کی توثیق کی اور منصوبے بیرون ممالک سے پی ایچ ڈی مکمل کرنے والے اسکالرز کو تفویض کیے گئے تاکہ اُن پر عمل درآمد کیا جاسکے۔ ایچ ای سی نے پاکستان کے وژن 2025سے منطبق ایچ ای سی وژن 2025ترتیب دیا ہے اور اس پر عمل درآمد کے حوالے سے متعدد اجلاسوں کا انعقاد کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر ایچ ای سی نے اپنے قیام سے اب تک پاکستانی طلباء کو کُل 251000وظائف دیے ہیں جن میں 8700مقامی، 9550غیر ملکی اور 9500نیڈبیسڈ اسکالرشپس شامل ہیں۔ اسی طرح وزیر اعظم فیس واپسی اسکیم سے ملک کے 114اضلاع کے 200700طلباء اب تک استفادہ حاصل کرچکے ہیں۔ وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت طلباء کو لیپ ٹاپس کی فراہمی کے لئے اب تک 26.46ارب روپے دیے جاچکے ہیں اور اب اس اسکیم کا چوتھے اور پانچویں مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے۔ ملک میں جامعات کی تعداد 2002میں 59کے مقابلے میں 188تک جا پہنچی ہے ، جبکہ تحقیقی مجلات کی اشاعت اور پی ایچ ڈیز کی تعداد میں کئی گُنا اضافہ ہوا ہے جو اب بالترتیب 12000اور 11960ہوگئی ہے۔ ایچ ای سی ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ پر 41فیصد، تعلیم تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے پر 33فیصد ، اور آئی سی ٹی کی ترقی پر 23فیصد فنڈز خرچ کرتا ہے اور باقی چار فیصد فنڈز دیگر لوازمات پر خرچ کئے جاتے ہیں۔ ایچ ای سی نے جامعات کے 505تعلیم بلاکس کے قیام کے لئے فنڈ مختص کیے ہیں اور ان میں سے 357بلاکس مکمل ہوچکے ہیں جبکہ 148بلاکس زیرتعمیر ہیں۔ ایچ ای سی 2019تک ملک کے ہر ضلع میں کم ازکم ایک اعلٰی تعلیمی ادارے کے قیام کے لئے برسرپیکار ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1