فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر315

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر315
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر315

  



کئی سال تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس کے بعد راشد صاحب کا تبادلہ لندن ہو گیا۔ اس سے پہلے وہ کچھ عرصے بنکاک میں بھی تعینات رہے مگر لندن، روزی کی پسندیدہ جگہ تھی۔ راشد صاحب کو لندن کے ہیڈ آفس میں ایک مستقل عہدہ پیش کیا گیا مگر راشد صاحب نے انکار کر دیا۔ وہ پاکستان میں رہنا چاہتے تھے جب کہ روزی ہر قیمت پر انگلستان میں رہنے کی خواہش مند تھیں۔ اس مسئلے پر میاں بیوی میں کافی بحث ہوئی اور یہیں سے اختلافات کا آغاز ہوا۔ روزی کی ضد تھی کہ انگلستان میں ہی رہنا بہتر ہو گا مگر راشد صاحب نے جو ان کی ہر بات مان لیتے تھے، مطالبہ منظور نہیں کیا۔

اس دوران میں ہماری بھی شادی ہو گئی۔ 1974ء میں ہم اپنی بیگم لبنیٰ کے ساتھ انگلستان گئے تو ان ددنوں راشد صاحب لندن ہی میں مقیم تھے۔ چند روز لندن میں رہ کر ہم برمنگھم چلے گئے۔ اس ددورے میں شباب کیرانوی اور رشید جاوید بھی ہمارے ساتھ تھے۔ اس لئے ہم لوگوں کا پروگرام مشترکہ رہتا تھا مگر راشد صاحب کا اصرار تھا کہ ہم ایک دو دن ان کے پاس بھی قیام کریں۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر314 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ان کے اصرار پر ہم دونوں ایک دفعہ برمنگھم سے ٹرین میں سوار ہوئے، لندن پہنچے اور ان کے فلیٹ پر حاضر ہو گئے۔ یہ فلیٹ ریجنٹس پارک کے سامنے نہایت خوبصورت علاقے میں تھا اور بہت آرام دہ تھا ۔ یہ صرف ایک بیڈ روم اور ڈرائنگ روم پر مشتمل تھا۔ ہمارے لئے ڈرائنگ روم میں سونے کا بندوبست کیا گیا اور وہ دن ہم سب نے انتہائی پُرلطف گپ شپ میں گزارے۔لبنیٰ سے یہ روزی کی پہلی ملاقات تھی مگر وہ دونوں جلد ہی گُھل مُل گئیں۔

اسی دوران میں ان کے لندن مستقل قیام کرنے یا نہ کرنے کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا۔ دونوں نے اپنا اپنا مؤقف پیش کیا ۔روزی کے خیال میں راشد صاحب کو یہ ایک نادر موقع مل رہا تھا۔ مگر راشد صاحب لندن میں مستقل قیام کے تصوّر ہی سے بیزار تھے۔ ہم ان دونوں کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے۔ لبنیٰ غیر جانبدار تھیں۔ آخر میں ہم نے بھی پاکستان ہی میں رہنے کے خیال کی تائید کر دی۔

روزی نے حیران ہو کر ہمیں دیکھا اور کہا ’’آفاقی۔ تم بھی!‘‘

ہم نے کہا ’’بھئی ہم تو ہر قیمت پر پاکستان ہی میں رہنے کے قائل ہیں۔ ہر پاکستانی کو پاکستان میں رہنا چاہئے۔ اپنا ملک اپنا ہی ہوتا ہے‘‘۔

روزی کو ہماری بات پسند نہیں آئی۔ ان کا خیال تھا کہ راشد صاحب کے کیریئر کیلئے یہ بہت اچھّا موقع تھا۔ ترّقی کے وسیع امکانات تھے۔ وہ لوگ مستقل طور پر لندن میں رہ سکتے تھے۔ مگر راشد صاحب پاکستان سے باہر کسی قیمت پر بھی نہیں رہنا چاہتے تھے۔ ان کے ذہن میں بے شمار منصوبے تھے جن میں سے کچھ پر انہوں نے بعد میں عمل درآمد بھی کیا۔

اس فلیٹ کی بالکونی سے ریجنٹس پارک کے پھولوں سے لدھے ہوئے سبزہ زاروں کا منظر قابل دید تھا۔ یہ فلیٹ لندن کے بہترین علاقے میں تھا۔ آس پاس ہر قسم کی سہولت موجود تھی۔محض ٹیلی فون کرنے سے ضرورت کی ہر چیز گھر بیٹھے مل جاتی تھی۔ یہ فلیٹ کرائے کا تھا مگر روزی کا خیال تھا کہ اسی علاقے میں تین بیڈ رومز کا ایک ا چھّا فلیٹ خرید کر رہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ ان دونوں کے خیالات میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ روزی کی سوچ انگریزوں جیسی تھی جب کہ راشد صاحب خالص دیسی مزاج کے مالک تھے۔

دو روز کے بعد ہم نے رخصت طلب کی اور برمنگھم چلے گئے۔ راشد صاحب ہی کے توّسط سے ہمیں یورو ٹرین کے ٹکٹ بھی مل گئے تھے بذریعہ ٹرین یورپ کی سیاحت کرنے کے بعد واپس لندن پہنچے تو معلوم ہوا کہ راشد صاحب نے برٹش کمپنی کی پیشکش مسترد کر دی ہے اور پاکستان واپس جانے کی تیّاریاں کر رہے ہیں۔

راشد صاحب دوبارہ کراچی پہنچ کر اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے مگر روزی لندن میں ہی مقیم رہیں۔ راشد صاحب نے شالیمار ریکارڈنگ کمپنی بنا ڈالی جس کے ہم بھی ایک ڈائریکٹر تھے۔ اس کا ہیڈ آفس اسلام آباد میں تھا۔ روزی چند بار لندن سے آئیں مگر پھر واپس لوٹ گئیں۔

کچھ عرصہ بعد راشد صاحب اور روزی میں طلاق ہو گئی۔راشد صاحب نے چند سال بعد اقبال شہزاد کی بھانجی سے شادی کر لی۔ یہ وہی خاتون تھیں جنہوں نے شہزاد صاحب کی فلم بیٹی میں کمسن بچی کا مرکزی کردار کیا تھا۔ یہ دونوں دو پیاری پیاری بچیوّں کے والدین بھی بن گئے۔ یہ لڑکیاں اب بڑی ہو چکی ہیں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کر چکی ہیں۔

راشد صاحب اپنی عادت کے مطابق مختلف کاموں اور منصوبوں میں مصروف رہتے ہیں اور گھر والوں کو آج بھی ان سے عدیم الفرصتی اور گھر کے لوگوں کو مناسب وقت نہ دینے کی شکایت ہے۔

راشد صاحب کو ہم نے کبھی دولت، شہرت یا اقتدار کے پیچھے بھاگتے تو کیا ان چیزوں کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی نہیں دیکھا لیکن اللہ نے یہ سب چیزیں انہیں بڑی فراوانی سے عنایت کی ہیں۔

1987ء کے بعد بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت بنی تو کچھ دن بعد اخبار میں پڑھا کہ راشد لطیف کو وفاقی سیکرٹری اطلاعات مقرر کر دیا گیا ہے۔ ہمیں یقین نہیں آیا۔ کہاں راشد صاحب اور کہاں سرکاری ملازمت ا ور محکمہ اطلاعات کی سیکرٹری شپ مگر تفصیل پڑھی تو معلوم ہوا کہ یہ سچ مچ اپنے ہی راشد صاحب ہیں۔

ہم نے انہیں کراچی فون کیا تو وہاں سے اسلام آباد کا فون نمبر دیا گیا۔ راشد صاحب نہ شالیمار کے دفتر میں تھے اور نہ ہی سیکرٹری اطلاعات کے دفتر میں۔ ہمیں معلوم ہوا کہ ان سے ملاقات یا رابطہ مشکل ہے۔ البتہ رات کو بارہ ایک بجے گھر پر فون کرو تو ہو سکتا ہے مل جائیں۔ انہوں نے شالیمار فیکٹری کے اندر ہی اپنے لئے رہائش گاہ تعمیر کر لی تھی اور سرکاری ملازم ہونے کے بعد بھی وہیں رہا کرتے تھے۔

رات کو ایک بجے وہ ا پنے گھر پر مل گئے۔ وہی سادہ الفاظ اور نرم گفتگو۔

ہم نے کہا’’سمجھ میں نہیں آتا کہ آ پ کو مبارکباد دیں یا آپ سے ہمدردی کا اظہار کر دیں‘‘۔

