2017ء کی بڑی خبر

2017ء کی بڑی خبر
2017ء کی بڑی خبر

  



رخصت ہوتے ہوئے سال (2017ء) کے دوران بین الاقوامی محاذ پر جو کچھ ہوتا رہا، اگر اس سے صرف نظر کرکے توجہ صرف پاکستان کے داخلی معاملات پر مرکوز کر لی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ اس حوالے سے بڑی خبر یہی تھی کہ حکومت ختم ہونے کے باوجود ختم نہیں ہوئی۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ منظر دیکھنے کو ملا کہ برسرِ اقتدار جماعت کے سربراہ (بلکہ خالق) کو ایک عدالتی حکم کے ذریعے پارلیمانی سیاست کے لئے نااہل قرار دے دیا گیا، انہیں وزارت عظمیٰ کے قلمدان سے دستبردار ہونا پڑا، لیکن ان کی جماعت کی حکومت کو آنچ نہیں آئی۔ سبکدوش وزیراعظم نے اپنا جانشین نامزد کرکے اسے تخت پر بٹھایا اور خود ایوانوں سے میدانوں میں نکل آیا۔

اس سے پہلے پچاس کی دہائی میں یہ منظر دیکھنے میں آ چکا تھا کہ وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کو گورنر جنرل غلام محمد نے برطرف کر دیا تو جو اسمبلی بجٹ منظور کرکے ان پر ایک یا دو روز پہلے اعتماد کا اظہار کر چکی تھی، گورنر جنرل کے اس جرنیلی حکم کے راستے میں دیوار بننے کے بجائے اس کے نامزدہ کردہ وزیراعظم کے استقبال میں مصروف ہو گئی۔

خواجہ صاحب کی کابینہ کے اکثر وزراء نے محمد علی بوگرہ کی کابینہ کے رکن کے طور پر حلف اٹھا لیا۔ اسمبلی نے ہنستے مسکراتے ہوئے نئے ’’مہمان‘‘ کو اعتماد کا ووٹ دیا اور خواجہ صاحب کو تاریخ کے سپرد کر دیا۔ چند ہی روز بعد خواجہ صاحب کو مسلم لیگ کی صدارت سے الگ کرکے محمد علی بوگرہ کو اس مسند پر بھی بٹھا دیا گیا۔

خواجہ صاحب مسلم لیگ کے خالق تو نہیں تھے، لیکن ان کا خاندان اس کے بانیوں میں تھا۔ وہ اس کے صدر بھی تھے، لیکن ان کے ساتھیوں نے کتاب اقتدار کا ورق الٹ کر اسے نئے سرے سے پڑھنا شروع کر دیا۔ نوازشریف کے رفقاء نے البتہ ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔

جنرل پرویز مشرف کے دور کے انتخابی قوانین کے مطابق پارلیمانی سیاست کے لئے نااہل شخص سیاسی جماعت کی سربراہی کا اہل بھی نہیں تھا، لیکن پارلیمنٹ نے ترمیم شدہ قانون کو منظور کرکے ان کی پارٹی صدارت کا دروازہ کھول دیا۔اسمبلی برقرار رہی، کاروبار حکومت چلتا رہا۔ نئے وزیراعظم اپنے رہنما کا دم بھر رہے ہیں اور کٹھ پتلی کی عمران خانی پھبتی کے باوجود پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں ہیں۔

پاکستانی سیاست میں وزیراعظم کا منصب ہمیشہ ہی موضوع بحث رہا ہے۔ ہمارے ریاستی ڈھانچے میں اس کو اکثر چین نصیب نہیں ہوا۔ اگر کبھی اسے چین آیا ہے تو اس نے دوسروں کو چین سے رہنے نہیں دیا۔ پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان گولی کا نشانہ بن گئے، دوسرے ،گورنر جنرل کے جرنیلی فیصلے کی نذرہو گئے۔

جب دستور ساز اسمبلی میں مسلم لیگ کی بلاشرکت غیرے بالادستی برقرار نہ رہی اور نئی سیاسی جماعتیں بھی اپنے نمائندے یہاں پہنچا گزریں تو پھر ایوان صدر جوڑ توڑکا مرکز بن گیا۔مخلوط وزارتیں، بنتی اور ٹوٹتی رہیں۔ وزیراعظم آتے اور جاتے رہے۔ یہاں تک کہ وزیراعظم فیروز خان نون کی سرکوبی کے لئے مارشل لاء آدھمکا۔

