جاپان کا پولیس نظام۔۔۔ ہماری ضروریات!

جاپان کا پولیس نظام۔۔۔ ہماری ضروریات!
جاپان کا پولیس نظام۔۔۔ ہماری ضروریات!

  


جاپان نے1954ء میں پولیس اصلاحات کیں اور ان کے نتیجے میں آج جاپان کی پولیس دنیا کی بہترین پولیس کا نمونہ پیش کررہی ہے جبکہ ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں غلامی کے دوران تھے۔ پولیس کی ذمہ داری تو شہریوں اور املاک کو تحفظ فراہم کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ امن عامہ کو بحال رکھنا ہوتا ہے۔ اسی لئے ترقی یافتہ ممالک کے شہری پولیس کو اپنا محافظ سمجھتے ہیں۔

اس کے لئے وہاں کی حکومتوں نے باقاعدہ مختلف اقدام کئے اور ان اقدام میں ایک کمیونٹی پولیسنگ( policing community) کو فروغ دینا بھی ہے۔ 2002ء کے ایکٹ میں ہمارے ہاں کمیونٹی پولیسنگ کا جو خواب دیکھا گیا۔ وہ پروان چڑھنے سے پہلے ہی چکنا چور ہو گیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام آج بھی پولیس کو کسی بھی صورت میں اپنا خیرخواہ نہیں سمجھتے اور چارو ناچار ہی پولیس کے پاس جا تے ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ کمیونٹی پولیسنگ کے حوالے سے جو نظام متعارف کروایا گیا تھا اسے جلد از جلد فعال کیا جائے تاکہ عوام اور پولیس میں روابط بڑھیں، اس سے پولیس پر عوام کی بے اعتمادی ختم ہو گی اور معاشرے میں اطمینان اور اپنائیت کا احساس اجا گر ہو گا۔

سب سے اہم بات یہ کہ جرائم میں بھی کمی آئے گی۔ عوام کا جب پولیس پر اعتماد بحال ہوتا ہے تو وہ خود امن بحال رکھنے والے ادارے کی مدد کرتی ہے ۔ اس کی ایک مثال جاپان ہے جاپان میں اگر کوئی جرم کہیں سر زرد ہو جائے تو اس کی اکثر اوقات صحیح انفارمیشن عوام ہی پولیس کو دیتے ہیں، جس سے تفتیش میں آسانی پیدا ہو تی ہے ساتھ ہی معاشرے کی طرف سے مجرم کی حوصلہ شکنی بھی ہوتی ہے۔

جاپانی پولیس تفتیش میں مدد کرنے والے کو انعام سے بھی نوازتی ہے۔ جس سے عوام کا پولیس پر اعتماد اور بڑھتا ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں اکثر دیکھنے میں آیا کہ انفارمیشن دینے والے کو ہی پولیس مجرم کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیتی ہے۔ اس کا انٹرویو کرنے کی بجائے اس کی تفتیش شروع کر دی جاتی ہے۔ جس سے حقیقی مجرم کی نہ چاہتے ہوئے حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ اس سوچ کی بیخ کنی کرنے کی اشد ضرورت ہے ورنہ یہ معاشرہ اور متشدد ہوتا چلا جائے گا۔

جاپان میں گاؤں کی سطح اور شہروں میں محلوں اور مارکیٹوں کی سطح پر KobanاورChuzaisho نام کے boxes police ہیں جنہیں سادہ زبان میں چھوٹی چھوٹی چوکیاں کہہ سکتے ہیں بنی ہوئی ہیں۔ ہمارے ہاں بھی یہ نظام نافذ العمل ہونا چاہیے۔ اس سے محکمہ پولیس کا عوام سے رابطے کا نظام مضبوط ہو گا اور اس کے علاوہ جرائم میں انقلابی کمی آئے گی۔

اگر گاؤں اور محلے کی سطح پر ایک پولیس کانسٹیبل تعینات کر دیا جائے جو وہاں کے لوگوں پر نظر رکھے اور ہر گاؤں یا محلے میں نئے آنے والے شخص کے بارے میں اسے نوٹ کروایا جائے اور ساتھ ہی وہ دیگر مشکوک عناصر کی سر گرمیوں پر بھی نظر رکھے، اس کے ساتھ ساتھ اس کی یہ ذمہ داری بھی ہو کہ جرائم پیشہ افراد کو گاؤں میں داخل نہ ہونے دیا جائے اور اس علاقے کے افراد کے مال و جان کی سیکیورٹی کا ذمہ دار بھی وہی جوان ہو، اس کے ساتھ اس کی یہ ذمہ داری بھی ہو کہ ہر نئے آنے والے قانون کے بارے میں عوام الناس کو آگاہی دے

