اور اب آخری کوشش ۔۔۔؟

اور اب آخری کوشش ۔۔۔؟
 اور اب آخری کوشش ۔۔۔؟

  



انصاف اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہونا چاہئے تھا مگر انہیں ایک دوسرے کے متضاد بنا دیا گیا ہے۔ یہ ظلم خود اہل سیاست نے بھی کیا ہے اور انہوں نے بھی جو سیاست کو گالی اور کچرے کا ڈھیر بنا دینا چاہتے ہیں۔

کل انتیس دسمبرکی شام لاہور کے سینئر صحافیوں، مدیروں اور کالم نگاروں کے سامنے رانا ثناء اللہ خان موجود تھے اور معاملہ ماڈل ٹاون کا وہی سانحہ تھا جس پر آج بھی سیاست چمکائی جا رہی ہے۔

بہت ساروں کا خیال یہ ہے کہ ماڈل ٹاون کے سانحے کی آڑ میں ایک مرتبہ پھر نظام کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی جائے گی اور وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ امکان بھی ظاہر کیا جا سکتا ہے کہ کامیاب ہو یا ناکام، یہ کوشش آخری ہو گی۔ رانا ثناء اللہ خان کہہ رہے تھے کہ اس معاملے پر دو جے آئی ٹیز اپنی رپورٹس دے چکیں اور اب یہ معاملہ عدالت میں ہے ۔

خود پاکستان عوامی تحریک اپنی ایف آئی آر کے مندرجات کے برعکس موقف اختیار کرتے ہوئے اس پر استغاثہ دائر کر چکی اور اس مقدمے کی اگلی سماعت جنوری کی پانچ تاریخ کو ہو رہی ہے۔ مدعی ، گواہان اور ملزمان سب عدالت کے سامنے پیش ہو رہے ہیں تو پھر آل پارٹیز کانفرنس اور کسی ممکنہ دھرنے کی کیا ضرورت ہے۔

مجھے چند روز قبل الحمرا ہال میں خواجہ رفیق شہید فاونڈیشن کے زیر اہتمام جمہوریت کو درپیش خطرات اور ان کا حل کے عنوان سے سیمینار بھی یاد آ گیا جس میں خواجہ سعد رفیق اور احسن اقبال طاہر القادری صاحب سے بار بار اپیل کر رہے تھے کہ وہ عدالت اور قانون کے راستے پر ہی چلیں ، یہ اپیل ا س کے باوجود ہے کہ اسی پارٹی کے سربراہ ایک عدالتی فیصلے کے نتیجے میں نااہل ہو چکے اور اسی ملک میں ایک بڑی سیاسی جماعت نے معاملات عدالتوں میں لے جانے بند کر رکھے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ طاہر القادری صاحب اس معاملے کو منطقی انجام تک لے جانے کے لئے جناب آصف زرداری اور جناب عمران خان کو کامیابی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں یا موخرالذکر دونوں صاحبان ، میاں برادران کے خلاف قادری صاحب کے کندھوں پر رکھ کر کوئی بندوق چلانے میں کامیاب ہوتے ہیں، سوال یہ ہے کہ یہ بندوق نظام پر تو نہیں چل جائے گی اورنکتہ یہ بھی ہے کہ اس معاملے کا منطقی انجام کیا ہے۔

