وزیراعظم کا سفیروں کی کانفرنسوں سے خطاب

وزیراعظم کا سفیروں کی کانفرنسوں سے خطاب
وزیراعظم کا سفیروں کی کانفرنسوں سے خطاب

  


میں آج (28دسمبر 2018ء) شام اسلام آباد میں ہونے والی سفیروں کی کانفرنس سے، وزیراعظم عمران خان کا خطاب سن رہا تھا۔ موضوع یہ تھا کہ پاکستان کی اکانومی کو کیسے آگے لے جایا جائے، اقتصادی ترقی میں سفیروں کا رول کیا ہوتا ہے، جس ملک میں وہ تعینات ہوتے ہیں وہاں پاکستان سے گئے ہوئے مزدور اور اہل ہنر کا کردار کتنا اہم ہوتا ہے اور وہاں پاکستانی سفیروں کو کس ایجنڈے پر کام کرنا چاہیے تاکہ ملک زیادہ خوشحال ہو سکے۔

بیرون ملک تعینات سفیروں کی کانفرنس کوئی نئی بات نہیں۔ آپ نے بھی میری طرح کئی ایسی کانفرنسیں دیکھی اور سنی ہوں گی جو کسی مخصوص مقصد کے پیش نظر طلب کی جاتی ہیں۔ پاکستان کی اقتصادی نشوونما کو آگے بڑھانے کی جتنی ضرورت آج ہے، اتنی کبھی نہیں تھی۔ اور یہ کانفرنس اسی تناظر اور اسی حوالے سے بہت اہم تھی۔ میں نے جب سوا چھ بجے ٹی وی آن کیا تو وزیراعظم خطاب شروع کر چکے تھے۔ اس سے پہلے حسبِ معمول افتتاحی اقدامات کئے گئے ہوں گے جو میں نہیں دیکھ سکا۔

یو ٹیوب پر بھی یہ ساری کانفرنس کور کی گئی ہو گی جس کو دوبارہ (یا از سرِ نو) سننے کی مجھے ضرورت نہیں۔ میرا فوکس وزیراعظم کے خطاب پر تھا۔ سٹیج پر وزیرخارجہ کے علاوہ دوسرے دو تین متعلقہ وزراء بھی تشریف فرما تھے اور حاضرین میں سفیروں کی قطاروں میں سب سے پہلی قطار میں سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ بھی بیٹھی تھیں اور ملیحہ لودھی بھی۔

وزیراعظم کا خطاب حسبِ معمول اردو میں تھا اور ایسی سادہ اور سلیس اردو کہ جس میں شاذ ہی انگریزی کا کوئی لفظ استعمال کیا گیا ہو۔ میں نے ہمیشہ یہ بات نوٹ کی ہے کہ عمران خان جب بھی میڈیا سے خطاب کرتے ہیں (انگریزی میں یہ خطاب اگر ناگزیرنہ ہو جائے) تو قومی زبان میں اظہارِ مدعا ان کی پہلی ترجیح ہوتی ہے۔

انہوں نے بڑے واضح الفاظ میں سفیرانِ کرام کو یاد دلایا کہ بیرونِ ملک ان کے فرائض کیا ہیں۔

۔۔۔سب سے پہلے تو یہ کہا کہ جس ملک میں بھی کوئی سفیر پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے اس کا اولین فریضہ یہ ہے کہ وہ وہاں مقیم پاکستانیوں کی ایک فہرست اپنے دفتر میں تیار رکھے۔۔۔ یہ مطالبہ کوئی نیا مطالبہ نہیں تھا۔ پہلے بھی ہمارے وزرائے اعظم نے کئی بار یہ مطالبہ کیا ہو گا۔ لیکن جس تفصیل اور جزئیات سے وزیراعظم نے اس نکتے پر زور دیا وہ قابلِ صد تحسین تھا۔ کہنے لگے کہ بیرونِ ملک جو پاکستانی ہُنر مند یا مزدور پاکستان سے جا کر ’مزدوری‘ کرتے ہیں وہ پاکستان کے حقیقی خیرخواہ ہیں۔دیکھا جائے تو پاکستان انہی کی ’’کمائی‘‘ سے چل رہا ہے۔

