صوبے میں جرائم کی شرح میں 110 فیصد اضافہ ،لاہور سرفہرست سیاسی پشت پناہی والے پولیس افسران مجرموں کو تحفظ دینے لگے

صوبے میں جرائم کی شرح میں 110 فیصد اضافہ ،لاہور سرفہرست سیاسی پشت پناہی والے ...

لاہور (رپورٹ : یو نس باٹھ ) ایک خفیہ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں جرائم کی شرح میں 110 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سیاسی پشت پناہی رکھنے والے بعض پولیس افسران اور اہلکار بھی اشتہاریوں کو تحفظ دے رہے ہیں۔ کئی خطرناک مجرموں کو بھی ملی بھگت کرکے چھوڑ دیا گیا ہے۔ جرائم کی شرح کے حوالے سے لاہور سرفہرست ہے جبکہ فیصل آباد دوسرے، ملتان تیسرے، راولپنڈی چوتھے، ڈیرہ غازی خان پانچویں، اوکاڑہ چھٹے اور گجرات ساتویں نمبر پر ہے۔ پنجاب میں روازانہ 150 سے 200 گاڑیاں، 500 سے 600 موٹر سائیکل اور 3 ہزار سے زائد موبائل فونز چھینے جا رہے ہیں۔ 2017ء کے مقابلے میں 2018ء میں پنجاب میں کرائم کی شرح میں مجموعی طور پر 7 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ صوبائی دارالحکومت میں کرائم کی شرح میں 8 فیصد تک اضافہ ہوا ہے جس سے محکمہ پولیس کی کارکردگی بہتر ہونے کے دعووں کا پول بھی کھل گیا ہے گوجرانوالہ میں اجتماعی بداخلاقی کی وارداتوں میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے اجتماعی بداخلاقی کی وارداتوں میں لاہور میں 75 فیصد، ڈی جی خان میں300 فیصد راولپنڈی میں 18 فیصد اور سرگودھا میں 17فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈکیتی مزاحمت پر قتل کی وارداتوں میں گوجرانوالہ میں 44فیصد، سرگودھا میں10فیصد، ملتان میں 33فیصد، فیصل آباد میں 14فیصد اضافہ ہوا ہے پولیس رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 25دسمبر2018تک 2017کے مقابلے میں 23ہزار کے قریب زیادہ وارداتیں ہوئی ہیں 2015میں پنجاب میں مجموعی طور پر 3لاکھ 72ہزار 678وارداتیں ہوئی ہیں جبکہ 20دسمبر 2016تک وارداتوں کی تعداد 3لاکھ 95ہزار 973تک پہنچ چکی ہے۔ 2015میں لاہور میں 84ہزار 375وارداتیں ہوئی ہیں جبکہ 20دسمبر 2016تک 90ہزار 701وارداتیں ہوئی ہیں اور مجموعی طور پر 6ہزار 326وارداتیں زیادہ ہوئیں ہیں شیخوپورہ ریجن میں مجموعی طور پر 26فیصد وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے ۔پولیس کے اعدادوشمار کے مطابق پنجاب بھر میں ایک سونوے خواتین قتل ہوئیں، ایک سواکیاسی کو بد اخلاقی اورانتالیس کو گھریلو تشدد کانشانہ بنایا گیا۔دفاتر اوردیگر مقامات پر ہراساں کرنے کے چونتیس سو پانچ واقعات رپورٹ ہوئے، متعدد پرتیزاب پھینکا گیا، ڈی آئی جی آپریشنز وقاص نذیر کا کہنا ہے کہ خواتین پر تشدد کے واقعات میں سماجی وجوہات کی بنا پر اضافہ ہوا ہے ۔رواں سال 17 ہزار خواتین نے خلع کی ڈگریوں کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا۔ فیملی عدالتوں نے 13 ہزار خواتین کو خلع کی ڈگریاں جاری کیں۔ 6 ہزار سے زائد خلع کے کیسز زیر سماعت ہیں۔ دوسری جانب محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ جرائم کی شرح میں اضافے سے متعلق رپورٹس اعلیٰ حکام کو پیش کر دی جاتی ہیں۔ صوبے میں امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔

جرائم کی شرح میں اضافہ

مزید : صفحہ اول


loading...