اسی طرح جو پولیس اہلکار مارکیٹوں میں تعینات ہوں وہ مشکوک افراد پر نظر رکھیں اس طرح کاروباری اشخاص بھی بلا خوف و خطر اپنی تمام تر توجہ کاروبار پر مرکوز رکھیں گے۔ جس سے ملکی معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے، ان عوامل کی بدولت ایک اہم چیز یہ ہو گی۔ کہ اس سے جرائم پیشہ عناصر کی حوصلہ شکنی ہو گی اور ساتھ ہی شہریوں میں امن وتحفظ کا احساس بھی پیدا ہو گا۔ جاپان میں سکول،کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر نئی نسل کو Rule of law کی اہمیت اور قوانین کو نافذ کرنے کے حوالے سے پولیس افسران کی طرف سے لیکچرز دئیے جاتے ہیں تا کہ نئی نسل کو ملکی نظم و نسق سے آشنائی ہو اور ساتھ ساتھ جرائم سے دور رہنے اور ایک مہذب شہری کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے حوالے سے کونسلنگ بھی کی جاتی ہے،پاکستان میں بھی اس طرح کے اقدامات بے حد ضروری ہیں تاکہ معاشرے کو پرُ امن اور مہذب بنایا جائے اور نئی نسل کو trigger happy society کلچر جیسی لعنت سے چھٹکارا ملے ہمیں نئی نسل کو مہذب معاشرہ کے اصولوں سے آشنا کرنا اور اسے تعلیم کے زیور سے آراستہ بھی کرنا چاہئے تاکہ ہم بے ہنگم گروہ سے ایک مہذب قوم بن سکیں بقول نیلسن منڈیلا:

Educaton is the most powerful weapon which you can use to change the world.

اس کے علاوہ ہمیں پولیس ملازمین کی تربیت کے لئے تربیتی ورکشاپوں وغیرہ کا بھی باقاعدگی سے انعقاد کروانا چاہئے، انہیں جدید خطوط پر استوار کر کے پولیس کے نظام سے آگاہی دی جائے تاکہ یہ پرانے مار دھاڑ، گالم گلوچ اور عوام کے ساتھ ناروا سلوک رکھنے والے کلچر سے باہر آئیں اس سے معاشرہ میں ایک اچھا ماحول پیدا ہوگا۔ موجودہ دور میں تقریباً تمام جرائم کی کڑیاں کسی نہ کسی صورت میں Cyberspace سے جڑ جاتی ہیں اور آنے والے دور میں جرائم پیشہ لوگوں کا زیادہ تر انحصار Cyberspace پر ہوگا اس لئے ہمیں جاپان کی طرز کا Cyberspace انسٹیٹیوٹ بنانا چاہئے اور اس میں Specialist بھرتی کئے جائیں تاکہ یہ Cyberspace سے منسلک تمام جرائم پیشہ افراد پر کڑی سے کڑی نظر رکھیں اور اگر کوئی جرم وقوع پذیر ہو جائے تو یہ فوری اس کا سد باب کریں تاکہ عوام کو جلد انصاف مہیا ہو۔ جاپان پولیس کی طرز پر ہمیں بھی بھرتی کا نظام اور محکمانہ ترقی کا باقاعدہ Structure بنانا چاہئے اب جاپان میں دو عہدوں پر بھرتی ہوتی ہے۔

ایک کانسٹیبل کے عہدے پر جو ترقی کر کے انسپکٹر کے عہدے تک پہنچتا اور دوسرا اے ایس پی کے عہدے پر جو ترقی کر کے آئی جی کے عہدے تک پہنچ سکتا ہے۔ ہمارے ہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے یہاں کانسٹیبل سے لے کر ڈی ایس پی تک ماسوائے ہیڈ کانسٹیل کے ہر عہدے پر بھرتی کی جانی ہے۔

بھرتی کے ان عاقبت نااندیش تجربوں سے محکمہ کو تنزلی کے سوا کچھ بھی نہیں ملا اس سے ملازمین کی محکمانہ ترقی کے نظام میں خلل پڑنا اور پھر ملازمین میں بے یقینی اور مایوسی کا جنم لینا ایک قدرتی عمل ہے جس سے محکمانہ کارکردگی اور Professionalism پر انتہائی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ان تمام کے علاوہ ایک اور اہم مسئلہ جس پر جاپان نے تو ستر کی دہائی ہی میں قابو پا لیا تھا مگر صد افسوس ! ہم آج بھی اس پر کنٹرول نہیں کر سکے اور وہ مسئلہ ملازمین کی ڈیوٹی ٹائمنگ کا ہے۔

ہمارے ہاں آج بھی پولیس ملازمین چوبیس گھنٹے ڈیوٹی کرتے ہیں جبکہ جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں ملازمین چار شفٹوں میں ڈیوٹی دیتے ہیں اور اس کے علاوہ پورے ملک میں تین شفٹیں ہوتی ہیں۔ ہمارے یہاں اس مسئلے پر غور کرنے اور اس کا فوری تدارک کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے پولیس ملازمین کی زندگی میں آسودگی آئے گی جس کے نتیجے میں وہ بہتر انداز سے ڈیوٹی سرانجام دے سکیں گے۔

مزید : رائے /کالم


loading...