آلو چھِل لوگے نا۔۔۔

آلو چھِل لوگے نا۔۔۔
 آلو چھِل لوگے نا۔۔۔

  



اے بھائی اے پی سی والو! تم جتنا مرضی شور کرلو، این آر او کے خلاف شور مچالو بھیا میرے اگر میاں برادران کی قسمت میں این آر او لکھ دیا گیا ہے تو کون ہے جو لکھے کو مٹاسکے، تم جتنا مرضی ہوہاؤ کرلو، چھوٹے میاں صاحب کے لئے خصوصی طیارہ آیا تو بڑے میاں صاحب بھی روانہ ہوگئے۔

کون کسی کو باندھ سکا، صیاد تو اک دیوانہ ہے

توڑ کے پنجرہ اک نہ اک دن پنچھی کو اڑ جانا ہے

اب اگر کوئی کہے کہ بھیا ان دونوں شیروں کو کیوں بلایا گیا تو حاکم کبھی محکوموں کو بتاکے تھوڑا بلاتے ہیں، بس ان کی مرضی نیو ورلڈ آڈر گیم کے سکرپٹ میں اگر کوئی تبدیلی آئی ہے تو وہ آکے رہے گی اور رہی یہ شناختی کارڈ ہولڈر دکھیاری مخلوق تو اسکا کیا ہے، اس نے سر جھکا کے زندگی کے دن پورے کرنے ہیں، یہ الیکشن انتخابی اصلاحات، یہ قانون، ضابطے اور احتساب سب دل خوش کرنے کے منورنجن پروگرام ہیں، بھیا میرے چاند ستارے راج دلارے جو انٹرنیشنل پلیئرز کی اکھیوں کے تارے ہیں انہیں کے وارے نیارے ہیں، باقی جو بچا وہ خسارے ہی خسارے ہیں، اگر آپ لنڈے کی جرابیں جرسیاں پینٹ کوٹ پہنیں گے تو خواب بھی انگریزی نظر آئیں گے اور رہا چین تو چین کی پراڈکٹ کا کیا شادی کی طرح چل گئی تو ساری عمر ورنہ اگلے ہی لمحے ٹیں پٹاس، استاد نے شاگر سے کہا جس کو سنائی نہ دیتا ہو اسے انگلش میں کیا کہیں گے، شاگرد بولا استاد جو مرضی کہہ لو اس نے کیڑا سن لینا اے، اور ہم وہی ہیں جنہوں نے کچھ نہیں سننا، چاہے پوری دنیا زور زور سے کہہ رہی ہو کہ ڈھولی تارو ڈھول باجے، ڈھم ڈھم ڈھول باجے، ہمارے ارد گرد ہانکا ہورہا ہے، پاکستان کو شکار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہمارے کان گنگ ہوکر رہ گئے ہیں۔

کبھی جب پاکستان میں سینماؤں کا عروج تھا تو اکثر پرانی فلموں کے اشتہار پر لکھا ہوتا تھا شرطیہ نیا پرنٹ، اے پی سی بھی ایک پرانی فلم کا شرطیہ نیا پرنٹ ہے اور کچھ نہیں بس نئی بوتل میں پرانی شراب ہے، وہی بد مزہ بدبودار، آج اگر زرداری اس صورتحال کا شکار ہوتے تو سارے کریکٹریہی ہوتے زرداری کی جگہ نواز شریف اے پی سی کا حصہ ہوتے، چہرے وہی رہتے ہیں بس کردار بدل جاتے ہیں، ایبڈو سے لیکر موجودہ احتساب تک صرف راہداریاں بنائی جاتیں ہیں، محفوظ راہداریاں جن میں سے گذار کر یہ کردار پویتر ہوجاتا ہے۔

ملاں نصیر الدین سردیوں میں گھر سو رہے تھے، باہر شور مچا بیگم بولیں دیکھیں باہر کیا ہورہا ہے، وہ کانپتے کانپتے باہر نکلے، اچانک ایک آدمی بھاگتا ہوا آیا اور انکا کمبل اتار کر بھاگ گیا، ملاں نصیر مزید کانپتے واپس آئے بیگم نے پوچھا کیا جھگڑا تھا، وہ بولے کچھ نہیں بس کمبل کا جھگڑا تھا، میاں صاحب کی حکومت کے ملاں نصیر اسحاق ڈار بیچارے ایویں سردی میں مارے گئے، اشتہاری ہوگئے، لیکن وہ جمع خاطر رکھیں این آر او آیا تو اسکی برکات سے اسحاق ڈار بھی ضرور مستفید ہونگے۔

