سخاکوٹ :پولیس ایکٹ نفاذ کیخلاف مشترکہ جدوجہد کا اعلان

سخاکوٹ :پولیس ایکٹ نفاذ کیخلاف مشترکہ جدوجہد کا اعلان

  



سخاکوٹ ( نمائندہ پاکستان) ملاکنڈ کے تمام سیاسی پارٹیوں اور تاجر تنظیموں نے ملاکنڈ میں پولیس ایکٹ کے نفاذ کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا اعلان کردیا اور حکومتی فیصلے کے خلاف احتجاج کو جاری رکھنے کے لئے ایکشن کمیٹی تشکیل دیدی گئی جس میں تاجربرداری سمیت تمام سیاسی پارٹیاں شامل ہیں متحدہ ٹریڈ یونین کے زیر اہتمام مشترکہ پریس کانفرنس میں پی پی پی کے ممبر صوبائی اسمبلی سید محمد علی شاہ اور تحصیل ناظم عبدالرشید بھٹو ،تاجر تنظیم کے ڈویژنل صدر حاجی شاکر اللہ،پختون خواہ ملی عوامی پارٹی اور متحدہ ٹریڈ یونین کے صدر حمید خان ،جمعیت علماء اسلام کے سابق سینیٹر صاحبزادہ خالد جان،اے این پی کے ضلعی صدر شفیع اللہ خان،جماعت اسلامی کے ضلعی امیر مولانا جمال الدین،مسلم لیگ کے راہنماء ارشاد باچہ،قومی وطن پارٹی کے تحصیل صدر جمیل شاہ،ضلع کونسل کے نمائندہ فرید ا للہ ،ویلج کونسل بازار کے ناظم ساجد حسین مشوانی ایکشن کمیٹی کے ممبران منتخب کئے گئے بعدازاں ایکشن کمیٹی کے ممبران نے مشترکہ طور ملاکنڈ میں پولیس ایکٹ کے نفاذ اور کسی بھی قسم کے ٹیکس لاگو کرنے کی شدید الفاظ میں مخالفت کی اور حکومتی اقدامات روکھنے کے لئے بھرپور مزاحمت کا اعادہ کیا پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران انہوں نے ملاکنڈ لیویز کو مراعات دینے اورمزید بھرتیوں کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ملاکنڈ کے عوام لیویز فورس کے کارکردگی سے مطمئین ہیں اوران کے بہتر کارکردگی اور علاقائی ہونے کے باعث شورش کے زمانہ میں ملاکنڈ صوبے کے تمام دیگر اضلاع سے زیادہ پر امن رہا انہوں نے کہا کہ ضلع کونسل اور تحصیل کونسل سے لیویز فورس برقرار رکھنے کے لئے قراردادوں کی منظوری اور منتخب ایم پی اے سمیت تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کی خواہش کے بعد حکومت کے پاس پولیس نظام لانے کا کوئی جواز نہیں اور اگر زبردستی کی کوشش کی گئی تو سروں پر کفن باندھ کر میدان میں ائیں گے کیونکہ یہ ہمارے ائندہ نسل اور پر امن مستقبل کی بات ہے شرکاء نے کہا کہ گزشتہ روز کا کامیاب شٹر ڈاؤن حکومت کے لئے ریفرنڈم ہے اور کوئی بھی فورس عوام کے حمایت کے بغیر امن نہیں لا سکتی پریس کانفرنس میں پی ٹی ائی سے تعلق رکھنے والے ممبر قومی اسمبلی جنید اکبر اور سینیٹر نثار محمد خان کی عدم شرکت اور قومی مسئلہ پر معنی خیز خاموشی پر افسوس کا اظہار بھی کیا گیا اس موقع پر ایم پی اے سید محمد علی شاہ نے کہا کہ عوام کے مقابلے میں کرسی میرے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی جو کچھ عوام چاہیں گے مجھے دس قدم اگے پائیں گے لیکن عوام کے مفاد پر خاموشی اختیار نہیں کروں گااخر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس طرح پاٹا انضمام کے مسئلے پر عوامی خواہشات جاننے کے لئے کمیٹی بنائی گئی ہے اسی طرح ملاکنڈ میں کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے عوام کو اعتماد میں لے لینا چاہئیے ہم عوام کے مفاد کے خلاف اوپر سے کوئی بھی فیصلہ تسلیم نہیں کریں گے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...