آئین اور قانون کی روشنی میںیہی کہا جا سکتا ہے کہ عدالتیں حقائق کا جائزہ لیں اور اس پر فیصلہ صادر کردیں۔ جسے فیصلہ قبول نہ ہو وہ اپیل میں چلا جائے۔ ہمارے مروجہ قانون میں معاملے کا منطقی انجام دیت کی ادائیگی بھی ہے اور رانا ثناء اللہ خان بتا رہے تھے کہ دیت کی ادائیگی کے لئے مسلم لیگ نون کے بعض بڑوں کی عوامی تحریک کے گنڈا پور وغیرہ کے ساتھ باقاعدہ ملاقاتیں ہوئیں ہلاک شدگان اور زخمیوں کے لئے مجموعی طور پر دس کروڑ روپے کے لگ بھگ قصاص کی ادائیگی پر بھی اتفاق ہو گیا مگر اختلاف ان دو نکات پر ہوا کہ ادائیگی کا طریقہ کار کیا ہو اوریہ قصاص کس کو ادا کیا جائے۔ رانا ثناء اللہ خان نے کچھ دستاویزات کی مدد سے ثابت کیا ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کا یہ موقف غلط ہے کہ ان کے سیکرٹریٹ کے باہر عدالت کے حکم پریا اجازت کے ساتھ بیرئیرز لگے ہوئے تھے۔ اس معاملے پر فراہمی انصاف ویلفئیر سوسائٹی نے ادارہ منہاج القرآن اور حکومت پنجاب کے خلاف رٹ دائر کی تھی اور اس پرعدالت عالیہ کے حکم پر کمیشن نے موقعہ ملاحظہ کیا اور عدالتی حکم پرہی تمام بیرئیرز ہٹائے گئے مگر بعد ازاں ادارہ منہاج القرآن نے ایک انٹرا کورٹ اپیل دائر کر دی جس پرعدالت نے ایس پی ماڈل ٹاون کو ہدایت کی کہ سیکورٹی فراہم کی جائے اوراسی انٹراکورٹ اپیل کے ڈسپوزل آرڈر کی غلط تشریح کرتے ہوئے پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا کہ عدالت نے بیرئیرز کو جائز قرار دیا ہے، بہرحال، بات اب بیرئیرزسے بہت آگے نکل چکی ہے ، اس تنازعے پر مجموعی طور پر دس افراد مارے جا چکے ہیں۔

میرا رانا ثناء اللہ خان سے سوال تھاکہ تشریحات جو بھی کی جاتی رہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ دس افراد کی زندگیاں قیمتی تھیں ، وہ کیا وجہ بنی کہ پولیس نے فائرنگ کی اوربراہ راست فائرنگ کا حکم دینے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

رانا ثناء اللہ خان کا جواب تھا کہ پہلی جے آئی ٹی میں نو پولیس افسران اور اہلکاروں جبکہ دوسری جے آئی ٹی میں ان میں سے ہی صرف چھ کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان عوامی تحریک کے استغاثے کی عمارت مکمل طور پر جھوٹ پر کھڑی ہے ۔مثال کے طور پر استغاثے کے بارہویں پیراگراف میں کہا گیا ہے کہ پندرہ جون کو بعد از نماز مغرب چیف منسٹر ہاوس سے ایک گاڑی بھجوائی گئی جس میں اس وقت پی اے ٹی کے جنرل سیکرٹری خرم نواز گنڈا پور، جنرل سیکرٹری پنجاب فیاض احمد وڑائچ، چیف سیکورٹی آفیسر سید الطاف حسین گیلانی سوار ہو کرایک کوٹھی بمقام ایچ بلاک ماڈل ٹاون پہنچے جہاں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، میاں حمزہ شہباز، ڈاکٹر توقیر شاہ، چودھری نثار علی خان، رانا ثناء اللہ خان، خواجہ سعد رفیق، خواجہ محمد آصف، پرویز رشید اور عابد شیر علی موجود تھے۔ مختصر رسمی گفتگو کے بعد میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف نے عوامی تحریک کے رہنماوں کو حکم دیا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی وطن آمد کو بہر طور رکوایا جائے مگر خرم نواز گنڈا پور نے اس حکم کو ماننے سے انکا رکر دیا جس پر نواز شریف، شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف طیش میں آ گئے اور کہا ہم ان کی ہر تحریک کچل کر رکھ دیں ، ہم نے رانا ثناء اللہ ، خواجہ سعد رفیق اور چودھری نثار علی خان پر ایک کمیٹی بنا دی ہے جو راستے میںآنے والے ہر رکاوٹ کو تہس نہس کر دیں گے، عابد شیر علی اور خواجہ آصف نے غصے میں کہا کہ ہم راستے میںآنے والی ہر رکاوٹ کو ختم کر دیں گے۔ استغاثے کی فراہم کردہ تحریر کے مطابق الزام علیہان کا یہ نامعقول رویہ دیکھ کر خرم نواز گنڈا پور اور ان کے ساتھی وہاں سے چلے آئے۔