بیرون ملک ہر پاکستانی سفارت خانے میں اگرچہ وہاں کام کرنے والے پاکستانیوں کی فہرست موجود ہو گی، بلکہ انکی بھی جو عشروں سے وہاں مقیم ہیں اور قیمتی زرمبادلہ بھیجتے ہیں لیکن عمران خان نے جس انداز میں سامنے فروکش سفراء حضرات کو یہ بات نوٹ کروائی مجھے لگتا ہے کہ آئندہ وہ جب کسی ملک کے دورے پر گئے تو وہاں کے سفارت خانے سے وہ فہرست مانگ سکتے ہیں اور یہ بھی چیک کر سکتے ہیں کہ اس کو اَپ ڈیٹ کیا گیا ہے یا نہیں۔

ویسے تو مجھے ذاتی طور پر بھی معلوم ہے کہ وزارتِ خارجہ کے متعلقہ سیکشن / برانچ میں یہ فہرستیں موجود ہوں گی اور ان کو بڑی باقاعدگی سے اَپ ڈیٹ بھی کیا جاتا ہو گا۔

لیکن عمران خان سے کچھ بعید نہیں کہ وہ اس کی تمام تر جزئیات سے واقفیت حاصل کرنے کے لئے پاکستان میں باہر ملازمت کرنے والے لواحقین سے بھی رابطہ کرکے چیک کریں کہ سفیر موصوف خود یا ان کا سٹاف ان سے انٹرایکشن میں کتنا ریگولر اور کتنا سنجیدہ ہے۔

دوسری بڑی بات وہ تاکید تھی جو وزیراعظم نے اپنے سفیروں کو کی اور کہا کہ ان کو چاہیے کہ اپنے پاکستانی بھائیوں کے لئے اپنے دل میں شفقت اور رحم (Compassion) پیدا کریں۔

اس سلسلے میں انہوں نے ایک ذاتی واقعہ بھی سنایا کہ ایک بار وہ استنبول (ترکی) ائرپورٹ پر اترے تو دیکھا کہ ایک پاکستانی کی لاش وہاں پڑی ہے اور اس کو پاکستان بھجوانے کے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے معاملے کو مزید کریدا تو معلوم ہوا کہ یہ پاکستانی چوری چھپے پاکستان سے بغیر پاسپورٹ وغیرہ کے بھاگ کر ترکی آیا تھا اور وہاں سے یورپ کے کسی اور ملک میں جانے کی کوشش کر رہا تھا کہ کنٹینر میں دم گھٹ جانے سے اس کی موت واقع ہو گئی۔

ہم آئے روز یہ خبریں میڈیا پرپڑھتے اور سنتے رہتے ہیں کہ فلاں تعداد میں فلاں ملک میں پاکستانی مارے گئے۔ اور یہ صرف پاکستانیوں ہی پر منحصر نہیں، تیسری دنیا کے کئی غریب ملکوں کے لوگ اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایسے ممالک کا رخ کرتے ہیں جن کا سفر جان لیوا ہوتا ہے۔ اگر ایسے لوگوں کی فہرست تیار کی جائے تو میرے خیال میں لاکھوں کی تعداد میں وہ بدنصیب ہوں گے جو اپنے والدین یا بیوی بچوں کو بہتر زندگی گزارنے کے مواقع دیتے دیتے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔۔۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایسے پاکستانی ہمارے Compassionکے حقدار ہیں۔ سفیروں کو چاہیے کہ اس انسانی المیئے پر از بس دھیان دیں اور جس ملک میں وہ تعینات ہیں وہاں کے پاکستانیوں کے ساتھ نرم خوئی سے پیش آئیں۔

