مصافحے سے بچنے کیلئے عمران خان اور زرداری اے پی سی میں نہیں گئے

مصافحے سے بچنے کیلئے عمران خان اور زرداری اے پی سی میں نہیں گئے
مصافحے سے بچنے کیلئے عمران خان اور زرداری اے پی سی میں نہیں گئے

  



تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

  کہنے کو تو یہ آل پارٹیز کانفرنس تھی اور یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ اس میں 40 سیاسی جماعتیں شریک ہوئیں لیکن کانفرنس کے اختتام پر جو سٹیئرنگ کمیٹی بنی ہے اس میں چار جماعتوں کی نمائندگی ہے (1) پیپلز پارٹی (2) تحریک انصاف (3) جماعت اسلامی اور (4) پاک سرزمین پارٹی۔ اس سٹیئرنگ کمیٹی کے تین کوآرڈینیٹر بھی مقرر کئے گئے ہیں جن کا تعلق بھی پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور میزبان جماعت پاکستان عوامی تحریک سے ہے۔ اس کانفرنس کا ایک فوری فائدہ پنجاب کی حکومت کو یہ ہوا ہے کہ اس کے وزیراعلیٰ اور وزیر قانون کو استعفا دینے کیلئے مزید آٹھ دن مل گئے ہیں۔ اس سے پہلے پاکستان عوامی تحریک نے جو ڈیڈ لائن دی تھی وہ 31 دسمبر تک تھی، نئی ڈیڈ لائن (سات جنوری) کے بعد یہ فیصلہ ہوگا کہ استعفے لینے کیلئے کون سا طریقہ کار اختیار کرنا ہے، کوئی تحریک چلانی ہے، کوئی دھرنا دینا ہے، کوئی لانگ مارچ کرنا ہے یا احتجاج کا کوئی دوسرا طریقہ اختیار کرنا ہے۔ اس کانفرنس میں ایم کیو ایم (پاکستان) بھی شریک تھی، لیکن اس کی کوئی نمائندگی نہ سٹیئرنگ کمیٹی میں ہے اور نہ ہی کوآرڈینیٹروں میں ان کے کسی رکن کا نام آیا ہے، حالانکہ سٹیئرنگ کمیٹی میں آسانی سے ایک نام کا اضافہ کیا جاسکتا تھا اور اگر کسی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکتا تھا تو پیپلز پارٹی کے دو، دو ارکان میں سے کسی پارٹی کا ایک رکن کم کرکے ایم کیو ایم (پاکستان) کو نمائندگی دی جاسکتی تھی۔ آپ کو معلوم ہے کہ کراچی کی سیاست میں مہاجروں کے نام پر سیاست کرنے والوں میں یہی دو جماعتیں پیش پیش ہیں۔ ویسے تو حقیقی بھی ہے جو مہاجر قومی موومنٹ کہلاتی ہے اور آفاق احمد اس کے سربراہ ہیں لیکن پاک سرزمین پارٹی جب سے میدان میں اتری ہے جو لوگ اس جماعت میں شامل ہوئے ہیں ان سب کا تعلق ایم کیو ایم سے ہی ہے۔ اب بھی جو پرندے ایم کیوایم پاکستان کے شجر سایہ دار سے اڑ رہے ہیں پاک سرزمین پارٹی کی سبز و شاداب فضاؤں میں ہی آ رہے ہیں۔ اس لحاظ سے دونوں جماعتوں میں ایک خاص قسم کی سیاسی رقابت بھی چل رہی ہے ایسے میں پاک سرزمین کے رضا ہارون کو اگر سٹیئنرنگ کمیٹی کا رکن بنایا گیا اور ایم کیو ایم پاکستان کو نظرانداز کردیا گیا تو اس کا احتجاج تو بنتا تھا، اس لئے ایم کیو ایم پاکستان کا وفد کانفرنس کے اختتام سے پہلے ہی اٹھ کر چلا گیا۔ اب یہ بات بے معنی ہے کہ وفد اجازت لے کر گیا یا بغیر اجازت، اس کے جانے کا انداز بہرحال ایسا تھا جس میں ایک خاموش قسم کا احتجاج چھپا ہوا تھا۔

