169یوسی ، چیئرمین اور وی سی کے اختلافات ، عوام کاموں کیلئے رل گئے

169یوسی ، چیئرمین اور وی سی کے اختلافات ، عوام کاموں کیلئے رل گئے

  



لاہور(سروے:دیبامرزا:تصاویر:ندیم احمد) صوبائی درالحکومت کی یونین کونسل 169کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے باہمی اختلافات کی وجہ سے اس یونین کونسل کے عوام دونوں کے دفاترکے مابین ایک شٹل کاک بن کررہ گئے ہیں دونوں کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے لیکن اس کے باوجود دونوں ہی ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کو بھی تیار نہیں ہیں اور چئیرمین نے تو اپنے گھر کے ایک باہر والے حصے میں یونین کونسل آفس بنا رکھا ہے جبکہ وائس چئیرمین نے بھی اپنا پرائیویٹ آفس بنا رکھا ہے اس یونین کونسل میں واٹر فلٹریشن پلانٹ تو لگا ہوا ہے مگر اس کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے وہاں پر گندگی کے آثار نمایاں ہیں اسی طرح سے یہاں کے لوگوں کو سیوریج سسٹم بھی اپنی مدد کے تحت ہی کھلوانے پڑتے ہیں یہاں کی مین سڑکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر بھی لگے ہوئے ہیں جبکہ بجلی کے لٹکتے ہوئے تار بھی حکام کی توجہ کے منتظر ہیں اسی طرح سے یہاں کے لوگوں کو علاج معالجہ کی بھی بنیادی سہولیات بھی مہیا کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔تفصیلات کے مطابق روز نامہ پاکستان نے ایک دن ایک یونین کونسل سروے کے دوران گزشتہ روز یونین کونسل 169گوالمنڈی کا سروے کیا اس دوران یہ بات سامنے آئی کہ جب سے بلدیاتی سسٹم آیا ہے تب سے لیکر اب تک اس یونین کونسل کا اب تک صرف ایک ہی اجلاس منعقد ہو سکا اورا س میں بھی وائس چئیرمین خواجہ ندیم وائیں شریک نہیں ہوئے تھے بتایا گیا ہے کہ یونین کونسل کے چئیرمین عرفان بٹ کے ساتھ ان کے وائس چئیرمین کے اختلافات ہیں اسی طرح سے ان کی یونین کونسل کے آدھے کونسلرز چئیرمین کے ساتھ اور آدھے کونسلرز وائس چئیرمین کے ساتھ ہیں جس وقت پاکستان کی ٹیم یونین کونسل آفس میں موجود تھی تو ایک سائل کا کہنا تھا کہ وہ وائس چئیرمین آفس سے تو اپنا کام کروالایا ہے لیکن اب چئیرمین سے دستخط کروانا باقی ہیں یہی اگر دونوں دوسری یونین کونسلوں کی طرح ایک ہی یونین کونسل میں موجود ہوں تو ہمیں دو د ویونین کونسل آفس میں نہ جانا پڑے ۔اسی طرح سے یونین کونسل آفس میں ایک خاتون شازیہ آئیں اور انکا کہنا تھا کہ جب سیوریج سسٹم خراب ہوتا ہے تو ہمیں واسا کے لوگوں کو پیسے دیکر کھلوانا پڑتا ہے وہ پیسے تو لے جاتے ہیں لیکن بعض اوقات اس کے باوجود بھی گٹر کھول کر نہیں جاتے ۔رہائشی خاتون بلقیس کا کہنا تھا کہ جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ واٹر فلٹریشن پلانٹ تو لگا ہوا ہے لیکن اس کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں پر گندگی کے ڈھیر بھی لگے رہتے ہیں اور کیڑے مکوڑے بھی اس کے اطراف میں گھومتے رہتے ہیں ۔ایک اور رہائشی خاتون شبانہ کا کہنا تھا کہ آپ نے دیکھا ہو گا کہ دیال سنگھ کالج کے ساتھ ساتھ جو سڑک اندر کی طرف آ رہی ہے وہ جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور جب بارش ہوتی ہے تواس کا پانی جہاں پر لکشمی چوک اور اس کے اطراف میں کھڑا ہو جاتا ہے تو وہیں پر اس گندے نالے کا پانی بھی گھروں میں داخل ہو جاتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس نالے کو بھی ڈھانپ دیا جائے ۔اسی طرح سے یہاں پر صفائی کے بھی ناقص انتظامات پائے جاتے ہیں اس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور گلیوں و سڑکوں کی حالت زار پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1