معمارِ مینارِ پاکستان کا دلآویز تذکرہ

معمارِ مینارِ پاکستان کا دلآویز تذکرہ
معمارِ مینارِ پاکستان کا دلآویز تذکرہ

  


خالد کاشمیری کی کتاب ’’میاں عبدالخالق، معمار مینار پاکستان‘‘ اردو کے سوانحی ادب میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے۔ میاں عبدالخالق نے تحریک قیامِ پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ انہیں ہم اپنے ان رہنماؤں میں شمار کر سکتے ہیں جن کے جذبے حصولِ آزادی کے بعد بھی سرد نہ پڑے۔ وہ بانی ء پاکستان کی مستحکم شخصیت اور بے داغ کردار سے بے حد متاثر تھے،انہی کے افکار کی روشنی میں پاکستانی معاشرے کی تعمیر کرنا چاہتے تھے۔

انہوں نے مسلم لیگ سے اس وقت تک وابستگی اختیار کئے رکھی، جب تک یہ خود رہنماؤں کی بے بصیرتی اور کوتاہ اندیشی کے سبب کئی ٹکڑوں میں نہ بٹ گئی۔ زیر نظر کتاب میں فاضل مصنف نے اپنی ممدوح شخصیت کی سیاسی اور سماجی خدمات کا ایک ایسا دلآویز مرقع پیش کیا ہے جو آنے والی نسلوں کے لئے مشعلِ راہ کا کام دے سکتا ہے۔

زیر نظر کتاب تین حصوں میں منقسم ہے: پہلے میں فاضل مصنف و مرتب نے میاں عبدالخالق کی زندگی کے کوائف پیش کئے ہیں، دوسرے میں ان کی تحریروں اور تقریروں کا انتخاب ہے اور تیسرے میں ان کی معاصر شخصیات کے تاثرات شامل کئے ہیں۔ کتاب کے مطالعہ سے ہم میاں عبدالخالق سے متعارف ہوتے ہیں کہ وہ 1918ء میں ضلع گوجرانوالہ کے قصبے گکھڑ میں مولوی محمد شریف کے گھر پیدا ہوئے۔

خالصہ کالج گوجرانوالہ سے اعلیٰ تعلیم پانے کے بعد سول انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ کالج میں زیر تعلیم تھے جب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن سے وابستہ ہوئے۔

قیادت نے انہیں گوجرانوالہ فیڈریشن کا کنونیئر مقرر کر دیا۔ انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرکے پنجاب پی ڈبلیو ڈی میں ملازمت اختیار کر لی۔ 1946ء میں جب وہ ضلع گوجرانوالہ میں بطور ایس ڈی او تعینات تھے تو مسلم لیگ کے امیدوار شیخ کرامت کی کامیابی کے لئے سرگرم رہے۔ اسی سال سرکاری ملازمت چھوڑ دی تاکہ تحریک پاکستان کے لئے کھل کر کام کر سکیں۔ حصولِ آزادی کے بعد لاہور آ گئے اور تعمیراتی کاموں میں مصروف ہو گئے۔

میاں صاحب کی ملی خدمات میں مینار پاکستان کی تعمیر ایک بڑا اہم کارنامہ ہے۔ جب مینار پاکستان کی تعمیر کے لئے ٹینڈر طلب کئے گئے تو میاں صاحب کی ’’میاں عبدالخالق اینڈ کمپنی‘‘ کو یہ عظیم کام سونپا گیا کیونکہ ان کے پیش کردہ Ratesسب سے کم تھے۔ میاں صاحب خود انجینئر تھے اور لاہور کی کئی بڑی بڑی عمارات تعمیر کرنے کا اعزاز رکھتے تھے۔

انہوں نے اس تاریخی مینار کی تعمیر کے لئے جو جتن کئے مصنف نے ان کی تفصیل پیش کی ہے۔ میاں صاحب چونکہ ایوب حکومت کے آمرانہ اقدامات سے اختلاف رکھتے تھے اس لئے حکومت نے کسی جگہ بھی تعمیراتی کمپنی کی تختی نہ لگنے دی۔

