وزیر اعلیٰ پنجاب،وزیر قانون سانحہ ماڈل ٹاؤن پر صفاء دینے پر آمادہ،صوبائی حکومت معاملہ پر معافی مانگنے سے انکاری

وزیر اعلیٰ پنجاب،وزیر قانون سانحہ ماڈل ٹاؤن پر صفاء دینے پر آمادہ،صوبائی ...

  



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف اور وزیر قانون رانا ثنااللہ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر صفائی دینے کیلئے آمادگی ظاہر کردی۔ذرائع کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاؤن پر وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف اور وزیر قانون رانا ثنااللہ صفائی دینے کیلئے تیار ہیں لیکن پنجاب حکومت اس بارے میں معافی مانگنے کو تیار نہیں۔ذرائع نے بتایا شہبازشریف اور رانا ثنااللہ قسم اٹھانے یا حلفاً کہنے کو بھی تیار ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کسی منصوبہ بندی کے تحت نہیں کیا گیا،سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد سے اب تک عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈاپور ا و ر رانا ثنااللہ کے درمیان چار ملاقاتیں ہوچکی ہیں، خرم نواز نے راناثناء اللہ سے 2 ملاقاتیں ایک دوست گل شیر کے گھر پر کیں، 180 ایچ ما ڈ ل ٹاؤن میں بھی دونوں کی ملاقات ہوئی جس میں ایک اہم شخصیت بھی شامل تھی۔دوسری جانب ہفتہ کو رانا ثناء اللہ نے طاہر القادری کی آل پارٹیز کانفرنس پر اپنا ردعمل د یتے ہوئے کہا سانحہ ماڈل ٹاؤن کو پروپیگنڈااورسیاست کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ،کوئی ملک ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا ، سعودی عرب میں نوازشریف ریجنل معاملات پر بات چیت کریں گے، جبکہ دورہ سعودی عرب اور مسلم امہ کو درپیش مسائل پر مشتمل ہے۔ یہ لوگ سیاست کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں، واقعہ پر مقدمہ دہشتگردی کی عدالت میں پیش ہوا، وہاں پر پاکستان عوامی تحریک اپنے مقد مے کیلئے موجود ہے، جن لوگوں پر الزام ہے وہ اپنے کیس کا سامنا کرنے کیلئے موجود ہیں،22 تاریخ کو مقدمے پر عدالتی کاروائی ہو ئی ، قا نو نی طریقے سے مقدمہ چل رہا ہے، یہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر اپنی سیاست قائم کر کے پی ایم ایل این کو نقصا ن پہنچانا چاہتے ہیں، ان کی اس سیاست کو پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔آل پارٹیز کانفرنس کے شرکاء نوازشریف کا مقابلہ نہ کرسکنے کے خوف سے مل بیٹھے ہیں اور سانحہ کو اپنی سیاست کیلئے استعمال کررہے ہیں، کوئی بھی ملک ہو وہ ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا ، سعودی عرب میں تو میاں نوازشریف ریجنل معاملات پر بات چیت کریں گے، دورہ سعودی عرب مسلم امہ کو درپیش مسائل پر مشتمل ہے۔ اس حوالے سے جیونیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا ‘میں قسم اٹھانے کو تیار ہیں ماڈل ٹاؤن کا واقعہ کسی منصوبہ بندی کے تحت نہیں ہوا، اس واقعے پر جب جے آئی ٹی بنی اس میں وزیراعلیٰ اور میں پیش ہوئے ،اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔رانا ثنااللہ کے مطابق ’میں نے جے آئی ٹی میں پوری طرح واضح کیا کہ یہ واقعہ کوئی منصوبہ بندی نہیں، اس واقعے میں طاہرالقادری کے کارکنان کا بھی اتنا ہی ہاتھ ہے، طاہرالقادری نے اپیلیں کرکے لوگوں کو ورغلایا اور پولیس سے تصادم کرایا اسلئے اس واقعے میں اس چیز کا بھی عمل دخل ہے۔وزیر قانون پنجاب نے کہا یہ کوئی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھا، صرف اس موقع پر پیدا ہونیوالی صورتحال کے پیش نظر ایک حادثہ تھا۔ہم نے ہمیشہ انہیں انگیج کرنے کی کوشش کی اور معاملے کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے کا کہا، ان سے کہا تفتیش میں شامل ہوں لیکن یہ لوگ تفتیش میں شامل نہیں ہوئے اور اب عدالت میں پیش ہورہے ہیں۔ عوامی تحریک کے ارد گرد شکاری بیٹھے ہیں وہ چاہتے ہیں اس معاملے کو اٹھایا جائے تاکہ ان کو الیکشن میں فائدہ پہنچے۔وزیر قا نو ن پنجاب نے خرم نواز گنڈا پور سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا 2015 اور 16ء میں خرم سے ملاقاتیں ہوئی اور ہر ملاقات میں مہینے ڈیڑھ مہینے کا فرق ہے۔ طاہر القادری کی آل پارٹیز کانفرنس میں شامل جماعتیں نواز شریف سے خو فز د ہ ہیں۔جن کا مقصد سانحہ ماڈل ٹاؤن کو بنیاد بنا کر ن لیگ کی سیاست کو ختم کرنا ہے، جبکہ اے پی سی میں بیٹھے لوگوں کے خود آپس میں اختلا فا ت ہیں۔سربراہ عوامی تحریک لاشوں پر سیاست کر رہے ہیں ۔یاد رہے 17 جون 2014 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کیلئے آپریشن کیا گیا تھا۔اس موقع پر پی اے ٹی کے کارکنوں کی مزاحمت اور پولیس آپریشن کے نتیجے میں 14 افراد جان بحق اور 90 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔پنجاب حکومت نے سا نحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کیلئے 5 رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جس کی رپورٹ میں وزیراعلیٰ شہباز شریف اور وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ خان کو بیگناہ قرار دیا گیا تھا۔جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا کہ چھان بین کے دوران یہ ثابت نہیں ہوا کہ وزیر اعلیٰ اور صو بائی وزیر قانون فائرنگ کا حکم دینے والوں میں شامل ہیں۔دوسری جانب اس واقعے کی جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں عدالتی تحقیقات بھی کرائی گئیں، جسے منظرعام پر نہیں لایا گیا تھا،جس کے بعد عوامی تحریک کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا، جس نے پنجاب حکومت کو مذکورہ انکوائری رپورٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔

رانا ثناء اللہ

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں)سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کا کہنا ہے یہ کیسی نا اہلی ہے کہ ملک کی ساری سیاست نواز شریف کے گرد گھوم رہی ہے۔ نواز شریف کے مخالفین کبھی امپائر کی انگلی، کبھی نیب تو کبھی دھرنوں کے پیچھے چھپتے ہیں لیکن ان کی حیثیت ٹشو پیپر سے زیادہ نہیں۔ نوازشریف کے والد جدی پشتی کاروباری شخص تھے، کیا وہ فلیٹ نہیں خرید سکتے تھے، سب جانتے ہیں اقامہ صرف ویزا لینے کیلئے ہوتا ہے، کیا کبھی کسی باپ نے اپنے بیٹے سے تنخواہ لی، لیکن ایک اقامے کے باعث وزیراعظم کو نااہل کردیا جاتا ہے۔ یہ کیسی نا اہلی ہے کہ ایک دوسرے کا چہرہ نہ دیکھنے والے مخالفین کو بھی اکٹھا بیٹھنا پڑ رہا ہے، سابق وزیراعظم کے خوف سے اتحاد بن اور ٹوٹ رہے ہیں، رائیونڈ میں بیٹھے نوازشریف نے مخا لفین کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں گزشتہ روزلاہور میں تقریب سے خطاب میں انکا مزیدکہنا تھا جمہوری لیڈر نہ صرف عوام کے حقو ق کا تحفظ کرتے ہیں بلکہ ان کے حقوق بھی واپس دلواتے ہیں ، عمران خان چار سال سے رو رہا ہے اور جیسے جیسے (ن) لیگ اور نواز شریف آگے بڑھیں گے ان کا رونا تیز ہوتا جائیگا۔ نوازشریف کیخلاف بار بار کیس چلتا ہے لیکن اس نااہلی سے نوازشریف مزید مضبوط ہوا ہے۔ نیب کے مقدمے میں گواہوں کی بات سن کے مجھے ہنسی آتی ہے کیونکہ گواہوں سے سوال کیے جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں ہمیں نہیں پتہ کاغذات میں کیا لکھا ہے۔ گواہوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کس چیز کی گواہی دینے آئے ہیں اور گواہ کہتے ہیں انھیں یہ کاغذ پکڑائے گئے ہیں۔ ہمارے کیس میں بادی النظر کی بات کی جاتی ہے جبکہ نیازی کمپنی نے لند ن میں فلیٹ خریدا بھی اور فروخت بھی کیا، عمران خان بار بار سپریم کورٹ میں موقف بدلتا رہا لیکن اس سے کہا جاتا ہے نہیں نہیں یہ اثاثے تمہا رے نہیں کیونکہ سپریم کورٹ عمر ا ن خان سے بہتر جانتی ہے۔نواز شریف کی تین نسلوں کی چیزیں کھنگال لیں لیکن عدالتی کمیشن نے عمران خا ن سے سوال پوچھے تو انہوں نے کہا کہ سر پر چوٹ لگی تھی اسلئے میں بھول گیا،جبکہ عمران خان کا ہیلی کاپٹر تو کے پی حکومت کے خرچے پرچلتا ہے ۔ نواز شریف نے لوڈ شیڈ نگ ختم کرنے سمیت جو وعدے کیے تمام پورے کیے۔ مخالفین کی بے چینی دیکھیں انہیں بات کرنے کو کوئی ایشو نہیں ملتا، نوازشریف ہی 2018 کا الیکشن جیتے گا اورانکی ہی قیا د ت میں پاکستان کی ترقی کا سفر 2018 میں ایک بار پھر شروع ہوگا۔ تقریب میں مریم نواز نے حلقہ این اے 120 کے علاقہ دیو سماج روڈ کے پارٹی ورکروں کو ان کی پراپرٹی لیز بحال ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ایک آمر نے آپ سے آپ کی جائیدادوں کے مالکانہ حقوق چھین لئے تھے جبکہ نواز شریف نے ذاتی دلچسپی لے کر یہ حقوق آپ کو واپس دلائے، اسوقت پو ر ے ملک کی سیاست نواز شریف کے گرد گھوم رہی ہے جبکہ نواز شریف کو سیاسی میدان میں گرانے کیلئے اتحاد بن رہے ہیں اور ٹوٹ رہے ہیں، نواز شریف کی نااہلی نے انہیں مزید مضبوط بنایا جس کے خوف سے سازشیوں کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں، عمران خان کا نام نہ لو وہ تو روتا رہی رہے گا، جے آئی ٹی کا سب کو معلوم ہے کہ یہ کس نے بنوائی، جو ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے کو تیار نہیں ہوتے تھے آج وہ سب اکٹھے ہیں، کیا جس کی بات گھر والے نہیں مانتے وہ صادق اور امین ہو سکتا ہے، ان کو ناانصافی کا جواب دینا پڑے گا، اس موقع پر انہوں نے کارکنوں سے تحریک عدل میں ساتھ دینے کا عہد بھی لیا۔دریں اثناء میڈیا سے گفتگو میں مریم نواز کا کہنا تھا نواز شریف اور شہباز شریف کا سعودی عرب جانے کا مقصد عمرہ ادائیگی اور ملاقاتیں کرنا ہے ،جو کہہ رہے ہیں این آر او ہو رہا ہے ان سے پوچھنا چاہیے کون این آر او دے رہا ہے ۔ دنیا کی طاقتیں مسلم لیگ (ن) کو جیتتا ہوا دیکھتی ہیں اسی لیے ملتی ہیں ۔ نواز شریف کیخلاف پہلے بھی سازشیں ناکام ہوئیں اب بھی ہوں گی اوران کیخلاف بننے والا اتحاد ناکام اور نا مراد ہوگا ۔اگلا وزیر اعظم اور وزریر اعلیٰ پنجاب مسلم لیگ (ن) سے ہی ہونگے ۔

مریم نواز

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...