’’شوگر ملوں نے ایک سال سے گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیاں دبا رکھی ہیں،تازہ گنا من مانی قیمتوں پر خریداجارہا ہے‘‘ پروگریسو زمیندار محمد یٰسین

’’شوگر ملوں نے ایک سال سے گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیاں دبا رکھی ہیں،تازہ ...
’’شوگر ملوں نے ایک سال سے گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیاں دبا رکھی ہیں،تازہ گنا من مانی قیمتوں پر خریداجارہا ہے‘‘ پروگریسو زمیندار محمد یٰسین

  



لاہور(زرعی رپورٹر)’’ شوگر ملوں نے حکومت کی جانب سے دئے جانے والے تمام احکامات کو ہوا میں اڑا کر رکھ دیا ہے اور وہ کسانوں سے من مانی قیمتوں پر گنا خرید رہی ہے،کسانوں کے حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں عملاًکوئی ایسا کام نہیں ہورہا ہے جس کو مثالی کہا جاسکے ،سب زبانی جمع خرچ ہے ‘‘ پتوکی سے تعلق رکھنے والے معروف پرگریسو زمیندار محمد یٰسیننے شوگر ملوں کی من مانیوں اور ایجنٹوں کی کارروائیوں کے حوالہ سے ڈیلی پاکستان آن لائن کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا ہے کہ پتوکی شوگر مل گنے کے کاشتکاروں کوپی پی آر نہیں دیتی اور اسکی بجائے ایک چھوٹی سی پرچی دے دیتی ہے جس پر خریداری کی قیمت بھی درج نہیں کی جاتی ۔ شوگر ملیں درمیانہ درجہ کے کسانوں سے گنا 130 روپے فی من خرید رہی ہیں حالانکہ حکومت کی جانب سے 180 روپے فی من مقرر ہے ۔جبکہ نچلے درجہ کے کسانوں سے گنا 100 روپے فی من بھی خریدا جارہا ہے اور اسکی قیمت بھی فوری ادا نہیں کی جارہی ۔انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے پندرہ دنوں کے اندر کسانوں کو رقم مل جایا کرتی تھی لیکن گزشتہ سال سے شوگر ملوں نے کسانوں کو مکمل ادائیگیاں نہیں کیں۔محمد یٰسین کا کہنا ہے کہ شوگر ملوں نے تھرڈ پارٹی کے طور اپنے ایجنٹوں کو آگے کررکھا ہے جو کسانوں کو خوفزدہ کرکے گنا اونے پونے بیچنے پر مجبور کرتے ہیں۔حکومت کواس معاملے میں عملاً کارکردگی دکھانی چاہئے تاکہ کسانوں کو انکی محنت کی کمائی بروقت اور پوری ادا ہوسکے اور ملک میں زرعی انقلاب کا مستحکم و محتسب نظام قائم ہوجائے۔

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

مزید : کسان پاکستان


loading...