میاں صاحب کو حکومت کی اس انتقامی کارروائی کا افسوس تو تھا، تاہم کوئی یہ بات چھیڑ دیتا تو ہمیشہ مسکرا کر کہتے ’’میں نے مینار پاکستان کی تعمیر عبادت سمجھ کر کی، میرے لئے یہی بات قابلِ فخر اور باعثِ اطمینان ہے‘‘۔(ص 125)

میاں صاحب نے پنجابی میں تقریر کرنے کا آغاز میانوالی سے کیا۔ صدارتی امیدوار مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح جلسہ گاہ میں آنے والی تھیں۔ لاکھوں لوگ ان کی راہ دیکھ رہے تھے۔ میاں عبدالخالق سامعین کو پنجابی میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کی تلقین کر رہے تھے۔ مادر ملت نے سٹیج پر پہنچ کر میاں صاحب کو تقریر کرنے کو کہا۔ حاضرین نے پنجابی بولنے کا مطالبہ کیا۔

میاں صاحب نے پنجابی زبان میں بڑی رواں دواں تقریر کی۔ جلسہ کے اختتام پر محترمہ فاطمہ جناح نے ان سے کہا، ’’خالق! میں بھی تمہاری تقریر تھوڑا بہت سمجھ سکی ہوں، تم نے لوگوں کو ہنسایا ہے۔ لوگوں نے قہقہے لگائے ہیں۔

دکھی لوگوں کا سہارا بننا بھی بڑی اچھی بات ہے، اس لئے تم پنجابی زبان میں تقریر کیا کرو‘‘۔ اس کے بعد میاں صاحب اپوزیشن جلسوں میں ہمیشہ تقریر پنجابی میں کرتے۔ انہیں استاد دامن اور کئی دیگر شاعروں کے بے شمار پنجابی اشعار یاد تھے جو وہ موضوع کے مطابق پڑھتے تو مجمع انہیں بہت داد دیتا۔

کتاب کے مصنف نے میاں عبدالخالق کی سماجی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ عوام میں گھل مل کر رہتے تھے۔ لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے، کسی کو معاشی اعتبار سے کمزور دیکھتے تو اس کی مدد کرتے تھے، تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔ اس معاملے میں ذات برادری اور مذہب و مسلک کی تفریق روا نہ رکھتے۔ سماجی بہبود کی تنظیموں سے بھی دل کھول کر تعاون کرتے تھے۔

اس سب پر مستزاد ان کا بے پایاں خلوص اور انسان دوستی کا جذبہ۔ کبر و ریا کو کہیں دخل نہ تھا۔ وہ جہاں ضرورت سمجھتے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے اور دل میں خوف نہ رکھتے کہ معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس حوالے سے فاضل مصنف نے کئی واقعات درج کئے ہیں۔

سیاست میں اصول پسندی کا راستہ بڑا کٹھن ہوتا ہے۔ خاص طور سے جب اہل اقتدار سے اختلاف کا معاملہ آن پڑے۔ ایک موقع پر نواب امیر محمد خان ایسے جابر گورنر نے انہیں اپنے ڈھب پر لانے کی بہت کوشش کی۔

وزارت تک کی پیشکش کی، مگر میاں عبدالخالق بڑی جرات اور دلیری سے اپنے موقف پر قائم رہے اور جھکنے سے صاف انکار کردیا۔ بعد میں جنرل ضیاء سے بھی اختلاف ہو گیا تو غیر معمولی استقامت کا ثبوت دیا۔

اس زاویے سے میاں عبدالخالق نے شاندار روایات قائم کیں۔ بالآخر 9نومبر 1987ء کو یہ عوام دوست اور محبِ وطن رہنما داعی اجل کو لبیک کہہ گیا اور دلوں پر حسین یادوں کے نقوش چھوڑ گیا۔بقول شاعر:

موت اس کی ہے جس کا زمانہ کر لے افسوس

ورنہ دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے

مزید : رائے /کالم


loading...