بیرونی ترسیلات زر میں بھارت کاپہلاپاکستان کا ساتواں نمبر

بیرونی ترسیلات زر میں بھارت کاپہلاپاکستان کا ساتواں نمبر

واشنگٹن (اے پی پی)بیرونی ممالک سے رقوم کی ترسیل کئی ترقی پذیر ممالک کی معیشت میں کلیدی اہمیت کی حامل ہے، 2018ء میں بیرون ملک آباد شہریوں کی اپنے وطن بھیجی گئی رقوم ترقی پذیر ممالک کو بھیجی گئی کل رقوم کا نصف سے بھی زائد بنتی ہیں، بھارت میں اس برس 80 ارب ڈالر کی رقوم دیگر ممالک سے منتقل ہوئیں جو کہ گزشتہ برس کی نسبت15 فیصد زائدہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق اس اضافے کی ایک بڑی وجہ کیرالا میں شدید سیلاب بھی بنے جن کے بعد بیرون ملک مقیم بھارتی شہریوں نے اپنے اہل خانہ کی مدد کے لیے اضافی رقوم بھجوائیں،چین میں بیرونی ممالک سے اس برس 67.4 ارب ڈالر بھیجے گئے۔ اس برس بھی دیگر ممالک میں مقیم چینی شہریوں کی جانب سے وطن بھیجی گئی رقوم براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سے زیادہ رہیں۔رواں برس میکسیکو میں دیگر ممالک سے 33.7 بلین ڈالر بھیجے گئے، جن میں سے زیادہ تر تارکین وطن نے بھیجے تھے۔چوتھے نمبر پر فلپائن ہے جہاں اس برس دیگر ممالک میں مقیم فلپائنی شہریوں نے 33 ارب ڈالر بھیجے۔گزشتہ برس کی نسبت 14 فیصد اضافے کے ساتھ مصر کے تارکین وطن شہریوں نے 25.7 ارب ڈالر واپس اپنے وطن بھیجے۔چھٹے نمبر پر افریقی ملک نائجیریا ہے جہاں اس برس 25.1 ارب ڈالر بھیجے گئے،رواں برس پاکستان کو دیگر ممالک سے قریب 21 ارب ڈالر موصول ہوئے جو گزشتہ برس کی نسبت 6.2 فیصد زیادہ ہیں۔ زیادہ تر بیرون ملک آباد پاکستانی شہریوں کی جانب سے بھیجی گئی یہ رقوم ملکی جی ڈی پی کا 6.9 فیصد بنتی ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق اس برس سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں سے پاکستان بھیجی جانے والی رقوم میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 26 فیصد کمی ہوئی۔ آٹھویں نمبر پر یوکرین ہے جہاں اس برس بیرون ملک آباد یوکرینی باشندوں اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی مد میں 16.5 ارب ڈالر بھیجے گئے۔ 2018ء کے دوران بنگلہ دیش میں بیرون ملک سے 16 ارب ڈالر بھیجے گئے۔ اس برس بنگلہ دیش میں بھی خلیجی ممالک سے بھیجی جانے والی رقوم میں ایک چوتھائی کمی دیکھی گئی۔ورلڈ بینک کے مطابق دسویں نمبر پر ویتنام ہے جہاں رواں برس 15.9 ارب ڈالر دیگر ممالک سے منتقل کیے گئے۔

مزید : کامرس


loading...