پنجاب یونیورسٹی کے جلسہ عطائے اسناد میں وائس چانسلر کا اظہار خیال(1)

پنجاب یونیورسٹی کے جلسہ عطائے اسناد میں وائس چانسلر کا اظہار خیال(1)
پنجاب یونیورسٹی کے جلسہ عطائے اسناد میں وائس چانسلر کا اظہار خیال(1)

  


گرامی قدر جناب راجہ یاسر ہمایوں سرفراز صاحب، پرو چانسلر پنجاب یونیوسٹی، وزیر برائے اعلیٰ تعلیم پنجاب! مہمانانِ گرامی، اساتذہِ کرام، خواتین و حضرات اور میرے عزیز طلبہ و طالبات!

مَیں جامعہ پنجاب کے127ویں جلس�ۂ عطائے اسناد میں بصد مسرت آپ کا استقبال کرتے ہوئے تہہ دِل سے خوش آمدید کہتا ہوں۔

عزیز طلبہ و طالبات!

سب سے پہلے آپ کو اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی مقاصد میں کامیابی پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔آپ تحسین و تبریک کے حق دار ہیں کہ آپ نے وطنِ عزیز کے اِس قدیم و عظیم ادارے سے اپنی تعلیم کے نہایت اہم مراحل طے کیے۔مَیں آپ کے کامیاب اور روشن مستقبل کے لئے دُعا گو ہوں۔میری نظر میں آپ کے والدین اور سرپرست بھی مبارکباد کے مستحق ہیں،جنہوں نے آپ کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے اپنی بساط سے بڑھ کر آپ کی سرپرستی کی۔

مہمان عزیز!

ایک سو چھتیس برس طویل شاندار اور سنہری تاریخی روایات کی مالک اس یونیورسٹی میں تحقیق و تدریس کے عظیم الشان شعبے اور وسیع و عریض انفراسٹرکچر ہی نہیں، اپنے اپنے شعبے کے انتہائی قابل اور نامور اساتذۂ کرام بھی موجود ہیں، مَیں بارگاہ ایزدی میں سجدۂ شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے اس باوقار ادارے کے توسط سے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں مُلک و قوم کی خدمت کا موقع عطا فرمایا گیا۔ میرا پختہ ارادہ ہے کہ مَیں پنجاب یونیورسٹی کو عظیم سے عظیم تر تحقیقی و تدریسی ادارہ بنانے میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھوں گا۔اپنی خداداد صلاحیتوں اور اپنے نہایت قابل رفقائے کار کی کوششوں سے اس مادرِ علمی کو تحقیقی و تدریس کے جدید عالمی رجحانات سے ہم آہنگ کر کے ملکی ہی نہیں،عالمی سطح پر بھی احترام اور وقار لانے کی ہر ممکن کوشش کروں گا۔

کہتے ہیں بڑی کامیابیاں بڑے خوابوں کی مرہون منت ہوتی ہیں۔مَیں نے وائس چانسلر کا منصب سنبھالتے ہی یہ خواب دیکھنا شروع کر دیا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی عالمی درجہ بندی کے اعتبار سے دُنیا کی چار سو بہترین یونیورسٹیوں میں شامل ہو جائے،لیکن میرا یہ خواب ہماری آخری منزل نہیں، بلکہ ایک ایسا پڑاؤ ہو گا،جہاں تازہ دم ہو کر ہم ترقی اور کامیابی کے کبھی نہ ختم ہونے والے سفر پر گامزن ہوں گے۔

محترم حاضرین!

مَیں اور میری ٹیم اِس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ عظیم مقاصد کا حصول تبھی ممکن ہے،جب ہم اپنی نوجوان نسل کو مضبوط ملکی معیشت کی طرف رہنمائی کرنے والی تعلیم اور عملی شعور و آگاہی سے آراستہ کرنے کی سنجیدہ اور مخلصانہ کوشش کریں۔ بے شک ہمارے نوجوان صلاحیتوں کے اعتبار سے دُنیا کی کسی قوم کے نوجوانوں سے پیچھے نہیں ہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہم اُن کی صلاحیتوں کو اُجاگر کر کے اُنہیں درست راہِ عمل پر گامزن کریں۔ انہیں تخلیق علم کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی اپنا لوہا منوانے کا موقع فراہم کریں تاکہ وہ نقصان دہ گروہ بندی سے محفوظ رہ سکیں۔ میرا یہ مشن ہے کہ مَیں تعلیمی معاملات کو مثبت خطوط پر اُستوار کروں اور اِس کے لئے مالی اور انتظامی شعبوں کی مدد کو یقینی بناؤں۔مجھے یقین ہے کہ حکومتِ پنجاب کی فعال انتظامیہ اِس سلسلے میں ہماری سرپرستی کرتی رہے گی۔

مہمانِ معظم!

اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ میری پالیسی کا مرکزی نقطہ میرٹ ہے اور مَیں میرٹ کے معاملے میں مکمل شفافیت کا قائل ہوں،یعنی ایسا میرٹ، جو سب کو دکھائی دے۔ مَیں ہر طرح کے اختیارات کو اپنی ذات میں مرتکز کر لینے کا خواہاں بھی نہیں ہوں۔مَیں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا ہو گا اور میرٹ کے قیام کے لئے اختیارات تقسیم کرنا ہوں گے اور اِس معاملے میں بھی ہمیں انصاف اور توازن کو پیشِ نظر رکھنا ہو گا۔ میری دیانت دارانہ رائے ہے کہ کارکردگی میں اضافہ کرنے کے لئے حوصلہ افزائی ضروری ہے۔ قدرتی طور پر اسی سے ہماری کارکردگی بڑھ سکتی ہے، چنانچہ مَیں نے اساتذۂ کرام اور غیر تدریسی عمل کی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کے لئے ایسے تمام اقدامات اٹھانے پر توجہ دی ہے،جو حصولِ فائدہ پر مبنی تعلیم کے فروغ کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ مَیں بصد عجز و انکسار عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ گزشتہ چند ماہ میں ایسے کئی اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں،جن کے ثمرات ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مذکورہ ثمرات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جائے گا۔

وائس چانسلر کا منصب سنبھالتے ہی مَیں نے خالص انتظامی عہدوں کو ذاتی یا گروہی مفاد کا ذریعہ بنانے سے روکنے کی عملی کوششوں کا آغاز کر دیا تھا، کیونکہ میرے نزدیک تمام افراد یکساں طور پر محترم اور جائز مراعات حاصل کرنے کے حق دار ہیں۔ یقین کیجئے، ان کوششوں کی بدولت یونیورسٹی کی جمہوری فضا اور تعلیمی ماحول دونوں پہلے سے کہیں بڑھ کر خوش گوار ہو گئے ہیں۔

محترم سامعین!

*۔۔۔ جیسا کہ مَیں عرض کر چکا ہوں، مجھے جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر کا منصب سنبھالے ہوئے ابھی چند ماہ کا عرصہ ہی ہوا ہے۔الحمد للہ اس قلیل عرصے میں ہماری رفتار کار نہایت تسلی بخش رہی ہے۔مَیں یہاں چند اہم اقدامات کی نشاندہی کرنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ آپ خود فیصلہ کر سکیں کہ اپنے رفقائے کار کی مدد سے میری کارکردگی کیسی رہی ہے۔مجھے توقع ہے کہ آپ ان امور کی جانب ضرور متوجہ ہوں گے۔

*۔۔۔ جامعہ پنجاب میں کم و بیش گیارہ سال سے سینیٹ کا اجلاس نہیں ہوا تھا۔مَیں نے آغاز ہی میں اس ناگزیر قانونی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کوششیں شروع کر دیں اور خدا کا شکر ہے کہ ہم بخیرو خوبی سینیٹ کا اجلاس منعقد کرنے میں کامیاب ہوئے۔سنڈیکیٹ اور دیگر باڈیز کے اجلاس بھی بے قاعدگی اور تعطل کا شکار رہتے تھے۔مَیں نے اپنے رفقائے کار کے تعاون سے ان میں بھی باقاعدگی پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

*۔۔۔ پنجاب یونیورسٹی میں ایک طویل عرصے سے اساتذۂ کرام اور ملازمین کے ترقی کرنے کے جائز خواب تعبیر سے محروم تھے۔اسی طرح نئے اساتذہ اور نئے ملازمین کے تقرر اور انتخاب کا سلسلہ بھی رُکا ہوا تھا۔بفضلِ خدا ہم نے نہایت قلیل عرصے میں کثیر تعداد میں سلیکشن بورڈز منعقد کروا کے اساتذہ و ملازمین کا اضافہ بھی کیا ہے اور ترقی کے منتظر افراد کو ان کا حق بھی دلوایا ہے۔یہ سلسلہ تیز رفتاری سے جاری ہے تاکہ تاخیر کا ازالہ ہو سکے۔

*۔۔۔ آج کی دُنیا ایک عالمی گاؤں کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔اس میں آئے روز تدریس و تحقیق کے شعبوں میں نئے نئے رجحانات اور پیرا ڈائمز سامنے آتے رہتے ہیں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے اساتذہ کو فوری طور پر ان سے روشناس کرائیں۔اسی سوچ کے تحت ہم نے اساتذہ کی تربیت و رہنمائی کے متعدد پروگرام شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔اسی طرح نصابات کی جدید خطوط پر تشکیلِ نو بھی بہت ضروری ہے تاکہ ہمارے طلبہ و طالبات علوم و فنون میں عالمی سطح پر متعارف کرائے جانے والے جدید رجحانات سے آگاہ ہو سکیں۔اس حوالے سے کم و بیش تمام شعبوں میں تیزی سے کام کیا جا رہا ہے۔(جاری ہے)

مزید : رائے /اداریہ


loading...