ایچ ای سی نے 412 پی ایچ ڈی سکالرز کو تحقیق کیلئے باہر بھجوایا

ایچ ای سی نے 412 پی ایچ ڈی سکالرز کو تحقیق کیلئے باہر بھجوایا

  



لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)اعلی تعلیمی کمیشن ( ایچ ای سی)نے 7 201کے اختتام پر اعلٰی تعلیمی شعبے کی مجموعی ترقی پر مبنی کاوشوں میں تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے اعلٰی تعلیم ، تحقیقی کلچر اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے حوالے سے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور اپنی توجہ ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ ، مقامی و غیر ملکی تعلیمی تعاون اور اعلٰی تعلیم تک یکساں رسائی سے متعلق پیش رفت پر مرکوز رکھی۔ایچ ای سی کی سالانہ کارکردگی کے مطابق ایچ ای سی بیرون ملک میں اعلی تعلیم کے لیے 395 جبکہ اندرون ملک کے لیے 1068وظائف فراہم کیے۔ انٹرنیشنل ریسرچ سپورٹ پروگرام کے تحت 412 پی ایچ ڈی سکالرز کو تحقیق کے لیے باہر بھجوایا گیا۔ ہائیر ایجوکیشن اینڈ سائنٹیفک ایکسچینج پروگرام کے تحت157پاکستانی طلباء کو ہنگری حصولِ تعلیم کے لئے بھیجا گیا۔علاوہ ازیں پاکستانی طلباء کو ترکی کی جامعات میں اعلٰی تعلیم کے لئے بھیجنے سے متعلق ترکی کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے۔ بلوچستان اور قبائلی علاقوں کے طلباء کے لئے اعلٰی تعلیمی مواقع پر محیط پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا ۔ اس کے علاوہ اسی سال ایچ ای سی اور چائنہ روڈ اینڈ برج کارپوریشن نے ٹرانسپورٹیشن انجینئرنگ میں پاکستانی طلباء کو ماسٹرز کے30وظائف کی فراہمی پر اتفاق کیا۔ایچ ای سی کی طرف سے ملک میں معیارتعلیم کی بہتری کے لئے متعدد اقدامات سامنے آئے اور ایچ ای سی نے جامعات کو ہدایت کی کہ لیکچررز کی تعیناتی کے لئے کم از کم معیار یعنی اٹھارہ سالہ تعلیم کے طریقہ کار کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔ ملک میں جامعات کی تعداد 2002میں 59کے مقابلے میں 188تک جا پہنچی ہے ، جبکہ تحقیقی مجلات کی اشاعت اور پی ایچ ڈیز کی تعداد میں کئی گُنا اضافہ ہوا ہے جو اب بالترتیب 12000اور 11960ہوگئی ہے۔ ایچ ای سی ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ پر 41فیصد، تعلیم تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے پر 33فیصد ، اور آئی سی ٹی کی ترقی پر 23فیصد فنڈز خرچ کرتا ہے اور باقی چار فیصد فنڈز دیگر لوازمات پر خرچ کئے جاتے ہیں۔ ایچ ای سی نے جامعات کے 505تعلیم بلاکس کے قیام کے لئے فنڈ مختص کیے ہیں اور ان میں سے 357بلاکس مکمل ہوچکے ہیں جبکہ 148بلاکس زیرتعمیر ہیں۔ ایچ ای سی 2019تک ملک کے ہر ضلع میں کم ازکم ایک اعلٰی تعلیمی ادارے کے قیام کے لئے برسرپیکار ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...