آخر لوگوں کو انٹرنیٹ پر فحش فلمیں دیکھنا اچھا کیوں لگتا ہے؟ بالآخر سائنسدانوں نے اس سوال کا جواب دے دیا، معمہ حل کردیا

آخر لوگوں کو انٹرنیٹ پر فحش فلمیں دیکھنا اچھا کیوں لگتا ہے؟ بالآخر ...
آخر لوگوں کو انٹرنیٹ پر فحش فلمیں دیکھنا اچھا کیوں لگتا ہے؟ بالآخر سائنسدانوں نے اس سوال کا جواب دے دیا، معمہ حل کردیا

  



نیو یارک(مانیٹرنگ ڈیسک) انٹرنیٹ پر فحش مواد کے پھیلاﺅ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ سال دنیا بھرمیں صارفین نے جس قدر ڈیٹا استعمال کیا اس کا 30فیصد فحش فلمیں دیکھنے پر خرچ کیا گیا۔ اعدادوشمار کے مطابق ایمازون، نیٹ فلکس اور ٹوئٹر کے مجموعی صارفین سے زیادہ لوگوں نے گزشتہ سال انٹرنیٹ پر فحش فلمیں دیکھیں۔ اس سے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر لوگ فحش فلموں کی طرف اس قدر راغب کیوں ہوتے ہیں؟ اب سائنسدانوں نے اس کا حتمی جواب دے دیا ہے۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی سکول آف میڈیسن کے سائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ ”فحش فلموں کی مقبولیت میں لوگوں کی خودلذتی کا بہت بڑا عمل دخل ہے، یہ بات حقیقت ہے کہ کواکثریت اپنے آپ میں رہتے ہوئے یہ کام نہیں کرسکتی چنانچہ ایسے لوگ فحش فلموں کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ فلمیں انسان کو حقیقی دنیا سے کاٹ کر ایک خیالی دنیا میں لے جاتی ہیں اورایسے میں جب وہ خودلذتی جیسا شرمناک کام کرتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ یہ وہ خود نہیں کر رہا بلکہ وہ خود کو اس فلم کا حصہ سمجھ رہا ہوتا ہے۔“

سال کے کس مہینے میں دنیا کے لوگ انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ شرمناک مواد سرچ کرتے ہیں؟ تحقیق کاروں نے پہلی مرتبہ پول کھول دیا

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر ڈیوڈ جے لنڈن کا کہنا تھا کہ ”انسان کے دماغ کی ساخت اور کام کرنے کا طریقہ بہت عجیب ہے۔ جب ہم پیدل چل رہے ہوتے ہیں تو ہمارا لباس عضو مخصوصہ کے ساتھ مسلسل مس ہو رہا ہوتا ہے، اس کے باوجود ہمیں جنسی تحریک نہیں ملتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا دماغ جانتا ہے کہ اس وقت کون سی چیز ہمارے جسم کو گدگدا رہی ہے اور ہمارے اردگرد کا ماحول کیا ہے۔انسان اپنے آپ میں رہتے ہوئے اس قدر جنسی احساس پیدا نہیں کر پاتا جتنا کہ وہ ایک خیالی دنیا میں جاکر کرسکتا ہے۔ چنانچہ اس حوالے سے فحش فلمیں انسان کے دماغ کو اس خیالی دنیا میں لیجانے میں مدد دیتی ہیں اور وہ خود کو اس فلم کا حصہ سمجھتے ہوئے بھرپور شہوانی احساس حاصل کرتا ہے۔“

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...