مذہبی جماعتوں پر سیاسی رنگ غائب ،لبیک کی انٹری پھر دھڑلے ،جے یو پی میں بھی دراڑیں

مذہبی جماعتوں پر سیاسی رنگ غائب ،لبیک کی انٹری پھر دھڑلے ،جے یو پی میں بھی ...

ملتان( محمد عبداللہ سے)سال 2018 میں مذہبی جماعتیں بھی سرگرم رہیں ، مذہبی ،سیاسی سرگرمیوں ، جوڑ توڑ ، تنظیم نو کا سلسلہ عروج پر رہا ، ایم ایم اے انتخابات کے لئے دکھائی دی پھر غائب ہوگئی ، جے یوآئی ف نے ایم ایم اے کا ملین مارچ (بقیہ نمبر22صفحہ12پر )

کرایا جسے محض اپنے نام کیش کرایا جس پر دیگر تنظیموں نے شدید احتجاجی ردعمل دیا ، مرکزی جمعیت اہل حدیث کی کابینہ مستفی ہوئی جس پر نئی تشکیل ہوئی ، جے یوپی ٹوٹ پھوٹ کا شکا رہوگئی ، تحریک لبیک نے بھی عروج پکڑا تو یہ بھی دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی،قیادت اورکارکنوں کی پکڑ دھکڑ کے بعد لاتعلقی کے بیانات دیئے گئے ،جماعت اسلامی نے جنوبی پنجاب کا سیٹ اپ الگ کیا،ضلع میں بھی تنظیم نو کی گئی ، مذہبی طبقہ اور بالخصوص جے یوآئی س اپنے قائد مولاناسمیع الحق سے ، تبلیغی جماعت نامور مبلغ امیر جماعت مولاناعبدالوہاب سے محروم ہوگئی ،تحریک منہاج القرآن نے سانحہ ماڈل ٹاون کے معاملے پر جدوجہد جاری رکھی ،جماعت الدعوہ کی ذیلی سیاسی تنظیم ملی مسلم لیگ بھی وجود میں آئی اور الیکشن میں حصہ لیا ، مذہبی رہنما باہمی اختلافات کے باعث خاطرخواہ کامیابی حاصل نہ کرسکے ،مجموعی طور پر12 مختلف مذہبی جماعتوں نے مشترکہ اور انفرادی پلیٹ فارم سے 52 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیئے ، مجلس وحدت المسلمین کا تین سالہ سیٹ اپ برقراررہا ،اور جماعت اہلسنت کے تنظیمی سیٹ اپ میں مرکزی سطح پر تو تبدیلی ہوئی تاہم ملتان اور جنوبی پنجاب میں تنظیمی سیٹ اپ برقراررہا ، سال 2018 میں مذہبی جماعتوں کا اتار چڑھاو ، سیاسی سرگرمیوں ، حمایت مخالفت کاسلسلہ عروج پر رہا ، الیکشن کی گہما گہمی کے باعث ایم ایم اے کو زندہ کیا گیا جو کہ الیکشن تک اورمحض دو جماعتوں جے یوآئی ف اورجماعت اسلامی تک محدود رہی اور حسب سابق ایک بار پھر سے منظر عام سے غائب ہوگئی ،جنوبی پنجاب میں قلعہ کہنہ قاسم باغ کے انتخابی جلسہ کے بعداسے ملین مارچ کے نام پر دسمبر میں دوبارہ سے اکٹھا دکھانے ، پاورشوکرنے کی کوشش کی گئی مگر مظفرگڑھ میں جب ملین مارچ اور جلسہ کا وقت آیا تو یہ پاور شو محض جے یو آئی ف نے اپنے نام کیش کرالیا جس پر دیگر جماعتوں کا احتجاجی ردعمل سوشل میڈیا پر سامنے آیا ، اہل حدیث جماعتوں جمعیت اور مرکزی جمعیت کا غیر مشروط اتحاد اور انضمام ہوا ، جس کے بعد ملتان کی ضلعی کابینہ میں مقامی سے لیکر مرکزی سطح پر اختلافات ہوئے اور پوری کابینہ ماسوائے ضلعی ناظم کے مستعفی ہوگئی ، جس پر مرکزی امیر کی مشاورت اور ہدایت پر ضلعی امیر عبدالرحیم گجر مقررہوئے ، ضلعی