سندھ میں سیاسی جوڑ توڑ عروج پر تحریک انصاف حکومت گرانے ، پیپلز پارٹیبچانے کیلئے متحرک، وزیر اعظم نے فواد چوہدری کو خصوصی ٹاسک دیدیا

سندھ میں سیاسی جوڑ توڑ عروج پر تحریک انصاف حکومت گرانے ، پیپلز پارٹیبچانے ...

کراچی (سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) منی لانڈرنگ اور جعلی بنک اکاؤنٹس کے حوالے سے جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد سندھ میں سیاسی جوڑ توڑ عروج پر پہنچ گیا ۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے استعفے کے حوالے سے پی ٹی آئی کا مطالبہ مسترد کئے جانے کے بعد تحریک انصاف اور کی اتحادی جماعتیں سندھ حکومت گرانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہیں ہیں، اور سندھ میں پیپلز پارٹی کا فارورڈ بلاک بنانے کی کوششین کی جا رہی ہیں، ساتھ ساتھ سندھ میں گورنر راج نافذ کئے جانے کی باتین بھی زبان زط عام ہیں ۔ دوسری طرف گورنر عمران اسمٰعیل بھی فارورڈ بلاک بنانے میں متحرک ہوگئے۔سندھ کے علاقے گھوٹکی کے راجہ پیلس پر گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے مہر برادران سمیت مختلف مکتبہ فکر، سماجی کارکنان اور تاجر برادری کے لوگوں سے ملاقات کی۔س دوران گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ ملک میں احتساب کا عمل جاری ہے اور احتساب سب کا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ گھوٹکی کا سندھ کی آمدن میں ایک بڑا حصہ ہے لیکن اسے کچھ نہیں دیا گیا، یہاں جامعات، کالجز اور ہسپتال ہونے چاہیئے تھے۔س موقع پر سماجی کارکن شائستہ کھوسو نے گورنر سندھ سے مطالبہ کیا کہ اس علاقے کی خواتین بہت ہنر مند ہیں، ان کے لیے بھی کچھ منصوبے لائے جائیں۔اس موقع پر سردار علی گوہر خان مہر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اور صدر ڈاکٹر عارف علوی بھی ان کی دعوت پر گھوٹکی آئینگے۔علاقے کے مسائل پر بات کرتے ہوئے سردار علی گوہر خان مہر نے گورنر سندھ کو بتایا کہ اس علاقے کے پاس ساڑھے 10 ارب روپے کی رائلٹی ہے، لیکن صوبائی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے عوام کو ریلیف نہیں دیا جارہا،ان کا مزید کہنا تھا کہ اس علاقے میں صحت اور تعلیم کی سہولیات موجود نہیں ہیں، 18ویں ترمیم سے عوام کو فائدہ نہیں پہنچ رہا۔ملاقات کے دوران موجود تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے بھی جعلی اکاؤنٹس کیس میں وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل میں ڈالے جانے کے بعد ان سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ اب اخلاقی طور پر مراد علی شاہ کو وزارتِ اعلیٰ کے منصب سے استعفیٰ دے دینا چاہیے عمران اسماعیل نے ہارس ٹریڈنگ کو کرپشن جیسا برا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف سندھ میں ایسی کوئی کوشش نہیں کرے گی ٗپیپلز پارٹی اپنے اْن ایم پی ایز کو سنبھالے جو فارورڈ بلاک بنانے جا رہے ہیں۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ ڈاکٹر عمران اسماعیل نے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ کرپشن ہی ہے۔انہوں نے کاکہ ہارس ٹریڈنگ نہیں ہونے دیں گے، وفاقی وزیر فیصل وا وڈا نے دعوی ٰکیا ہے سندھ میں پیپلزپارٹی کے اندر فاروڈ بلاک یقینی ہے ، فاورڈ بلا ک میں 20سے 26ارکان جاسکتے ہیں ، بالفرض سندھ حکومت بچ بھی گئی تو نئے وزیراعلی کانام بھی شاہ ہی ہوگا ۔ فیصل وواڈا نے گورنر سندھ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور انھیں صوبے کی سیاست کے حوالے سے اہم امور سے آگاہ کیا،فیصل واڈا نے بتایا انہوں نے گورنر سندھ کو کہا ہے اپنی دوسری مصروفیات کم کریں کیونکہ ذمہ داریاں آ سکتی ہیں۔ صدر مملکت کے گھر بھی اہم میٹنگ ہو گی، اس حوالے سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو بھی اہم چیزوں سے آگاہ کر دیا ہے۔، دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے فواد چوہدری کوصوبہ سندھ کے حوالے سے خصوصی ٹاسک دیدیا۔و ز یر اطلاعات آج کراچی کا دورہ کریں گے جہاں وہ سندھ کے مختلف رہنماؤں سے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال اوروزیراعظم کا پیغام پہنچائیں گے۔ فواد چوہدری کے سندھ میں اپنے اتحادیوں سے رابطے جاری ہیں اور ملاقاتیں طے پا گئی ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ وہ کراچی، بدین، سکھر اور لاڑکانہ کا دورہ کریں گے جس کے دوران پیر پگاڑا، لیاقت جتوئی، ذوالفقار مرزا ، فہمیدہ مرزا، ایاز پلیجو اور دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ دورہ سندھ میں اتحادیوں کے ساتھ مشاورت میں سندھ کے معاملات پر اتفاق رائے پیدا کروں گا، پیپلز پارٹی کسی اور کو وزیر اعلیٰ بنالے تو کوئی اعتراض نہیں ہوگا، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ جعلی اکاؤنٹس کیس اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی میں مرکزی ملزم ہیں اس لیے وہ مستعفی ہوجائیں۔ دوسری جانب جی ڈی اے کی جانب سے اندرون سندھ پییلزپارٹی کیخلاف تحریک چلانیکی تجویزدی گئی جبکہ زیراعلیٰ سندھ کیخلاف عدم اعتمادکی تحریک لانے پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے کہٓ آصف زرداری کی ممکنہ گرفتاری پر پی پی کے دھڑے بن سکتے ہیں ، انھوں نے دعویٰ کیاکہ پیپلزپارٹی کے 22 ایم پی ایزرابطے میں ہیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی نے کہا ہے کہ سندھ میں قیادت کی تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے، سندھ میں ایسا وزیراعلی ہونا چاہیے جو زیرتفتیش نہ ہو۔ افتخار درانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو خود سوچنا چاہیے حکومت کیسے چلانی ہے، جمہوریت کا اپنا ایک عمل ہے اور احتساب اسکا حصہ ہے، احتساب کا عمل جمہوریت کو مضبوط کرتاہے۔ افتخار درانی نے سوال اٹھایا کہ بنا پیسہ جمع کروائے سمٹ بینک کیسے بنا دیا گیا، یہ بتایا جائے نیشنل بینک سے کیسے پیسے لیے گئے، مراد علی شاہ نے بطور وزیراعلی اوروزیرخزانہ سہولت کارکا کردار کیسے ادا کیا۔ ادھر سندھ میں سند حکومت گرانے اور پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے کی متحدہ مجلس عمل نے مخالفت کردی ہے حکومت سے ناراض تحریک لبیک نے بھی سندھ میں اقتدارکی رسہ کشی کا حصہ بننے سے معذرت کرلی سندھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کی تعداد 68 ہے تحریک لبیک کے 3 ارکان اورمتحدہ مجلس عمل کے ایک رکن اسمبلی ہیں ان کے انکار کے بعد اپوزیشن ارکان کی تعداد 64 رہ گئی ہے جبکہ پیپلزپارٹی کی حکومت گرانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کوکم ازکم 85 ارکان کی ضرورت ہوگی