ویسے اس ساری صورتحال پر مجھے نہ چاہتے ہوئے بھی ہنسی آتی ہے، فرض کریں اگر عمران خان اور شیخ رشید کو آنے والے بھیانک خواب سچ مچ این آر او کی شکل میں سامنے آگئے تو بابا جی کی کیا پوزیشن ہوگی، انصاف قانون کے دعوے کہاں جائیں گے، گو ایسا پہلی بار تو نہیں ہوگا لیکن ہر بار کی طرح شرمندگی کا بیانیہ کیا ہوگا وہ بہت دلچسپ ہوگا۔

ہمارا عشق ظفر رہ گیا دھرے کا دھرا

کرایہ دار ہی اپنا مکان چھوڑ گیا

رہی ہماری معصوم صورت اور نیک سیرت نیب کی تو مجھے یقین ہے کہ وہ سر پر دوپٹہ رکھ کر نیویں نظریں کرکے ضرور بدلے گی، عالیجاہ جیویں تہاڈی مرضی۔ اچھی خاصی انصاف اور قانون کی مووی چل رہی ہوتی ہے کہ بیچ میں کو کٹرو آجاتے ہیں، مجھے معلوم ہے آپ کو کوکڑو کا مطلب نہیں آتا ہوگا لیکن اگر کبھی دال کھاتے یہ آپکی داڑھ کے نیچے آجائے تو پورے جسم میں ایسی جلترنگ بجتی ہے اچھا خاصہ بندہ تان سین محسوس ہونے لگتا ہے۔

ہمارا المیہ یہی ہے کہ یہ کوکڑو ہر دو تین نوالوں کے بعد منہ میں آجاتے ہیں۔ ٹیچر نے سنتا سنگھ سے کہا وہ اپنے پسندیدہ ہیرو پر مضمون لکھے سنتا نے اپنے مہان پتا جی کے نام پر مضمون لکھ دیا سنتا کے ابو نے آنکھوں میں آنسو لاکر کہا مورکھا اتنا بڑا سمان دے دیا مجھے، تونے شاہ رخ پر کیوں نہیں لکھا، سنتا بولا بابو مینوں شاہ رخ لکھنا نئی آؤندا سی، میرے سارے توصیفی کالم اس جھوٹ پر مبنی گندے نظام کے حق میں اس لئے ہیں کہ مجھے سچ لکھنا نہیں آتا، میرا قلم نہ آشنا ہے، حق بات لکھنے سے، شاید مجھے سچ لکھنا سکھایا ہی نہیں گیا، ورنہ میرا قلم ضرور لکھتا کہ یہ کیسا نظام ہے، جہاں ایلیٹ کلاس امرا اپنی ذاتی جنگ میں انصاف قانون آئین کو اس طرح استعمال کرتے ہیں، جس طرح ہم گاڑی چلاتے ہارن کو، اور آفرین ہے اس قوم پر سب دیکھتی رہتی ہے، سیاستدان بولیں تو کہتی ہے درست فرمایا، مہربان بات کریں کہ تو کہتی ہے آپ نے بھی درست فرمایا، انصاف اس معصومیت پر نیواں نیواں ہوکر نجانے کہاں نکل جاتا ہے۔

جتنی پراکسی وارز پاکستان کی دھرتی پر لڑی گئیں اور لڑی جارہی ہیں کسی ملک کے نصیب میں نہیں۔ یہاں مدرسوں، تعلیمی اداروں، مذہبی جماعتوں اور مذہبی ٹھیکیداروں کو مرضی کا بیانیہ دینے کے لئے جتنی رقمیں ہمارے روحانی مہربانوں نے خرچیں کاش پاکستان کی ترقی پر خرچی جاتیں تو آج ہم ایک اچھے خاصے ملک کی شکل میں ہوتے، ہماری تقدیروں کے فیصلے کہیں اور ہوتے رہے اور ہوتے رہیں گے اور ہم بس کوکڑؤں کو چبا کر گنگناتے اور جھنجھناتے رہیں گے۔

بیگم نے اپنے میاں صاحب سے پوچھا دو کلو آلو اور دو کلو مٹر خرید لوں، شوہر صاحب نے اکڑ کر کہا اس میں پوچھنے والی کیا بات ہے وہ بولیں مشورہ نہیں لے رہی یہ پوچھ رہی ہوں کہ چھیل لو گے نا؟ ہر بار ہمیں یوں لگا جیسے مقتدر دوست ہم سے مشورہ مانگ رہے ہیں بعد میں احساس ہوا کہ وہ ہماری کیپسٹی پوچھ رہے ہیں، چلیں جی اے پی سی والے اپنے ڈنگ نکال لیں میاں برادران کو لمبا ڈالنے کیلئے پورا زور لگا لیں میاں برادران سعودی عرب، ترکی اور امریکہ میں گاٹیاں ڈال لیں، نتیجہ جو بھی نکلے ہمیں کیا، ہم نے تو آلو ہی چھیلنے ہیں۔

مزید : رائے /کالم