فحاشی پھیلانے والے ذرائع اور ہماری مذہبی فکر

فحاشی پھیلانے والے ذرائع اور ہماری مذہبی فکر
فحاشی پھیلانے والے ذرائع اور ہماری مذہبی فکر

  



مذہب اور مذہبی فکر دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ مذہب اللہ اور اس کے رسول ﷺکی مرضی کا نام ہے۔ یہ قرآن و سنت کی شکل میں دنیا میں موجود ہے۔ اس کے برعکس مذہبی فکر انسانوں کے فہم کا نام ہے۔ یہ انسانوں کے پس منظر، حالات، زمانے، ماحول اور ان جیسی متعدد چیزوں سے متاثر ہوتا ہے۔ یہی مذہبی فکر ہے جو مختلف مکاتب فکر، مسالک، فرقوں اور افکارکی شکل میں سامنے آتا ہے۔ یہ چونکہ انسانی کام ہے، اس لیے اس میں اختلاف ہوتا ہے، تضاد بھی سامنے آتا ہے، کمی بیشی ہوتی رہتی ہے اور باطل کے درآنے کا امکان بھی رہتا ہے۔

اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے ختم نبوت کے بعد چونکہ قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ خود لے رکھا ہے، اس لیے مذہبِ اسلام کی اصل تعلیم قیامت تک کے لیے محفوظ کردی گئی ہے۔ قرآن مجید نہ صرف اللہ اور اس کے رسولﷺ کے اصل پیغام کو بالکل واضح طور پر بیان کرتا ہے بلکہ دین کے مطالبات میں اصل اور فرع، بنیادی اور ثانوی، اصولی احکام اور سدذریعہ کے احکام جیسی چیزوں کا فرق بھی واضح کردیتا ہے۔

ہمیں یہ تفصیل بیان کرنے کی ضرورت ایک خاص وجہ سے پیش آئی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے بائیں بازو کی نمائندہ سمجھی جانے والی ایک مشہور ویب سائٹ خواتین کی نازیبا تصاویر شائع کرنے کی وجہ سے دینی حلقوں اور سنجیدہ لوگوں کی طرف سے بجا طور پراعتراض کی زد میں ہے۔ زنا اللہ تعالیٰ کی نظرمیں ایک بڑا جرم ہے۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے بدکاری ہی سے نہیں روکا بلکہ ان عوامل سے بھی روکا ہے جو زنا کے قریب لے جائیں۔

لیکن یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اصل جرم بدکاری ہے۔ زنا سے قریب لے جانے والی چیزوں سے رکنے کا حکم سدذریعہ کی نوعیت کا ہے۔ اس کو ایک تقابلی مثال سے یوں سمجھیں کہ کسی پر الزام و بہتان لگانا اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔ چنانچہ اس بڑے گناہ سے بچانے کے لیے سدذریعہ کے طور پر قرآن مجید نے لوگوں کو بہت زیادہ گمان کرنے سے بھی روکا ہے کہ یہی وہ چیز ہے جو آگے بڑھ کر الزام و بہتان کا سبب بنتی ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر سنی سنائی بات کو بلا تصدیق آگے بڑھانے سے منع کیا ہے۔ یہ سارے احکام سد ذریعہ کی نوعیت کے ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ لوگ دوسروں پر جھوٹے الزام و بہتان لگا کر معاشرے میں ان کی عزت کو داغدار نہ کریں۔

