منشیات کے ملزم کی حوالات میں پراسرار ہلاکت، ورثاء کا احتجاجی مظاہرہ

منشیات کے ملزم کی حوالات میں پراسرار ہلاکت، ورثاء کا احتجاجی مظاہرہ

  



ملتان(کرائم رپورٹر)تھانہ شاہ شمس کی حراست میں منشیات کا ملزم حوالات میں پراسرار طور پر مردہ پایا گیا، ورثاء نے پولیس تشدد کاالزام لگاتے ہوئے لاش تھانہ اور روڈ پر رکھ کر احتجاج کیا،آر پی او نے واقع کی انکوائری کا حکم دیدیا ہے۔تفصیل کے مطابق تھانہ شاہ شمس پولیس نے فیض آبادبستی کے رہائشی 50 سالہ رمضان اور اسکے بھائی عبدالرحمان کو دو روز قبل منشیات کے الزام میں پکڑا تھا عبدالرحمان کو جیل(بقیہ نمبر44صفحہ12پر )

بھجوادیا جبکہ رمضان کو حراست کے د وران مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث جیل انتظامیہ نے اسے لینے سے انکار کردیا، اسے حوالات میں رکھاگیا رات کو ایک بار نشتر علاج کیلئے لے کر گئے تاہم وہاں سے بھی اچانک واپس لے گئے، متوفی کے بھائی سلمان کے مطابق وہ ملنے تھانہ گئے تو انہیں ملاقات نہیں کرنے دی، واپس گھر پہنچے تھے کہ تھانہ کے ایک ٹاؤٹ بیلا نامی نے فون کر کے بتایا کہ انکا بھائی مرگیا ہے،وہ تھانہ پہنچے اور وہاں احتجاج کیا تو انہیں بتایاگیاکہ پولیس لاش نشتر لے گئی ہے، ڈاکٹروں نے پوسٹمارٹم کیا جس میں جسم بازوں اور دیگر مقامات پر تشدد کے نشانات موجود ہیں۔ ،محمد رمضان کو دو روز قبل گھر سے منشیات مقدمہ کے حوالے سے گھر سے پولیس لے گئی تھی، لاش ملنے پر رات گئے تک ورثاء نے بہاولپور بائی پاس کے قریب لاش روڈ پر رکھ کر احتجاجی مظاہر ہ کیااس موقع پر رضان کی والدہ اللہ وسائی نے کہا کہ مجھے انصاف چاہیئے مجھے میرا بیٹا پولیس دے، غم سینڈھال اللہ وسائی نے بین کئے اہلخانہ کی پولیس کیخلاف نعرے بازی کرتے رہے ،آر پی او ملتان محمد ادریس احمد نے ڈی ایس پی کرائم رینج منصور عالم کو انکوائری کا حکم دے دیا،آر پی او کی جانب سے دو روز میں قیدی کی موت کے واقعہ کے حوالے سے رپورٹ دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...