2018ء ، 2487ء میگا واٹ کے 3منصوبے مکمل

2018ء ، 2487ء میگا واٹ کے 3منصوبے مکمل

لاہور(نیوز رپورٹر)واپڈا نے سال 2018 ء میں پانی اور پن بجلی کے شعبوں میں اہم اہداف حاصل کرتے ہوئے اپنی ماضی کی عظمت دوبارہ حاصل کرنے کی جانب تیزی سے پیش رفت کی۔واپڈا نے 2018 ء میں 2 ہزار 487میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے تین میگامنصوبوں کو مکمل کیا ، اِن منصوبوں میں گولن گول ، تربیلا کا چوتھا توسیعی منصوبہ اور نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ شامل ہیں۔ یہ تینوں منصوبے طویل عرصہ سے تاخیرکا شکار تھے۔ رواں سال اِن منصوبوں کی تکمیل کی بدولت واپڈا کی پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں صرف ایک سال میں 36 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 9 ہزار 389 میگاواٹ ہو گئی ہے۔ قبل ازیں 1958ء میں اپنے قیام سے 2017 ء تک 59 برس میں واپڈا کی پن بجلی پیداکرنے کی صلاحیت6 ہزار 902 میگاواٹ تک پہنچ سکی تھی جہاں تک قومی نظام کو پن بجلی کی فراہمی کا تعلق ہے ، واپڈا نے سال 2018 ء4 میں دریاؤں میں پانی کی کم آمد کے باوجود نیشنل گرڈ کو 25 ارب 63 کروڑ یونٹ سستی اور ماحول دوست پن بجلی مہیا کی۔جس کی وجہ سے ملک میں بجلی کی ضروریات پورا کرنے اور صارفین کے لئے بجلی کے نرخ کم کرنے میں مدد ملی ہے پن بجلی کی پیداوار پاکستان کی معاشی اور معاشرتی ترقی میں کتنا اہم کردار ادا کرتی ہے ، اِس بات کا اندازہ مختلف ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کی فی یونٹ لاگت سے لگایا جاسکتا ہے۔ پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کے 2017۔18ء4 کے اعداد و شمار کے مطابق پانی سے بجلی پیدا کرنے پر فی یونٹ2 روپے 22 پیسے لاگت آئی جو باقی تمام ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت سے بہت کم ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گیس سے فی یونٹ بجلی پیدا کرنے پر 8 روپے 91 پیسے ، فرنس آئل سے 16 روپے 16 پیسے ، ہائی سپیڈ ڈیزل سے 16 روپے 45 پیسے ، کوئلہ سے 10 روپے 89 پیسے، نیو کلیئر سے 8 روپے 78 پیسے، ہوا سے 16 روپے 35 پیسے ، گنے کی پھوک سے 8 روپے 60 پیسے، سورج کی روشنی سے 16 روپے 83 پیسے اور آر ایل این جی سے بجلی کا ایک یونٹ پیدا کرنے پر 11 روپے 30 پیسے لاگت آئی ، جبکہ ایران سے درآمد کی جانے والی بجلی پر فی یونٹ 10 روپے 67 پیسے پیداواری لاگت برداشت کرنا پڑی پن بجلی کے شعبہ میں نمایاں پیش رفت کے ساتھ ساتھ سال 2018 ء4 میں واپڈا نے ملک میں بڑے ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے بھی اہم اہداف حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔یہ اہداف حاصل کرنے کی وجہ سے واپڈا پاکستان میں دو بڑے ڈیمز کی تعمیر شروع کرنے جارہا ہے۔مہمند ڈیم پر تعمیراتی کام کا آغاز اگلے ماہ شروع کر دیا جائے گا۔ 1970ء4 کی دہائی میں مکمل ہونے والے تربیلا ڈیم کے بعد گزشتہ 5 عشروں کے دوران مہمند ڈیم وہ پہلا میگاڈیم ہے جس پر تعمیراتی کام کا آغاز کیا جارہا ہے۔ اسی طرح دیا مر بھاشا ڈیم جیسے عظیم منصوبے کی تعمیربھی 2019 ء4 کے وسط تک شروع ہو جائے گی۔ مہمند ڈیم اور دیا مر بھاشا ڈیم میں مجموعی طور پر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 9 اعشاریہ 3 ملین ایکڑفٹ ہے جبکہ دونوں ڈیمز سے مجموعی طور پر 5 ہزار 300 میگاواٹ سستی پن بجلی بھی حاصل ہوگی۔

مزید : کامرس


loading...