ایف آئی اے کی اصغر خان کیس بند کرنے کی سفارش حیران کن ہے،خرم گنڈا پور

ایف آئی اے کی اصغر خان کیس بند کرنے کی سفارش حیران کن ہے،خرم گنڈا پور

لاہور(نمائندہ خصوصی)پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ ایف آئی اے کی طرف سے اصغر خان کیس کو بند کرنے کی سفارش پر حیرت ہے،اس کا سپریم کورٹ کو نوٹس لینا چاہیے، کس نے کس سے کس مقصد کیلئے کتنے پیسے لیے یہ سب ریکارڈ پر آچکا ہے، عدالت میں گواہیاں بھی ہو چکی ہیں وہ گزشتہ روز عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹریٹ میں عہدیداروں اور کارکنوں سے گفتگو کررہے تھے۔خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ سیاست میں جعلی مینڈیٹ اور حکومت بنانے کے غیر جمہوری داؤ پیچ کے بانی نواز شریف ہیں، بنگلہ دیش میں 1971 ء کے واقعات پر فیصلے آسکتے ہیں اور پھانسیاں ہوسکتی ہیں تو پاکستان میں 90 ء کی دہائی کی بدعنوانیوں پر کارروائی کیوں نہیں ہو سکتی؟ خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کی پروڈکٹ تھے، وہ پہلی بار الیکشن لڑ کر نہیں نامزدگی کے نتیجے میں پنجاب کے وزیر خزانہ بنے اور پھر اسٹیبلشمنٹ کی انگلی پکڑ کر اقتدار کی منزلیں طے کرتے رہے، اصغر خان کیس اس کا ایک ناقابل تردید ثبوت ہے، انہوں نے کہا کہ شریف برادران نے 90ء کی دہائی سے قبل منی لانڈرنگ اور ناجائز اثاثے بنانے شروع کر دئیے تھے اگر ان 26سال پرانے کیسز پر 2018 ء میں فیصلے آسکتے ہیں تو اصغر خان کیس پر کیوں نہیں؟اصغر خان کیس پر کارروائی کا حکم سپریم کورٹ نے دیا تھا، اس پر عمل ہونا چاہیے اور قومی خزانے کی لوٹ مار میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچنا چاہیے۔

خرم گنڈا پور

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...