استغاثے کے چودہویں نکتے کے مطابق آئی جی پنجاب مشتاق احمد سکھیرا کا انتخاب بھی اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کیا گیا اور انہیں آئی جی بلوچستان سے بد ل کے آئی جی پنجاب لگا دیا گیا جنہوں نے راستے میں آنے والے ہر ایک شخص کو ختم کرنے کا خصوصی حکم بذریعہ وائر لیس جاری کیا۔

اس سے پہلے ایف آئی آر میں کہا گیا کہ کارروائی کے وقت ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ ہمیں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ خان کی طرف سے سخت حکم آیا ہے کہ قادری خاندان کانام و نشان مٹا دو خواہ کتنی جانیں لینا پڑیں۔

حالیہ سیاسی تاریخ کو دیکھا جائے تو ماڈل ٹاون کا سانحہ ، کراچی کے بلدیہ ٹاون کے سانحے اور بارہ مئی کو سابق چیف جسٹس کی کراچی آمد کے موقعے پر قتل عام کے بعد تیسرا بڑا سانحہ کہا جا سکتا ہے مگر شور صرف تیسرے بڑے سانحے کا ہے، اس سانحے کانہیں جس کے بعد اسلام آباد میں حکمرانوں نے مکے لہرائے تھے اور اسے عوام کی طاقت قرار دیا تھا۔

بہرحال ایف آئی آر اور استغاثے کے نکات کسی تھرڈ کلاس فلم کے گھٹیا سکرہٹ رائٹر کی تخلیق لگتے ہیں اور شائد یہی وجہ ہے کہ استغاثے کی سماعت کرتے ہوئے ان میں سے کسی سے یہ تک نہیں پوچھا گیا کہ مخالف سیاسی رہنما کو بلا کے حکم کیوں دیا گیا اور نہ ہی وہ بتا سکے کہ جو گاڑی لینے آئی تھی اس کا نمبر کیا تھا۔

اس کے لئے کون سے ٹیلی فون نمبر سے رابطہ کیا گیا،اس گھر کا نمبر کیا تھا اور کیا ا س موقعے کی کوئی تصویر یا دوسرا ثبوت موجود ہے۔ ثابت تو یہ بھی کرنا ہو گا کہ کیا اس روز وزیراعظم سمیت تمام اہم وفاقی شخصیات لاہور اور ماڈل ٹاون میں ہی موجود تھیں۔

میں نے کہا کہ ہم سیاست میں انصاف سے پھر جاتے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ انصاف اور تحریک انصاف کو بھی ایک دوسرے کی ضد سمجھا جانے لگا ہے۔ معاملہ عدالت میں ہے مگر اس پر آل پارٹیز کانفرنس ہو رہی ہے، کیوں ہو رہی ہے، پاکستانی سیاست میں اس سوا ل کے جواب کے لئے کسی غیر معمولی ذہانت کی ضرورت نہیں۔

احسن اقبال نے کہا تھا کہ ماڈل ٹاون کے سانحے اور اسلام آباد کے دھرنوں میں ایک ہی قوت ملوث تھی مگر اس سنگین ترین الزام کا کوئی عقلی جواب سامنے نہیں آیا۔

واقعات کی ترتیب بھی ظاہر کرتی ہے کہ ان دونوں میں کوئی نہ کوئی تعلق ضرور تھامگر یہ دونوں ہی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے اور پھر میاں نواز شریف عدالت سے نااہل ہوئے۔میراسوال یہ ہے کہ بے وقت یہ بانسری کیوں بجائی جا رہی ہے۔

جب سیاسی جماعتوں کو انتخابات کے حوالے سے مصروف ہونا چاہئے وہ اپنی توانائیاں اس کام میں کیوں صرف کر رہی ہیں جس کا نتیجہ نکالنا عدلیہ کی ذمہ داری ہے ۔۔۔ اور کیا یہ واقعی آخری کوشش ہے؟

مزید : رائے /کالم


loading...