یہ تاثر عام پایا جاتا ہے کہ اگر کوئی غریب پاکستانی ، پاکستان سے چوری چھپے کسی ملک میں چلا جاتا ہے تو وہاں کا ہمارا سفارت خانہ اس کی مدد کرنے کی بجائے اس سے باز پرس کرنا شروع کر دیتا ہے کہ بغیر ویزے اور پاسپورٹ کے ،اس نے اس اندھے کنویں میں چھلانگ کیوں لگائی؟

وزیراعظم نے تیسری بات یہ کہی کہ وہ چاہتے ہیں کہ افریقہ اور لاطینی (جنوبی) امریکہ میں تعینات سفیر، بالخصوص اس بات پر توجہ دیں کہ ان دونوں براعظموں میں پاکستان اپنے تجارتی حجم کو بڑھا سکتا ہے اور پاکستانی برآمدات (Exports) میں اضافہ کر سکتا ہے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ ان دونوں براعظموں کے ممالک (چند ایک کو چھوڑ کر) پاکستانی برآمدات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔۔۔ ویسے تو ہمارے سفارت خانوں کے کمرشل اور دفاعی اتاشیوں کا کام ہے کہ وہ اس ضمن میں اپنے آرام دہ دفتروں میں بیٹھنے کی بجائے نئے تجارتی آفاق (Avenues)تلاش کریں اور پاکستان کے زرِمبادلہ میں اضافے میں اپنا حصہ ڈالیں۔ لیکن وہ دونوں آفیسرز (کمرشل اور دفاعی اتاشی) چونکہ سفیر کے ماتحت ہوتے ہیں اس لئے جب سفیر ذاتی دلچسپی لے کراپنے اتاشیوں کو موٹیویٹ (Motivate) کرے گا تو اس سے پاکستانی برآمدات کو فروغ ملے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپ اور آسٹریلیا وغیرہ ایسی مارکیٹیں ہیں کہ ان میں پاکستانی برآمدات کی زیادہ کھپت اگرچہ ناممکن نہیں لیکن مشکل ضرور ہے۔ یہ ممالک، ترقی یافتہ ہیں اور ان کی مارکیٹیں پہلے ہی امریکی، جاپانی اور چینی مصنوعات سے لبالب ہیں۔ تاہم افریقہ، لاطینی امریکہ اور وسطی امریکہ میں کئی ممالک ایسے ہیں جن میں پاکستانی مصنوعات کو فروغ مل سکتا ہے۔

وزیراعظم نے اپنے حالیہ دورۂ ملائیشیا کا ذکر کیا اور وہاں تعینات پاکستانی سفیر جناب نفیس ذکریا کی کھل کر تعریف کی اور کہا کہ : ’’میں جب وہاں گیا تو سفیر موصوف نے ایک کانفرنس میں ایسے تاجروں کو اکٹھا کیا جو پاکستانی مصنوعات میں دلچسپی رکھتے تھے۔

ہم جانتے ہیں کہ ملائیشیاء خود ایک ترقی کرتا ہوا ملک ہے اور اس اعتبار سے پاکستان سے کہیں آگے ہے، لیکن اس کے باوجود ہمارے سفیر نے مقامی تاجروں/ خریداروں سے انٹرایکشن کرکے ان کو راغب کیا کہ وہ پاکستان کا رخ کریں اور یہاں کی ارزاں مارکیٹ سے فائدہ اٹھائیں۔

پاکستان آج کل جن حالات سے گزر رہا ہے وہ آپ سب کے علم میں ہیں۔میڈیا پر دن رات ایک قسم کی ماتم گساری کا عالم طاری ہے۔ نیوز چینلوں پر گویا خوف و ہراس پروڈیوس کرنے والی فیکٹریاں نصب ہیں۔ پرانی سیاست گری خوار و زبوں ہے اور نئی پر ہر آن لعنت و مذمت کی بوچھاڑ ہو رہی ہے۔ کالم نگاری اور ماتم گساری گویاباعثِ شب بیداری ہو چکی ہے۔۔۔ ایسے میں پاکستانی عوام کو کسی سہانے خواب سے آشنا کرنا کارے دارد ہے۔