وہ ہنسنے لگے ۔ہم نے کہا ’’مگر اچانک یہ سب کیسے ہو گیا۔ کہاں آ پ کہاں سیاست اور صحافت؟‘‘

بولے’’ملیں گے تو بتاؤں گا‘‘۔

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

ہم اسلام آباد گئے تو تمام دن وہ کہیں بھی دستیاب نہ ہو سکے۔ شام کو سات بجے سیکرٹریٹ میں ان سے فون پر بات ہوئی۔

’’ارے آپ کب آئے؟ آج رات کھانا میرے ساتھ ہی کھائیں‘‘۔

پوچھا ’’کتنے بجے اور کہاں؟‘‘

’’میرے گیسٹ ہاؤس میں۔ میں گھر پہنچتے ہی آ پ کو فون کر لوں گا‘‘۔

رات کے گیارہ بجے پھر بارہ بج گئے مگر راشد صاحب کا فون نہیں آیا۔ ساڑھے بارہ بجے ہم نے فون کیا تو مل گئے۔ اسی وقت گھر میں داخل ہوئے تھے۔

’’آ جائیے کھانے کا وقت ہو گیا ہے‘‘۔

ہم اپنے بھائی عمران کے گھر ٹھہرے ہوئے تھے۔ جہاں سے شالیمار فیکٹری کا تین منٹ کا راستہ ہے۔

دیکھا تو راشد صاحب سوٹ پہنے، بالکل ترو تازہ بیٹھے ہیں۔ لگتا تھا جیسے ابھی باہر جانے کیلئے تیار ہوئے ہیں۔ اس خدا کے بندے کو ہم نے کبھی تھکا ہوا یا مایوس نہیں دیکھا۔

’’بھئی یہ آپ کو کیا سوجھی! یہ آ پ کے بس کی بات نہیں ہے۔ سرکاری محکمے کو آپ کیسے سدھار لیں گے۔یہ تو جنم جنم کے بگڑے ہوئے لوگ ہیں‘‘۔

وہ نرمی سے مسکرائے’’کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔ دنیا میں کوئی کام ناممکن نہیں ہے‘‘۔

مگر چند ماہ شب و روز سخت، ان تھک محنت کے بعد انہیں یہ اندازہ ہوا کہ وہ جس مشین کا پُرزہ بن گئے ہیں اس کے تمام پرزے بگڑے ہوئے ہیں۔ اسی دوران میں وہ بیمار بھی ہو گئے۔ یہ ایک عجیب بات تھی۔ راشد صاحب اور بیماری؟ ہم نے تو یہی دیکھا تھا کہ ان کے پاس بیمار ہونے کی فرصت نہیں ہوتی۔ بیمار ہو کر وہ کراچی چلے گئے۔ وزیراعظم بے نظیر بھٹو فون کر کے ان کی مزاج پرسی کرتی رہیں۔ چند دن بعد وہ ٹھیک ہو کر اسلام آباد جا پہنچے اور پھر وہی شب و روز کی مصروفیات ۔مگر شاید رفتہ رفتہ ان کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ وہ اپنا وقت ہی ضائع کر رہے ہیں۔ آخر وفاقی سیکرٹری کا عہدہ چھوڑ کر دوبارہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئے۔

راشد صاحب کی شرافت اور وضع داری ضرب المثل ہے۔ یہی دیکھ لیجئے کہ انتہائی مصروفیات کے باوجود وہ اگر چند گھنٹے کیلئے بھی لاہور آئیں تو ہم سے ملاقات کرنے ضرور آتے ہیں۔ ورنہ ٹیلی فون ضرور کرتے ہیں۔ ہر ایک سے اس قدر محبّت اور انکساری سے ملتے ہیں کہ وہ شرمندہ ہو جاتا ہے۔ہم نے کبھی انہیں بلند آواز سے بات کرتے، بگڑتے یا غصّہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ نہ کبھی وہ تھکتے ہیں۔ نہ مایوس اور بیزار ہوتے ہیں عجیب و غریب آدمی ہیں۔ راشد صاحب امرت دھارا قسم کے آدمی ہیں۔ کوئی مسئلہ ہو ، مشکل ہو، مشورہ لینا ہو، راشد صاحب کے پاس ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔ کم از کم ہمارا تو یہی تجربہ ہے۔ (جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر316 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ


loading...