جوڑ توڑ

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں )پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی گرفتاری خطرناک کھیل ہوگا اور اگر ایسا کیا گیا تو اس سے ملک افراتفری کا شکار ہوگا۔میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان ملک میں بحران اور غیریقنی صورتحال پیدا کر رہے ہیں، انہوں نے سیاستدانوں کی گرفتاری کے علاوہ کچھ نہیں کیا اور ان سے وہ کام کرائے جا رہے ہیں جو کوئی سیاستدان نہ کرتا۔خورشید شاہ سے صحافیوں نے بلاول بھٹو زرداری کی گرفتاری سے متعلق سوال کیا جس پر ان کا کہنا تھا کہ بلاول کی گرفتاری کے لیے دل گردہ چاہیے، انہیں گرفتار کرنا ممکن نہیں لیکن موجودہ حکومت سے کچھ بعید بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں ان ہاؤس تبدیلی ممکن نہیں کیوں کہ مفروضوں کی بنیاد پر کیسز بنائے گئے ہیں اور سندھ میں گورنر راج لگانا ممکن نہیں، آئین و قانون میں اس کی کوئی گنجائش نہیں، مارشل لاء کے ذریعے آئین ختم کر کے گورنر راج لگایا جاسکتا ہے۔پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نے کہا کہ گورنر راج کا نفاذ ملک کے لیے بہتر نہیں ہوگا، آئین وفاق کی مضبوطی کی ضمانت ہے اور اگر آئین کو چھیڑا گیا تو پاکستان کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوگا۔خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ملک میں ون پارٹی سسٹم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور لگتا ہے کہ سویلین مارشل لاء لگانے کی جانب جایا جارہا ہے اور جس طرح کی سیاست آج ہورہی ہے اس سے ایک پارٹی کو مضبوط اور دیگر کو کمزور کیا جارہا ہے۔خورشید شاہ نے اشاروں کنایوں میں کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ایسے ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے، اس کھیل کے اثرات کے ذمہ دار یہ لوگ ہوں گے، غیر قانونی اقدام سے یہ آئین اور قانون کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما کا کہنا تھا کہ عمران خان عوامی مینڈیٹ سے اقتدار میں نہیں آئے بلکہ انہیں لایا گیا ہے اور انہیں جیسے لایا گیا وہ سب جانتے ہیں۔خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان ناکامی چھپانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں سے بیلنس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں ان سے وعدوں کے بارے میں کوئی سوال نہ کرے۔مشیر اطلاعات سندھ مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ پانچ مہینوں کے دوران حکومتی کارکردگی نے ثابت کردیا کہ تحریک انصاف تباہی کا نام ہے، باتیں بہت کرلیں یہ تھوڑا کام کرلیں ورنہ لوگ انہیں جوتے ماریں گے۔کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرتضی وہاب نے کہا کہ پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک کی باتیں دس گیارہ سال سے چل رہی ہیں لیکن وقت نے ثابت کیا کوئی ایم پی اے پیپلز پارٹی کی قیادت کو چھوڑ کر نہیں گیا۔مرتضی وہاب نے کہا کہ سندھ حکومت ہماری رہے گی، فارورڈ بلاک کی باتیں بالکل غلط ہیں، ایسی باتیں کرنے والے سوچیں وفاق میں ان کی حکومت صرف 4 ایم این ایز پر ہے اور اگر یہ چار ایم این ایز ادھر ادھر ہوجائیں تو ان کا وزیراعظم بچ نہیں پائے گا۔وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے اطلاعات ، قانون اور اینٹی کرپشن بیرسٹر مرتضیٰ وہا ب اور سندھ کے وزیر برائے ورکس اینڈ سروسز ، سید ناصر حسین شاھ نے اتوار کے روز بلاول ہاؤس کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی طرف سے جاری غیر جمہوری ہتھکنڈوں کو سندھ حکومت پر یلغار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے اور عوام کے مسائل کو اجاگر کرتے رہیں گے اگر سندھ پر یلغار کی گئی تووفاقی حکومت بھی نہیں رہے گی ، انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زردار ی نے جرات کے ساتھ بھرپور طریقے سے پارلیمینٹ میں وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں ، غیر جمہور ی طرز حکمرانی اور عوام دشمن پالیسیوں کو بے نقاب کیا ہے ، جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کی قیادت کے نام ای سی ایل میں شامل کئے گئے ہیں تاکہ وہ دباؤ میں آسکیں۔انہوں نے کہا کہ ای سی ایل میں ان وزراء اور سیاسی شخصیات کے نام بھی شامل کئے گئے ہیں جن کا جے آئی ٹی رپورٹ میں تذکرہ ہی نہیں ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور سابق و زیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سمیت سندھ کے کسی بھی وزیر کو جے آئی ٹی نے طلب نہیں کیا۔اگرمحض تحقیقات کی بنیاد پر نام ای سی ایل میں شامل کئے جاتے ہیں تو وزیر اعظم عمران خان ، وزیراعلیٰ کے پی کے ، وزیر دفاع پرویز خٹک اور علیم خان ودیگر کے نام ای سی ایل میں کیوں نہیں شامل کئے گئے تھے،

مزید : صفحہ اول


loading...