ملاوٹ کے خلاف سخت قوانین کی ضرورت

ملاوٹ کے خلاف سخت قوانین کی ضرورت

ہم مسلمان اور حاملِ قرآن و سنت ہیں، رسولِ پاکؐ کی اُمت سے ہیں، مسلمان کو ہر دم اور ہر وقت نیکی کی طرف مائل رہنا چاہئے اور برائی سے اجتناب کرنا چاہئے تاکہ کسی محتسب کو موقع ہی نہ ملے کہ وہ کوئی کارروائی کرے، لیکن دُکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ آج مسلمان اپنی سطح سے پھسل چکا اور بُرے عمل سے باز نہیں آتا، حتیٰ کہ سزا کا خوف نہیں کھاتا، مُلک میں فوڈ اتھارٹیز نے ملاوٹ، غلیظ، جعلی اور مضر صحت اشیاء کے خلاف زبردست مہم شروع کر رکھی ہے۔ اِس میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی زیادہ بہتر ہے۔ یہاں ناقص گوشت، ملاوٹ والے مصالحے، مشروبات اور دوسری مضر صحت خوراک پکڑی گئی، لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور جرمانے بھی کئے گئے،لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایسی کارروائیوں سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا جاتا۔ ناقص گوشت بدستور پکڑا جا رہا ہے۔ بیکریوں میں استعمال کے لئے گندے انڈوں کی سپلائی جاری ہے، مردہ مرغیوں کا گوشت بھی فروخت ہو رہا ہے، بدبور دار اور گلی سڑی مچھلی بھی فروخت ہو رہی ہے۔ تاہم کارروائیاں بھی مسلسل جاری ہیں، صفائی نہ ہو نے اور گندگی پر بھی چالان کئے گئے۔ لیکن سوال یہ ہے یہ سلسلہ رک کیوں نہیں رہا؟ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ موجودہ سزائیں کم ہیں۔یہ بہت ہی افسوسناک ہے کہ یہ حضرات محض منافع خوری کے لئے انسانی جانوں کے ساتھ کھیلنے سے گریز نہیں کرتے،اس لئے اگر ان کے خلاف سخت ترین کارروائی نہ کی گئی تو یہ باز نہیں آئیں گے،اِس لئے حکومت کو چاہئے کہ موجودہ قوانین میں ترامیم کر کے ایسا قانون بنائے،جس کے تحت انسانی جانوں سے کھیلنے والے بھی قتل کے مجرم ٹھہرائے جائیں اور ان کو موت کی سزا دی جائے کہ یہ اپنے عمل سے ناجائز منافع خوری کے لئے ساز گار فضا ہی نہیں بناتے، بلکہ معاشرتی اقدار کو بھی پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ فود اتھارٹیز کو اپنا کام بلا خوف و خطر کرتے رہنا چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...