لیکن لیڈرشپ کا کام یہ ہے کہ وہ مایوسی کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں آس کا فانوس روشن کرے۔ میں سمجھتا ہوں عمران خان کے وجود میں پاکستان کو ایک ایسی ہی لیڈرشپ میسر آ گئی ہے۔ آپ نے اقبال کے وہ اردو/ فارسی کے اشعار تو سنے ہوں گے جن میں اردو میں نگہ بلند، سخن دلنواز اور جاں پرسوز کا ذکر ہے اور فارسی میں یہ شعر بھی گویا اردو شعر کا فارسی میں اَپ ڈیٹ ہے:

چہ بائید مرد را طبعے بلندے، مشربے نابے

دلِ گرمے، نگاہِ پاک سینے، جانِ بے تابے

ان کے علاوہ اقبال نے اردو میں پانچ اشعار کی ایک چھوٹی سی نظم بھی کہی ہے جس میں ’امامت‘ کو Define کیا گیا ہے۔ اقبال کا وہ مصرعہ جس میں مسلمان کو خبردار کیا گیا ہے کہ بہت جلد اس سے ’’گلوبل امامت‘‘ کا کام لیا جائے گا، اس کو بارِ دگر دیکھئے:

سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیاکی ’’امامت‘‘ کا

اور اس ’’امامت‘‘ کو نگاہ میں رکھتے ہوئے اب اس نظم پر توجہ فرمایئے:

تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے

حق تجھے میری طرح، صاحبِ اسرار کرے

ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق

جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے

موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخِ دوست

ضرور پڑھیں: جتھوں کے عزائم !!!

زندگی تیرے لئے اور بھی دشوار کرے

دے کے احساسِ زیاں تیرا لہو گرما دے

فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے

فتنہء ملتِ بیضا ہے امامت اس کی

جو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے

جی چاہتا ہے کہ اس نظم میں جن لیڈرشپ صفات کا ذکر کیا گیا ہے، اس کی کچھ تشریح بھی قارئین کے سامنے رکھوں لیکن کالم کی تنگ دامانی حائل ہے۔ البتہ اس میں ماڈرن لیڈرشپ (امامت) کی بعض ایسی خصوصیات بیان کی گئی ہیں جو آج کے پاکستان کے جوانوں کی ضرورت ہیں۔ ایک مخلص اور سچا لیڈر، عصرِ حاضر سے آپ کو کس طرح بیزار کرتا ہے، رخِ دوست کیاہے اور موت کے آئینے میں یہ رخ دکھا کر زندگی کیسے دشوار اور کٹھن ہو جاتی ہے، ایسا لیڈر احساسِ زیاں کیسے دلاتا ہے، فقر کی سان کیاہے اور اس پر چڑھ کر تلوار کس طرح تیز ہو جاتی ہے اور کوئی لیڈر مسلمانوں کو سلطانوں اور بادشاہوں کا غلام بنا کر قوم کو کس طرح مبتلائے فتنہ وفاء کرتا ہے، یہ تمام باتیں اور نکات اقبال کے کلام کی گہرائی کے حوالے سے یقیناًوضاحت طلب ہیں۔۔۔ ان پر غور کیجئے تو یہ نکات خود بخود آئینہ ہو کر آپ کے سامنے آ جائیں گے!

الغرض وزیراعظم نے اپنے سفیروں سے کہا کہ وہ ملک سے منی لانڈرنگ کی وباء ختم کرنے میں حکومت کی مدد کریں اور علاوہ ازیں تجارت کو فروغ دینے، برآمدات میں اضافہ کرنے اور باہر سے پاکستان میں سرمایہ کاری لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

مزید : رائے /کالم


loading...