ناظم کے عہدے پر علامہ عنایت اللہ رحمانی برقرارر ہے ، جے یو آئی ف ضلعی اور سٹی میں تناو کی فضا برقراررہی ،جے یوپی سے ایوب مغل ودیگر رہنما الگ ہوگئے ، جے یوپی کے دوگروپ وجود میں آئے اور ابوالخیر گروپ سے علامہ شفیق اللہ بدری کو آرگنائزر پنجاب مقرر کر کے تنظیم سازی کی ذمہ داری سونپی گئی ، تحریک لبیک سامنے آئی تو دھڑا دھڑ لوگوں نے شمولیت اختیار کی اشرف آصف جلالی کی طرف سے الگ اور خادم رضوی گروپ سے الگ الگ امید وار آمنے سامنے آگئے،جیسے ہی الیکشن ختم ہوا اور پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع ہوا تو حافظ معین خالد سمیت شجاع آباد ، جلالپور کے رہنماوں ،ٹکٹ ہولڈرزنے بھی تحریک سے لاتعلقی کا اظہارکیا اور مستعفی ہوگئے ، جماعت اسلامی نے ضلع بھر کے عہدیداران نئے منتخب کیئے ملتان سے آصف اخوانی کے بعد ڈاکٹر صفدر اقبا ل ہاشمی امیر اور صہیب عمار ناظم منتخب ہوئے ، جبکہ جنوبی پنجاب کا بھی الگ سیٹ اپ تشکیل دیاگیا اور ڈاکٹر وسیم اختر امیر جنوبی پنجاب مقرر ہوئے ،ملتان اور ضلع بھر میں جمعیت علماء اسلام سمیع الحق گروپ نے اپنے سابقہ سیٹ اپ برقراررکھے ،تاہم قاتلانہ حملے کے نتیجے میں مولانا سمیع الحق شہیدہوگئے اور جمعیت اپنے سربراہ سے محروم ہوگئی جبکہ سال 2018 میں ممتاز عالم دین ، مبلغ اور تبلیغی جماعت کے امیر مولانا عبدالوہاب بھی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ،تحریک منہاج القرآن نے اپنے تنظیمی سیٹ اپ کو برقراررکھااور سانحہ ماڈل ٹاون کیس کے حوالے سے اپنی جدوجہد جاری رکھی ، جماعت الدعوہ اپنے رہنماوں سمیت پابندیوں کا شکارر ہی اور ساتھ ذیلی سیاسی تنظیم بھی تشکیل دی گی ملی مسلم لیگ نے الیکشن میں بھرپور انداز میں حصہ لیا ، جماعت اہلسنت کے ضلعی سیٹ اپ اور صوبائی سیٹ کے عہدے برقراررہے اور پنجاب میں ملتان سے علامہ فاروق خان سعیدی ہی نظامت کے عہدے پر فائز رہے ،مجلس وحدت المسلمین نے اپنا تین سالہ تنظیمی سیٹ اپ برقراررکھا ، وفاق المدارس العربیہ کے پلیٹ فارم سے قاری حنیف جالندھری اور مولانازبیر صدیقی اور دیگر ،وفاق السلفیہ سے پر وفیسر یاسین ظفرنے ملک بھر میں تحفظ مدارس دینیہ کنونشن کا انعقاد کیا اور مشترکہ پلیٹ فارم اتحاد تنظیمات مدارس سے وزیر اعظم ودیگر وزرا سے مختلف اوقات میں میٹنگز بھی کیں ، مدارس کو اس سال کھالوں کے حصول کے لئے سخت ضابطہ اخلاق کی پابندی کا سامنا رہا ، سیاسی طور پر الیکشن میں 15 سے زائد مختلف تنظیموں نے حصہ لیا اور52 لاکھ ووٹ تیس تشستیں حاصل کیں جو کہ گزشتہ انتخابات سے کم تعداد تھی حالانکہ ووٹ زیادہ پڑے مگر باہمی اختلافات متعددامیدواروں ، جماعتی مسلکی اختلافات کے باعث مذہبی جماعتیں خاطر خواہ ووٹ حاصل نہ کرسکیں ۔

مذہبی جماعتیں

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...