حسن نواز کے بچوں کی تصاویر کھینچنے والے نوجوان کو لندن پولیس کی وارننگ

حسن نواز کے بچوں کی تصاویر کھینچنے والے نوجوان کو لندن پولیس کی وارننگ

  



لندن (آن لائن)میٹروپولیٹن پولیس نے ایک پاکستانی نوجوان کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز کے بچوں کی تصاویر کھینچنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے اور اسے جیل بھی جانا پڑسکتا ہے۔ میڈیارپورٹ کے مطابق یہ انتباہ حسن نواز کے 5 اور 10 سالہ بچوں کی تصاویر وائرل ہونے کے بعد دیا گیا ہے۔بچوں کی تصاویر 6 اگست 2017 کو آن لائن پوسٹ کی گئی تھیں، جس کے بعد حسن نواز کی جانب سے ملینرز وے لوٹن کے رہائشی شہباز ایوب قریشی کے خلاف شکایت درج کرائی گئی، جس پر پولیس کی کارروائی کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ شکایت کے مطابق شہباز ایوب قریشی نے حسن نواز کے بیٹوں کی تصاویر اْس وقت لی تھیں جب حسن نواز موریسن سپر مارکیٹ میں اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ شاپنگ کررہے تھے۔بعد میں یہ تصاویر سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ کردی گئیں، یہ تصاویر کم از کم 2 ٹیلی ویژن چینلز اور سوشل میڈیا کے درجنوں اکاؤنٹس پر بچوں کے والدین کی اجازت کے بغیر نشر کردی گئیں، جو کہ انگلینڈ اور ویلز میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے تحفظ کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ابتدا میں بات چیت دوستانہ تھی لیکن 10 سیکنڈ بعد ہی ایوب قریشی نے حسن نواز سے بدتمیزی شروع کردی اور ان کی تصاویر بنالیں اور ایسی جگہ غائب ہوگیا جہاں عملہ ہی جاسکتاتھا۔بعدازاں سوشل میڈیا پر بچوں کی فوٹیج دیکھنے کے بعد حسن نواز نے پولیس کواطلاع دی جس میں بچوں اور خود حسن نواز کے اپنے بارے میں بھی تشویش کااظہار کیا گیا۔دوسری جانب شہباز قریشی نے حکام کو تحریری یقین دہانی کرائی ہے جس میں تصدیق کی گئی ہے کہ حسن نواز کے بچوں کی فوٹیج ان کے والدین کی مرضی کے بغیر شائع کرنا غلط ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ انگلینڈ اور ویلز کے قانون کے خلاف بھی ہو میں اپنے اس عمل پر حسن نواز اور ان کی فیملی سے معذرت خواہ ہوں۔حسن نواز نے کہا کہ شہباز قریشی کی تحریری معافی کے بعد کوئی ذاتی رنجش نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سیکڑوں بار میری ویڈیو بنائی گئی اور مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن بچوں کو عوام کی نظروں اور سیاست کی لڑائی سے دور رہنا چاہیے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...