راجن پور‘ 76 ٹیچرز تبدیل ‘ حکم نظر انداز ہونے پر ارکان اسمبلی کا احتجاج

راجن پور‘ 76 ٹیچرز تبدیل ‘ حکم نظر انداز ہونے پر ارکان اسمبلی کا احتجاج

جام پور (نامہ نگار)چیف ایگزیکٹو افسر تعلیم راجن پور نے 76اساتذہ کے تبادلے کرکر دیے۔ تبدیل ہو نے والے اساتذہ کو اپنی جائے تعنیاتی پر حاضری دینے کا حکم۔ تفصیل کے مطابق چیف ایگزیکٹو افسر تعلیم راجنپور مہر افتاب احمد نے حکومت پنجاب کی ہدایت کی روشنی میں اساتذہ کے تبادلے کر دیے ۔تبدیل ہو نے والوں میں ہیڈماسٹر ریخ باغووالہ۔نور حسن ریخ باغ والا سے ہائی سکول کوٹ طائر۔الطاف احمد (بقیہ نمبر30صفحہ12پر )

ہائی سکول ریخ باغوالاسے ہائر سیکنڈیری سکول داجل۔ محمد اسمعیل سون میانی سے ہائی سکول جام پور۔ میمونہ ناصر فاضل پور سے گرلز ہائی سکول نمبر دد جامپور۔ مریم فاطمہ گرلز حاجی پور سے گرلز کوٹلہ مغلان ہائی سکول۔ ناگین ثناء مڈل سکول میراں پور سے ہائر سیکنڈیری سکول کوٹ مٹھن۔ شانیہ بشیر ٹبی سولگی س گرلز ہائی سکول نمبر ایک راجن پور۔ عاشہ ریاض لعل گڑھ گرلز ہائی سکول نمبر ایک راجن پور۔ میمونہ جنید بکھر پور سے مڈل سکول اسلام پور۔ حمید خان بنگلہ اچھا سے ہائی سکول کوٹلہ عیسن ۔ محمد ذی شان مڈل سکول مڈل سکول بستی مکوڑہ سے ہائی سکول روجھان شرقی ۔حضور بخش مڈل سکول بستی پنجابی سے مڈل سکول وسیم اباد ۔ کاظم رضا بستی اسحاق سے مڈل سکول جہانگیر گبول۔ محمد ثاقب پی ایس برکت علی سے جی پی ایس بستی کورائی۔ شہزاد گوہر شاہ دوست سے مڈل سکول مڈرندان۔ ناصر علی مڈ عبدالحمید سے مڈل سکول نواں شہر۔ حفیظ احمد بکھر پور سے جی پی ایس کوٹ بودلہ۔ خدیجہ تبسم بستی میران پور شمالی سے جی پی ایس سعید اباد ۔ عمرانی جبیں بیٹ ارائیں سے جی پی ایس پیر بخش ۔ ناز نوشین جی پی ایس مرغائی سے جی پی ایس حاجی پور۔ حاجراں عزیز ہائی سکول مرغائی سے ہائی سکول کوٹلہ مغلان ۔ مدثر غفار جی پی ایس کوٹ حمل سے ہائی سکول ہڑند ودیگر76اساتذہ کو تبدیل کرکے فوری طور پر جائے تعنیاتی پر حاضر ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ دوسری طرف مبینہ طور پر دو سو اساتذہ کے قریب دو ممبر ان قومی اسمبلی اور چار ارکان صوبائی اسمبلی کی طرف سے تبادلوں کے لیے لسٹ دی تھی جن میں سے کسی ایک بھی ٹیچرز کو تبادلہ نہ ہو سکا۔ ووٹر ز کی بھاری تعداد نے ارکان اسمبلی سے شدید احتجاج کیا۔ ارکان اسمبلی نے وزیر اعلی پنجاب سے احتجاج کیا اور پالسیے کو بدلنے کے علاوہ افسران کو ہدایت جاری کر نے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...