ملتان میں سوائن فلو بے قابو،ایک اور مریضہ چل بسی،مرض پھیلنے کا خدشہ

ملتان میں سوائن فلو بے قابو،ایک اور مریضہ چل بسی،مرض پھیلنے کا خدشہ

  



ملتان(وقائع نگار)ملتان میں سوائن فلو کی وباء شدت اختیار کر گئی نشترہسپتال میں زیر علاج ایک اورمریضہ چل بسی محکمہ صحت کی جانب سے ویکسنیشن نہ ہونے سے مرض پھیلنے کے خدشات پیدا ہوئے تفصیل کے مطابق نشترہسپتال میں سوائن فلو سے متاثرہ ایک اورمریضہ دم توڑگئی ہے ۔50سالہ غلام فاطمہ کا تعلق بھی ملتان سے تھا۔جسکی سوائن فلو (سیزنل انفلوائنزا)ایچ ون این ون کی ٹیسٹ رپورٹ پازیٹو آئی تھی۔ذرائع کے نشترہسپتال میں اب تک مجموعی طور پر 80سے زائد مریض علاج کی غرض سے لائے گئے ہیں۔جن میں سے 21میں سوائن فلو کی تصدیق ہوئی۔10کی ٹیسٹ رپورٹ نیگٹوآئی اور 4مریضوں کی ٹیسٹ رپورٹ کا انتظار ہے ۔اورمجموعی طور پر مرنے والوں کی تعداد 8ہوگئی ہے ۔مزید برآں نشترہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں سوائن فلو(سیزنل انفلوائنزا)کی بیماری بارے شعوروآگاہی واحتیاطی تدابیر جاننے اور مریض کو متعلقہ وارڈ تک پہنچانے کیلئے کاؤنٹر بھی بنادیا گیا ہے ۔جس پر 24گھنٹے سہولت میسر ہوگی۔دوسری جانب ملتان میں سوائن فلو کی وباء شدت اختیار کر گئی ہے اور بے قابو ہے۔محکمہ صحت کی طرف سے اس مرض سے متاثرہ مریضوں کے لواحقین اور رشتہ داروں کی ویکسینیشن بھی نہیں کی گئی ہے۔جس سے مرض کے مزید پھیلنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ہسپتالوں میں آیسولیش وارڈز بھی صرف دکھاوے کے بنائے گئے ہیں۔ان آئسولیشن وارڈز میں صرف سوائن فلو کے مریض نہیں رکھے جا رہے بلکہ ڈینگی، کانگو، برڈ فلو و دیگر وائرل امراض کے مریضوں کے ساتھ ہی سوائن فلو کے مریض بھی رکھے جا رہے ہیں۔نشر ہسپتال ملتان میں آء سی یو وارڈ میں انتہائی سنجیدہ نوعیت کے مریضوں کے لئے صرف ایک وینٹیلیٹر بیڈ رکھا گیا ہے جو ہسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔سوائن فلو کے مریضوں کے تشخیصی ٹسٹوں کی سہولت ملتان میں نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کے خون کے نمونے لاہور واسلام آباد بھیجے جاتے ہیں مگر ٹسٹ رپورٹ میں غیر ضروری تاخیر کی وجہ سے مریض موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ بیماری انسان سے انسان میں پھیلتی ہے۔بچاو کے لئے ہاتھ باقاعدگی سے دھوئیں۔ماسک کا استعمال اور صفائی کا خصوصی خیال رکھیں ۔

سوائن فلو بے قابو

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...