دینی قوتوں کا اتحاد وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے،قاضی منظور الحسن

دینی قوتوں کا اتحاد وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے،قاضی منظور الحسن

  



مظفرآباد(بیورورپورٹ)یہ وقت مذہبی تحریک کا نہیں ،دینی قوتوں کا اتحاد وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے دینی قوتیں متحد ہوکر ہی پاکستان کے نظریاتی،ملی مسائل حل کرسکتی ہیں ،تمام دینی جماعتیں اورخانقاہیں متحد ہوکر الیکشن کے میدان میں اتریں اورسیاسی جماعتوں کی کاسہ لیسی کی بجائے مضبوط پارلیمانی قوت کی بناء پر اپنی حکومت بنائیں جو خودبھی اسلام پر عمل پیرا ہواور حکومت کے ذریعے ملک میں اسلامی نظام کی تنفیذبھی کرسکیں ،اس بات کا اظہار مولانا قاضی منظور الحسن سیکریٹری جنرل سواداعظم اہلسنت والجماعت آزادکشمیر نے ایک بیان میں کیا انہوں نے کہا ہے کہ 2018انتخابات کا سال ہے اور چھ ماہ بعد موجودہ حکومت ختم ہوجائے گی اور نگران سیٹ اپ قائم ہوجائے گالہذامذہبی قوتوں کو تحریک کے بجائے اتحاد واتفاق سے الیکشن میں ایسے افراد کو لانا چاہیے جو ملک سے اقرباء پروری رشوت ستانی اور ظلم کے استعماری نظام کو ختم کرکے خلافت راشدہ کا عادلانہ نظام قائم کرسکیں ،70سال سے دینی قوتیں اپنی توانا یاں نعرہ بازوں کو اقتدار میں لانے کے لیے صرف کرتی رہی ہیں اور اس وقت بھی پاکستان میں عمران خان اور نوازشریف ان ہتھکنڈوں کو آزماکر دینی قوتوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کررہے ہیں دینی جماعتوں اور خانقاوں کو ہوش مندی سے کام لیکر ان کی کوششوں کو ناکام کرنا چاہیے،انہوں نے مولانافضل الرحمن کی پیر آف تونسہ شریف سے ملاقات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ جب دینی قوتیں 1973 میں اکٹھی ہوئیں تو متفقہ اسلامی آئین بن گیا اور 1974میں متحد ہوئیں تو مسئلہ ختم نبوت حل ہوا اور قادیانی آئینی طورغیر مسلم قراردیے گئے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی قوتیں اکٹھی ہوں تاکہ ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ ہوسکے اور آئے روز امریکا اسرائیل اور بھارت کی مداخلت ، ملک میں خلفشار پھیلانے اور مسلمانوں پر ظلم کرنے سے باز جائیں،مولانا قاضی منظور الحسن نے کہا ہے کہ جب ملک میں اسلامی قوتوں کا اتحاد ہوتا ہے تو ملک کے دیرینہ مسائل حل ہوتے ہیں۔اور جب دنیا ئے اسلام اتحاد واتفاق ہوتاہے تو اسلام کی سربلندی ہوتی ہے ،انہوں نے کہا ہے کہ جب تک ملک کا عدالتی ومعاشی نظام اسلامی قانوں کے مطابق نافذ نہیں ہوتا تب تک دینی جماعتوں کا مشن ادھورا اور نامکمل ہے اور انکی ذمہ داری بھی پوری متصور نہیں کی جاسکتی،انہوں نے کہا ہے کہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قراردینا اور دنیا ئے اسلام میں خانہ جنگی قتل وخون خرابی،یہ سارے مسائل مسلمانوں کے باہمی اختلاف کی وجہ سے ہیں لہٰذادینی توتوں کوملک میں اتحاد واتفاق اورمل جل کرایک دوسرے کا حلیف بنکر اسلامی کی سربلندی کیلئے جدوجہد کرنی چاہیے انہوں نے کہا ہے کہ ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت پاکستان کی بہادر افواج کرتی ہے اور اس کے لیے آئے روز جوان اورآفیسر اپنی جان ملک کی سرحدوں کی حفاظت کیلئے قربان کررہے ہیں،اسی طرح دینی قوتیں اتحاد واتفاق کو یقینی بنائیں تاکہ نظریہ پاکستان جودراصل نظریہ اسلام ہی ہے کی مل جل کر حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے ۔ انہوں نے کہا ہے اسرائیل ،امریکا ،بھارت کی یہ کوشش ہے کہ مسلمانوں سے ان کی اسلامی تہذیب اسلامی اقدار اور بھائی چارے کو ختم کرے ،لہٰذا دینی قوتوں کو اس کا احساس کرکے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد ہوجانا چاہیے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...