اے پی سی سے پہلے عمران خان ایک مرتبہ اور آصف علی زرداری دو مرتبہ منہاج القرآن سیکرٹریٹ آئے، لیکن اے پی سی میں وہ بنفس نفیس تشریف نہیں لائے، وجہ غالباً یہ ہوگی کہ عمران خان اور آصف زرداری کے درمیان جن محبت بھرے الفاظ کا تبادلہ اکثر و بیشتر ہوتا رہتا ہے اگر دونوں کی آنکھیں اے پی سی میں چار ہو جاتیں تو تکلفاً اور رسم دنیا نبھانے کیلئے معانقہ نہ سہی مصافحہ تو کرنا پڑتا۔ غالباً دونوں رہنماؤں نے اس مصافحے سے بچنے کیلئے کانفرنس میں نہ جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ اگر ایسا ہو جاتا تو یار لوگ اسے اپنی پسند کا مطلب پہناتے اور اس پر متنوع قسم کی حاشیہ آرائی بھی ہوتی۔ جس زمانے میں مخدوم سجاد حسین قریشی پنجاب کے گورنر تھے۔ ایم آر ڈی نے جنرل ضیاء الحق کے خلاف تحریک شروع کر رکھی تھی مخدوم صاحب اللہ بخشے بڑے وضع دار بزرگ تھے، رکھ رکھاؤ کا خیال رکھتے تھے۔ کسی تقریب میں ان کی غلام مصطفی جتوئی سے ملاقات ہوئی تو ظاہر ہے مصافحہ بھی ہوگیاکہ ایک زمانے میں دونوں ایک ہی سیاسی جماعت میں بھی رہ چکے تھے، دونوں نے ہاتھ ملایا تو ایک فوٹو گرافر نے اس لمحے کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرلیا۔ مخدوم صاحب کی خواہش تھی کہ یہ تصویر اخبار میں نہ چھپے لیکن اگلے روز جب تصویر چھپ گئی تو اس پر من پسند تبصرے بھی ہوئے، غالباً ایسی ہی کسی صورتحال سے بچنے کیلئے عمران خان اور زرداری آل پارٹیز کانفرنس میں شریک نہیں ہوئے، اگرچہ دونوں جماعتوں کی بھرپور نمائندگی تھی اور اعلیٰ قیادت موجود تھی لیکن وہ جو ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا تھا کہ زرداری ان کے دائیں اور عمران خان ان کے بائیں بیٹھے ہوں گے عملاً نہ ہوسکا۔

استعفے کی ڈیڈ لائن میں توسیع بھی ان دونوں جماعتوں کی خواہش پر ہی کی گئی ہے، اس دوران دونوں جماعتیں اپنا اپنا لائحہ عمل بھی تیار کرلیں گی، مشاورت بھی ہو جائے گی اور یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ شہبازشریف اور نوازشریف کے دورۂ سعودی عرب کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ اگرچہ عزت مآب سعودی سفیر نے واضح طور پر کہا ہے کہ شہبازشریف (اور بعدازاں نوازشریف) کے دورے کاپاکستان کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی کوئی این آر او زیر بحث ہے لیکن ابھی جہاز لاہور کے ایئرپورٹ پر ہی کھڑا تھا کہ بعض اینکروں کو عالم بالا سے خبر مل گئی تھی کہ این آر او ہونے جا رہا ہے، اب اس پر شور بھی وہ مچا رہے ہیں جن کیلئے ایک این آر او ہوچکا اور وہ اس گنگا میں اشنان کرچکے، البتہ انہیں یہ اعتراض ہے کہ ’’مانہ کردیم، شما حذر بکنید‘‘ اگرچہ ہم نے تو این آر او کرلیا تھا لیکں آپ کو ہم نہ کرنے دیں گے، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے عمران خان سے بنی گالہ کی پریس کانفرنس میں سوال ہوا کہ آپ تو موروثی سیاست کے خلاف ہیں لیکن اب جہانگیر ترین کی نااہلی کے بعد ان کے بیٹے کو این اے 154 سے الیکشن لڑوایا جا رہا ہے تو وہ اس سوال پر سیخ پا ہوگئے، جیسے کہہ رہے ہوں کہ یہ کوئی موروثی سیاست تھوڑی ہے، موروثی سیاست تو وہ ہے جو نوازشریف اور آصف زرداری کر رہے ہیں۔

مصافحہ

مزید : تجزیہ


loading...