صدر میجر جنرل سکندر مرزا نے دستور کو تہہ و بالا کرکے آرمی چیف جنرل ایوب خان کو وزارت عظمیٰ کا منصب سونپ دیا۔ چند ہی روز بعد نئے وزیراعظم نے صدر کو لات مار کر ایوان صدارت ہی نہیں ملک سے اس طرح نکالا کہ ان کی میت کو بھی واپسی نصیب نہیں ہوئی۔ تدفین کے لئے بھی ایران کا انتخاب کیاگیا۔ ایوب خان نے خود کو صدر بنا لیا تو نیام میں دوسری تلوار پسند نہ آئی، تمام اختیارات خود سنبھالے اور خود ساختہ آئین کے تحت اپنی مرضی کا صدارتی نظام مسلط کر دیا۔

11برس بعد ایسے رخصت ہوئے کہ اپنا تھوکا آپ چاٹا۔ اپنا ہی دستور منسوخ کرکے اقتدار اپنے فوجی جانشین کے سپرد کیا (گویا یہ ملک ذاتی جاگیر تھا)۔۔۔نئے آنے والے نے نئے دستور کا راگ الاپنا شروع کیا۔

پرانے دساتیر کے طے شدہ امور دوبارہ چھیڑ دیئے۔دو کے چھ صوبے بنا دیئے۔آبادی کی بنیاد پر نشستوں کا تعین کرکے، صوبوں اور وفاق کے درمیان صوبائی خود مختاری کی طے شدہ حدود کا بھی خاتمہ کر دیا۔ دانشمند قیادت روکتی رہی،ایوب خانی مارشل لاء کے منسوخ کئے ہوئے دستور کی بحالی پر زور دیتی رہی ،لیکن مہم جوئی نے ایک نہ سنی۔

نئی دستور ساز اسمبلی میں شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ واحد اکثریتی پارٹی بن کر ابھری۔دوسری بڑی جماعت پیپلزپارٹی کے رہنما ذوالفقار علی بھٹو سے جب آئینی امور پر اتفاق نہ ہو پایا تو نوبت فوجی کارروائی تک پہنچی اور ملک دولخت ہو گیا۔ اس سے پہلے یحییٰ خان شیخ مجیب الرحمن کو آئندہ وزیراعظم قرار دے چکے تھے۔

ان کے ہاتھ منصب تو نہ آیا ،لیکن آدھاملک ہم سب کے ہاتھ سے نکل گیا۔ مغربی پاکستان کو نیا پاکستان قرار دے کر ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم بننے میں کامیاب ہو گئے۔ان کا سکّہ خوب چلا، لیکن انہوں نے مخالفین کا جینا حرام کر دیا، نتیجتاً مارشل لاء کی نذر ہوئے۔ پھر قتل کے الزام میں تختہ دار پر لٹکائے گئے۔

ان کے حامی سہم گئے، لیکن مخالف بغلیں بجاتے رہے اور پاکستانی سیاست پر خون کا ایک اور دھبہ نمایاں ہو گیا۔ لیاقت علی خان کے بعد یہ دوسرا خون تھا، جو وزیراعظم کی رگ جاں سے نکلا۔ واقعات الگ الگ تھے ،لیکن خون کا رنگ ایک جیسا تھا۔

بات بہت پھیل گئی، اسے سمیٹنے کے لئے بس یہ کہنا کافی ہے کہ معاملہ نوازشریف تک پہنچا ہے تو سپریم کورٹ نے اپنے ایک ایسے اختیار کو استعمال کیا ہے جو کتابِ آئین میں درج نہیں ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کو ایک بار ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹایا گیا تھا، دوسری بار جنرل پرویز مشرف کے ماورائے آئین اقدام نے انہیں ایوان سے نکال کر جیل پہنچایا، اور اب تیسری بار ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے ان سے منصب چھین لیا گیا۔

پاکستان میں جمہوریت کا جہاز ہچکولے کھا رہا ہے، لیکن اس کی اڑان جاری ہے۔بگولے اٹھ اٹھ کر بیٹھ رہے ہیں۔ نیا سال انتخابات کا سال ہے۔ توقع لگائی جا رہی ہے کہ ان کا انعقاد مقررہ وقت پر ہوگا اور ماضی کے تجربات میں سے کسی کو بھی دہرانے کی جرات کسی کو نہیں ہوگی۔

شہبازشریف کا نام مسلم لیگ (ن) کے نئے وزیراعظم کے طور پر سامنے آ چکا ہے۔ عمران خان بھی ہوا کے گھوڑے پر سوار ہیں۔ان دونوں کے درمیان گھمسان کارن پڑے گا، لیکن دھرنوں اور ہنگاموں کے گڑھے کھودنے والے بھی دھماچوکڑی مچائے ہوئے ہیں، اللہ نہ کرے کہ ان کا داؤ چل جائے۔کئی ہاتھوں کے دستانے اترچکے،اور کئی چہرے بھی بے نقاب ہو چکے لیکن 2018ء کا چہرہ تو کُھلتے کُھلتے کُھلے گا۔

[یہ کالم روزنامہ ’’پاکستان‘‘ اور روزنامہ ’’دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے۔]

مزید : رائے /کالم