بینظیر پر حملہ کرنے والوں میں سے ایک خود کش بمبار زندہ ہے اور اس نے پاکستان میں شادی کی: رحمن ملک

بینظیر پر حملہ کرنے والوں میں سے ایک خود کش بمبار زندہ ہے اور اس نے پاکستان ...
بینظیر پر حملہ کرنے والوں میں سے ایک خود کش بمبار زندہ ہے اور اس نے پاکستان میں شادی کی: رحمن ملک

  



اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیر داخلہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رحمن ملک نے کہا ہے کہ میری حالیہ معلومات کے مطابق دوسرا خودکش بمبار اکرام اللہ زندہ ہے، اس نے پاکستان میں شادی کی اور جب اسے خطرہ محسوس ہوا تو وہ افغانستان فرار ہوگیا جہاں قندھار میں اس پر حملہ کیا گیا جو ناکام رہا، تاہم وہ اب بھی قندھار میں موجود ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایک انٹرویومیں سابق وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے طالبان کی میٹنگ ہوئی جس میں بیت اللہ محسود، القاعدہ کا دوسرا اہم کمانڈر ابوعبیدہ مصری بھی شریک تھے ،2 خودکش حملہ آوروں بلال اور اکرام اللہ کو2 لاکھ روپے دے کر میرانشاہ کے ایک مدرسے میں بھیجا گیا۔انہوں نے کہا کہ دونوں خودکش حملہ آوروں نے مدرسے میں ایک رات قیام کیا اور اگلے روز گاڑی کے ذریعے مدرسہ حقانیہ پہنچے۔رحمن ملک نے دعویٰ کیا کہ بینظیر کے قتل ہونے کے بعد ہمارے پاس اس بات کے مکمل ثبوت تھے کہ اس میں القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) شامل ہیں۔پرویز مشرف سے متعلق سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ پرویز مشرف اس وقت عدالت سے غیر حاضر ہیں،انہیں چاہیے کہ وہ اپنی وضاحت عدالت میں آکر دیں جبکہ بینظیر کو اگر سابق وزرائے اعظم جیسی سیکیورٹی ملتی تو شاید وہ بچ جاتیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ہم 26 دسمبر کو پشاور سے آرہے تھے جس دوران راستے میں مجھے ایک جنرل کا فون آیا جنہوں نے کہا کہ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی بینظیر سے ملنا چاہتے ہیں ، اسی رات ملاقات میں ڈی جی آئی ایس آئی نے بتایا کہ بینظیر بھٹو پر حملہ ہوسکتا ہے تاہم سوال یہ ہے کہ حملے کا خطرہ تھا تو پھر مناسب سیکیورٹی کیوں فراہم نہیں کی گئی۔رحمن ملک نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے پرویز مشرف کیساتھ کوئی این آر او پر دستخط نہیں کیے بلکہ وہ صرف ملک میں دوبارہ جمہوریت لانے کی جدوجہد تھی، بینظیر بھٹو کسی این آر او کے تحت وطن واپس نہیں آئی تھیں بلکہ پرویز مشرف نے تو بینظیر کو فون کرکے یہ دھمکی دی کہ آپ کی سیکیورٹی کا انحصار آپ کے تعاون پر ہے۔

لائیو ٹی وی دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مزید : قومی