حکیم محمد حسن قرشی عظیم علی اور ادبی شخصیت تھے،حکیم منصور العزیز

حکیم محمد حسن قرشی عظیم علی اور ادبی شخصیت تھے،حکیم منصور العزیز

لاہور (سٹی رپورٹر)شفاء الملک حکیم محمد حسن قرشیؒ مؤتمر عالم اسلامی کے عظیم راہنما ، علمی ، ادبی ،طبی شخصیت ہونے کے ساتھ ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ وہ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال ؒ کے معالج خاص ہونے کے علاوہ مسیح الملک حکیم اجمل خان کے شاگرد بھی تھے۔ آپ طبیہ کالج بمبئی ، انجمن حمایت اسلام طبیہ کالج لاہور کے پرنسپل بھی رہے۔ آپ کے اندر درس و تدریس کے علاوہ تصنیف و تالیف کی بھی بہترین صلاحیتیں موجود تھیں۔ آپکی اتحاد بین المسلمین کے لیے خدمات تاریخ کا درخشاں باب ہیں۔ شفا ء الملک ایک اعلیٰ پائے کے طبیب حاذق ہونے کے ساتھ ایک دانا استاد بھی تھے۔ان خیالات کا اظہار بزم قرشی پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار "شفاء الملک حکیم محمد حسن قرشیؒ بحثیت حاذق طبیب اور استاد " سے خطاب کرتے ہوئے مقررین پروفیسر حکیم منصورالعزیز سیکرٹری جنرل P.T.C ، پروفیسر حکیم وید جمیل خان نائب صدر N.C.T ، ڈاکٹر طلعت ناہید ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ طب مشرقی قرشی یونیورسٹی ، حکیم محمد احمد سلیمی چیئرمین بزم قرشی پاکستان، حکیم و ڈاکٹر بابر بن دلاور ایس ایس پی لاہور، پروفیسر حکیم اسلم طالب، پروفیسر حکیم سید عمران فیاض، پروفیسر حکیم شاہد نوید اسلم، حکیم لیاقت سعید، حکیم عبدالرحمن،حکیم جاوید رسول، حکیم حامد محمود،حکیم افضل میو، ڈاکٹر سکندر حیات زاہد ،حکیم عطاء الرحمٰن صدیقی۔ حکیم نذیر تابش، طبیبہ ماریہ مینس و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اْنھوں نے کہا کہ شفاء الملک کی زندگی ایک حقیقی استاد کی زندگی سے عبارت تھی۔ وہ مسند تدریس کے اس اعلیٰ و ارفع منصب پر فائز تھے۔ جو کہ کسی نعمت خداوندی سے کم نہ تھا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...