الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کے اندر انتخابات کروائے، قوم نیا این آر او نہیں مانے گی: سراج الحق

الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کے اندر انتخابات کروائے، قوم نیا این آر او نہیں ...

  



مانچسٹر (آئی این پی )امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ملک میں حقیقی جمہوریت کے لیے الیکشن کمیشن اپنی نگرانی میں پارٹیوں کے اندر انتخابات کروائے ، سیاست کو ظالم جاگیرداروں ، وڈیروں ، سرمایہ داروں ، اشرافیہ کے قبضے سے آزاد ی دلانے کے لیے انتخابات میں دولت کے عمل دخل کا خاتمہ ضروری ہے ۔ موروثی سیاست میں عام آدمی کے لیے انتخابات میں حصہ لینا ممکن نہیں ۔ مسئلہ کشمیر کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومت کا غیر سنجیدہ رویہ ہے ۔ قوم ملک میں کسی نئے این آر او کی اجازت نہیں دے گی ۔ جب تک پانامہ لیکس کے دیگر 436 کرداروں ، بینکوں سے قرضے لے کر معاف کرانے اور این آر او کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں کا مکمل آڈٹ نہیں ہو جاتا ، ان لوگو ں کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہ دی جائے ۔ الیکشن کمیشن اپنے ضابطہ پر عمل کروانے میں بری طرح ناکام رہاہے جس کی وجہ سے کرپٹ اور بددیانت لوگ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ دولت کے بل بوتے پر الیکشن لڑنے والے اقتدار میں آنے کے بعد الیکشن میں خرچ کی گئی دولت کا سو گنا قومی خزانے سے چوری کرتے ہیں ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے مانچسٹر میں یورپین مسلم کونسل کی طرف سے اپنے اعزاز میں دیے گئے عشائیہ سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان محمد اصغر ، یوکے اسلامک مشن کے سیکرٹری جنرل ریاض ولی بھی موجود تھے ۔ عشائیہ میں علمائے کرام ، ڈاکٹرز ، پروفیسرز ، تاجرا ، اساتذہ سمیت خواتین اور نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ شدید سردی کے باوجود معززین شہر سینکڑوں کی تعداد میں تقریب میں موجود تھے ۔ حاضر ین نے سراج الحق کی آمد پر پرجوش نعروں سے ان کا استقبال کیا ۔انہوں نے کہاکہ ملک میں اب کسی این آر او کی گنجائش نہیں ۔ مجرموں کو محفوظ راستہ دے کر دوبارہ اقتدار کے ایوانوں پر مسلط کرنا ملک و قوم سے بدترین دشمنی ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ مشرف کے این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں کو بھی احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ پانامہ لیکس کے 436 کرداروں کے احتساب کے لیے ہمارا کیس سپریم کورٹ میں ہے ہم نے عدالت عالیہ سے درخواست کی ہے کہ ناصرف آف شور کمپنیاں بنانے والوں بلکہ قومی بینکوں کو لوٹ کر دولت بیرونی بینکوں میں منتقل کرنے والوں کا بھی مکمل آڈٹ کیا جائے ۔افراد اور خاندانوں کے مفادات کے گرد گھومتی سیاست عوام کا استحصال کر رہی ہے ۔ انتخابی سسٹم ظالم جاگیرداروں ، وڈیروں اور سرمایہ داروں کے ہاتھوں کھلونا بن چکاہے ۔ جمہوریت کا راگ الاپنے والی نام نہاد سیاسی جماعتوں کے اپنے اندر جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ۔ باپ کے بعد بیٹا اور پھر پوتا سیاست پر قابض ہو جاتا ہے ۔ موروثی سیاست نے سیاسی کارکن کے لیے سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں چھوڑی ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...