” ان غیر ملکیوں پر ٹیکس نہیں لگایا جائے گا“ سعودی حکومت نے اعلان کردیا، جان کر ملک میں مقیم پاکستانیوں کی خوشی کی انتہا نہ رہے گی

” ان غیر ملکیوں پر ٹیکس نہیں لگایا جائے گا“ سعودی حکومت نے اعلان کردیا، جان ...
” ان غیر ملکیوں پر ٹیکس نہیں لگایا جائے گا“ سعودی حکومت نے اعلان کردیا، جان کر ملک میں مقیم پاکستانیوں کی خوشی کی انتہا نہ رہے گی

  



جدہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) سعودی عرب کی وزارت محنت نے اعلان کیا ہے کہ ایسے کاروبار یا غیر ملکی فرمز جن کے ملازمین کی تعداد پانچ سے کم ہوگی ان پر اضافی ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا، نئے حکم کا اطلاق نئے سال کی آمد پر یکم جنوری سے ہوگا۔

سعودی وزارت محنت نے ٹوئٹر پر موصول ہونے والے سوالوں کے جواب میں کہا کہ وہ فرمز جن کے پاس 9 یا اس سے زائد غیر ملکی ملازمین ہوں گے اسے پانچ لوگوں کو چھوڑ کر باقی لوگوں کا اضافی ٹیکس ادا کرنا ہوگا جبکہ فرم کے مالک کو ادارے کے مستقل ملازمین میں شمار کیا جائے گا۔

وزارت محنت کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ وہ ممالک جن کے محنت کشوں کو ملک بدری سے استثنیٰ حاصل ہے انہیں بھی اس ٹیکس میں چھوٹ ہوگی۔ ملک بدری سے استثنیٰ والوںمیں ایسے فلسطینی شہری جن کے پاس مصر کی سفری دستاویزات ہوں،برمی، ترکستانی اور بلوچ شامل ہیں۔

بالآخر شہزادہ ولید بن طلال نے سعودی حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، سب سے بڑی خبر آگئی

علاوہ ازیں ایسے غیر ملکی افراد جو سعودی عرب کو افرادی قوت فراہم کرنے والی فرمز کے ملازم ہیں انہیں بھی اضافی ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔گلف کو آپریشن کونسل (جی سی سی) میں شامل ممالک کے شہریوں، سعودی شہریوں کی بیگمات اور سعودی خواتین کے غیر سعودی بچے بھی ٹیکس چھوٹ سے استفادہ حاصل کرسکیں گے۔

وزارت محنت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایسی کمپنیاں جن کے ملازمین میں سے نصف سعودی شہری ہوں گے ان کو غیر ملکی ملازمین کے عوض ہر مہینے 300 ریال فیس ادا کرنا ہوگی جبکہ وہ کمپنیاں جن کے ملازمین میں سے اکثریت غیر ملکی شہریوں پر مشتمل ہوگی انہیں ہر مہینے فی ملازم 400 ریال ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ یہ فیس 2019 میں بڑھ کر بالترتیب 500 اور 600 ریال ہوجائے گی جبکہ 2020 میں یہ ٹیکس 700 اور 800 ریال ہوجائے گا۔

مزید : عرب دنیا


loading...