بھارت کے فوجی یا سیاسی دباؤ کو ہرگز قبول نہیں کیا جائیگا،مختاراحمد

بھارت کے فوجی یا سیاسی دباؤ کو ہرگز قبول نہیں کیا جائیگا،مختاراحمد

  



مظفرآباد(بیورورپورٹ)کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما اور پیپلز لیگ چیئرمین مختار احمد وازہ نے کہا ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے کیلئے پر امن جد وجہد مقصد کے حصول تک جاری رکھیں گے اور اس حوالے سے بھارت کے فوجی یا سیاسی دباؤ کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ مختار احمد وازہ نے ککرناگ اسلام آباد میں عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے اب تک چھ لاکھ سے زائدکشمیریوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں اور حریت کانفرنس اس تنازعہ کے ایک باعزت حل کی تلاش کے ضمن میں ان بیش بہا قربانیوں کو ہر قیمت پر پیش نظر رکھیں گے۔ انھوں نے کہا کہ حریت کانفرنس تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں یقین رکھتی ہے، لیکن اس حوالے سے تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے جبکہ کشمیر کی صورتحال اس وقت انتہائی تشویشناک ہے جہاں سات لاکھ سے زائد بھارتی فوجی موجود ہیں جنہوں نے طاقت کے بل پر کشمیریوں کو تمام حقوق سے محروم کر رکھا ہے اور سیاسی کارکنوں، کم عمر لڑکوں اورمعمر افراد کو کالے قوانین کے تحت جیلوں اور عقوبت خانوں میں پہنچا دیا جاتا ہے جبکہ مزاحمتی رہنماؤں کی تمام سیاسی اور معاشرتی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے۔ انہوں نے حریت رہنماء کی گھر میں نظربندی، سیاسی سرگرمیوں پر قدغن عائد کرنے اور طول و عرض میں شبانہ چھاپوں، محاصروں،تلاشی کارروائیوں اور لوگوں کو ہراساں کرنے کی مذمت کی ہے انہوں نے کہا کہ 1947ء سے بھارتی فورسز نے جموں وکشمیر میں جتنے بھی قتل کئے اس کے ذمہ دار بھارت نواز سیاستدان اور کٹھ پتلی حکمران ہیں کیونکہ یہی لوگ اس قتل عام کو قانونی جواز اور ملوث اہلکاروں کو قانونی تحفظ فراہم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ظلم جب حد سے گزرجاتا ہے تو اس کا خاتمہ لازمی ہوجاتا ہے اور اسی قانون قدرت کے تحت کشمیر میں بھی بہت جلد بھارتی مظالم کا خاتمہ ہوجائے گا

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر