گھسا پٹانظام بدلنے پر بار مجھ سے ناراض ہے ،وکلاءہڑتالوں سے 22لاکھ مقدمات متاثر ہوئے :چیف جسٹس سید منصور علی شاہ

گھسا پٹانظام بدلنے پر بار مجھ سے ناراض ہے ،وکلاءہڑتالوں سے 22لاکھ مقدمات ...
گھسا پٹانظام بدلنے پر بار مجھ سے ناراض ہے ،وکلاءہڑتالوں سے 22لاکھ مقدمات متاثر ہوئے :چیف جسٹس سید منصور علی شاہ

  



لاہور(نامہ نگار خصوصی/نامہ نگار)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ عدلیہ کودیگراداروں سے نمایاں بنانے کے لئے ججوں کو جرات کا مظاہرہ کرناہوگا۔جج اپنی سوچ کو تبدیل کریں، جج ہونا کوئی نوکری نہیں ،اللہ کا انعام ہے جو جج عام سائل کے درد کونہیں سمجھ سکتا وہ اس پروفیشن میں غلط آ گیا ہے، جج اور سائل کے درمیان کوئی بھی غیر ضروری چیز نہیں آنی چاہیے ،عدلیہ میں کرپشن کا عنصر بالکل بھی قابل برداشت نہیں ، عدالتوں میں بیٹھ کر کرپشن کرنے والا شخص دنیا کا بدقسمت ترین شخص ہے، ایسے شخص کی عدلیہ کوکوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی عدلیہ میں اس کی کوئی جگہ ہے ۔

پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے زیراہتمام ضلعی عدلیہ کے مستقبل کے عنوان سے ہونے والے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے مزید کہا کہ پنجاب کی آبادی کے تناسب سے ہمیں10ہزار ججوں کی ضرورت ہے جبکہ اس وقت تقریباً1775جج کام کررہے ہیں ۔2017ءمیں 21لاکھ مقدمات نمٹائے گئے ،پرانے اور گھسے ہوئے نظام کو تبدیل کرنے پر بار مجھ سے ناراض نظر آتی ہے، ہم کھلے دل سے وکلاءکو ساتھ بیٹھنے کی دعوت دیتے ہیں۔ گزشتہ 10ماہ میں صوبہ بھر میں 3 ہزار سے زائد ہڑتالیں ہوئیں جس سے 22 لاکھ کے قریب مقدمات نہیں سنے جاسکے اور اگر یہ ہڑتالیں نا ہوتی تو 2لاکھ 40 ہزار مزیدمقدمات نمٹائے جا سکتے تھے۔چیف جسٹس نے تقریب میں موجود ججوں کو مخاطب کرکے کہا کہ اعلیٰ اور ضلعی عدلیہ ایک پیج پر ہیں، صوبائی عدلیہ میں لائی جانے والی تمام اصلاحات ہماری اجتماعی کاوشیں ہیں، صرف منصور علی شاہ کچھ نہیں ہے یہ سب ایک ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ صرف ہائی کورٹ یا جسٹس صاحبان کا ادارہ نہیں ہے، یہ سول جج، سیشن جج، سپرنٹنڈنٹ، ریڈرز اور تمام عملے کا ادارہ ہے۔ ہمیں آج یہ محسوس کرنا چاہیئے کہ ہم ایک خاندان کی مانند ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آج دیکھنا ہے کہ ہم اپنے آپ کو مزید کیسے بہتر کر سکتے ہیں، بلا شبہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ سسٹم رکا ہوا ہے، ہمارے جج بہت زیادہ کام کرتے ہیں، اعدادوشمار کے مطابق 2017ءمیں 20لاکھ مقدمات دائرہوئے جبکہ 21لاکھ مقدمات نمٹائے گئے ہیں، اسی طرح سال 2016 میں ہم نے بیس لاکھ مقدمات کے فیصلے کئے تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب کی آبادی 11کروڑ ہے اور اس تناسب میں 62 ہزار افراد کے لئے ایک جج ہے، بین الاقوامی سٹینڈرڈز کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں 10ہزار ججوں کی ضرورت ہے(جبکہ اس وقت تقریباً1775جج کام کررہے ہیں )۔ ہمارا المیہ ہے کہ ہمارے ایک جج کو روزانہ 700 مقدمات سننا پڑتے ہیں۔ میں ان سخت حالات اور مشکلات کے باوجود لوگوں کے مقدمات کے بہترین فیصلے کرنے پر ضلعی عدلیہ کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں۔ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ گزشتہ 10ماہ میں صوبہ بھر میں 3 ہزار سے زائد ہڑتالیں ہوئیں جس سے 22 لاکھ کے قریب مقدمات نہیں سنے جاسکے اور اگر یہ ہڑتالیں نا ہوتی تو 2لاکھ 40 ہزار مقدمات اور نمٹائے جا سکتے تھے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ بیرون ممالک میں ہونے والے چھوٹے چھوٹے معاملات ،جن کا ہماری عدلیہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے،پر بھی وکلاءہڑتال کر دیتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اس پرانے اور گھسے ہوئے نظام کو تبدیل کرنے پر بار مجھ سے ناراض نظر آتی ہے، ہم کھلے دل سے بار کو ساتھ بیٹھنے کی دعوت دیتے ہیں، ایک دوسرے کے اختیارات میں مداخلت بلاشبہ ہمیں اچھی نہیں لگے گی، ادارے کی ترقی کےلئے ضروری ہے کہ بنچ اور بار اپنی اپنی حدودمیں رہ کر کام کریں۔چیف جسٹس سیدمنصور علی شاہ نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں ججز تقرری کےلئے ضلعی عدلیہ کے ججوںکو مناسب نمائندگی دی جانی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دور میں لاہور ہائی کورٹ میں کسی قسم کی کوئی بھی تقرری، تعیناتی یا ترقی غیر قانونی یا میرٹ سے ہٹ کر نہیں ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیشن جج اپنے ماتحت ججوںکی کارکردگی رپورٹس لکھتے ہوئے ہمت اور حوصلے سے کام لیں، کسی غلط جج کی اچھی رپورٹ نہ لکھیں، رپورٹ میرٹ پر لکھیں، اگر ہم عدلیہ کے ادارے کو باقی اداروں سے نمایاں بنانا چاہتے ہیں تو جرات کا مظاہرہ کریں اور اپنی سوچ کو تبدیل کریں، جج ہونا کوئی نوکری نہیں ہے یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا انعام ہے، جب تک ہم خود کو تبدیل نہیں کر سکتے تو کوئی اکیڈمی، کوئی کورس اور کوئی بیرون ملک کا دورہ ہمارے اندر نکھار نہیں لا سکتا، ہم نے دل میں درد رکھ کر ان اصلاحات کا مقصد سمجھنا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اے ڈی آر، ماڈل کورٹس اور خصوصی عدالتیں اسی وقت نتیجے دے سکتی ہیں جب ججز دل سے انکا مقصد سمجھیں گے۔ سینئر سول ججز (ایڈمن) تحصیلوں کا بھی دورہ کریں، دوسرے ججوںکے ساتھ مل کر نظام کو بہتر کرنے میں معاونت کریں۔ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ جج اور سائل کے درمیان کوئی بھی غیر ضروری چیز نہیں آنی چاہیے ۔ یہ اصلاحات کا سارا عمل اعتماد کا ہے، ہم نے ضلعی عدلیہ کے ججز پر اعتماد کر کے ان کے اختیارات میں اضافہ کیا ہے۔ ہر ایک جج کو اپنے ضمیر کے مطابق کام کرنا ہے، مقدمات کے یونٹ سسٹم ختم ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ججز اس کا ناجائز فائدہ اٹھائیں۔ چیف جسٹس نے ججز کی ٹریننگ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب جوڈیشل اکیڈمی پاکستان کا سب سے بہترین جوڈیشل ایجوکیشن کا ادارہ ہے اور اسی اکیڈمی کے تحت ججز کی بیرون ملک تربیتی کورسز کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے شرکاءسے کہا اپنے اندر سے منفیت ختم کرکے مثبت سوچ کس پروان چڑھائیں۔ ہم جو بنیادی اصول سیکھ رہے ہیں ان کواپنی زندگیوں میں نافذ کریں۔ دل سے کسی بھی قسم کا خوف نکال کر بلا جھول اور میرٹ پر فیصلے کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ججز کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر مکمل غور کیا جائے گا اور تمام قابل عمل تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کےلئے تمام ممکن اقدامات کئے جائیں گے، آئندہ بھی اسی طرح سالانہ کنونشن منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے گزشتہ ایک سال میں وفات پاجانے والے جوڈیشل آفیسرز کے لئے دعا بھی کی۔قبل ازیں شرکاءسے اظہار خیال کرتے ہوئے جسٹس مامون رشید شیخ نے کہا کہ قانون پر عبور کے لئے ضروری ہے کہ پڑھنے کا عمل جاری رکھا جائے، انہوں نے کہا ججوںکے لئے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی اور بیرون ممالک تربیتی کورسز کے بہترین مواقع فراہم کئے جارہے ہیں، انہوں نے صوبائی عدلیہ کے دورہ برطانیہ پر بریفنگ بھی دی۔قبل ازیں ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سہیل ناصر نے بالترتیب پنجاب جوڈیشل اکیڈمی اور ڈسٹرکٹ جوڈیشری کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کی دانش مندانہ قیادت کی بدولت پنجاب جوڈیشل اکیڈمی اور ضلعی عدلیہ کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے جس سے جلد انصاف کی فراہمی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اس موقع پر ضلعی عدلیہ کو مزید فعال بنانے کےلئے سول ججز، ایڈیشنل سیشن ججز اینڈ سیشن ججز کے نمائندوں نے تجاویز بھی پیش کیں۔ ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری نے ضلعی عدلیہ کی جانب سے پیش کردہ تمام تجاویز کے قابل عمل ہونے کے حوالے سے تفصیلی تجزیہ پیش کیا اور ضلعی عدلیہ کے ججزکی فلاح و بہبود کےلئے زیر غور اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ انکا کہنا تھا کہ سترہ سال بعد آج چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کی کاوشوں کی بدولت ملک کے سب سے بڑے صوبے کی ضلعی عدلیہ ایک چھت کے نیچے اکٹھی ہے۔ سیمینار کے اختتام پر تربیتی کورسز اور فیلڈ میں بہترین کارکردگی دکھانے والے ججز کی حوصلہ کےلئے انہیں ایوارڈز بھی دیئے، پنجاب جوڈیشل اکیڈمی اور ضلعی عدلیہ کی جانب سے فاضل چیف جسٹس اور ججز کو یادگاری شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔سیمینار میں لاہور ہائی کورٹ کے فاضل جج صاحبان، جسٹس ریٹائرڈ فقیر محمد کھوکھر، رجسٹرار سید خورشید انور رضوی، ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری محمد اکمل خان، ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی ماہ رخ عزیز، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ظفر اقبال کلانوری، صوبہ بھر کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں، ایڈیشنل سیشن ججوں، پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے فیکلٹی ممبران اور سینئر سول ججوں و سول ججز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

لائیو ٹی وی دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور


loading...