اب اس تناظر میں ذرا دیکھیے کہ کچھ نیم عریاں، نامناسب اور فحش تصاویر کی اشاعت پر ہمارا مذہبی فکر سراپا احتجاج بنا ہوا ہے۔ بلاشبہ ایسی تصاویر کی اشاعت غلط ہے، مگر یہ اصل حکم یعنی زنا کے مقابلے میں بہت چھوٹی چیز ہے۔ اس کے برعکس دین کے کسی عالم کے خلاف جھوٹ، الزام و بہتان کی مہم چلانا ہمارے مذہبی فکر میں ایک معمولی بات ہے۔ حالانکہ قرآن مجید کی روشنی میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ لوگ سد ذریعہ کے حکم کی تعمیل کرتے اور براگمان کرنے سے بھی پرہیز کرتے۔ مگر یہاں حال یہ ہے کہ سدذریعہ کو تو چھوڑیے، اصل حکم کی کھل کر خلاف ورزی ہوتی ہے۔ اہل مذہب کے ہر پبلک فورم پر اطمینان سے وہ مواد شائع کیا جاتا ہے جو جھوٹ، الزام ، بہتان سے عبارت ہوتا ہے، مگر کسی کی پیشانی پر پسینہ نہیں آتا۔ کسی کو خدا کا خوف نہیں آتا کہ روزِقیامت اللہ تعالیٰ نے اس بہتان تراشی کے لکھنے، شائع کرنے، تائید کرنے اور پھیلانے والوں سے پوچھ گچھ شروع کردی اور جوکہ ہونی ہی ہے تو وہ کیا جواب دیں گے۔

مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے مذہبی لوگوں کی تربیت قرآن مجید کی روشنی میں نہیں ہوئی بلکہ مروجہ مذہبی فکر نے ان کی تربیت کی ہے۔ اس فکر میں کسی پر بہتان لگانا، اس کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا، اسے بدنام کرنے کی مہم چلانا، اس کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا کرنا ، کسی سے بدگمانی کرنا، سنی سنائی بات کو بلا تصدیق آگے پھیلانا کوئی بری بات نہیں سمجھی جاتی۔

اسی طرح ہمارے مذہبی فکر میں اپنے احتساب سے زیادہ دوسروں کا احتساب کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ چنانچہ بیشتر لوگ جو مروجہ مذہبی فکر سے متاثر ہوتے ہیں، فوراً خدائی فوجدار بن کر دوسروں کے احتساب کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یہ نفسیات انسان کو خدا کے خوف سے خالی کردیتی ہے۔ ایسے لوگوں بدترین جرائم کا ارتکاب کرکے بھی سمجھتے ہیں کہ فرشتے جنت کا ٹکٹ ہاتھ میں لے کر ان کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خدا سے بے خوفی کا آخری نتیجہ جہنم کی آگ ہے۔

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

اس طرح کے لوگ اپنی اس روش کو جو خد اکے غضب کو بھڑکانے والی ہے، علمی تنقید کے نام کی سندِ جوازعطا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ علم کا معمولی شعور رکھنے والا شخص بھی یہ بات جانتا ہے کہ علمی تنقید میں کبھی کسی متعین شخص کو نشانہ بناکر اس کو بدنام کرنے کی مہم نہیں چلائی جاتی۔ کسی فرد کی نیت کے بارے میں فیصلہ نہیں سنایا جاتا۔ کسی کے موقف کو غلط بیان نہیں کیا جاتا۔ کسی کی بات غلط نقل نہیں کی جاتی۔ کسی کے منہ میں اپنی بات نہیں ڈالی جاتی۔ الزام، بہتان اور جھوٹ سے کام نہیں لیا جاتا۔ مسلمہ علمی معیارات کی خلاف ورزی نہیں کی جاتی۔

آج مذہب کے نام پر الزام وبہتان اور نفرت انگیز مہموں کا دور دورہ ہے۔مگرجولوگ اس طرح کی غلاظت کو مذہب کے نام پر پھیلاتے ہیں وہ درحقیقت خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ اس دنیا میں قرآن مجید یہ اعلان کررہا ہے اور کل روز قیامت خدا کے فرشتے یہ اعلان کردیں گے کہ ایسی ہر روش مردود ہے۔ ایسے روش اختیار کرنے والوں کو اپنے کیے کا انجام بھگتنا ہوگا۔ جس روز فحش تصاویر شائع کرکے لوگوں کے جذبات بھڑکانے والے خدا کی گرفت میں آئیں گے ، اس روز کہیں بڑھ کروہ لوگ خدا کی گرفت میں آئیں گے جو مذہب کو استعمال کرکے لوگوں کے جذبات بھڑکاتے رہے تھے۔ کاش خدا کے نام پر کھڑے لوگ یہ جان لیں کہ خدا کی پکڑ کس چیز کا نام ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...