چوری اور ہیراپھیری

چوری اور ہیراپھیری

میرے معزز پاکستانیوں کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی چور نے یہ مانا ہے کہ اُس نے چوری کی ہے ۔ نہیں نہ تو پھر کیسے ہم لوگ یہ بھول گئے کہ اتنے بڑے مگر مچھ کیسے یہ مان لیں گے کہ انہوں نے منی لانڈرنگ کی ہے۔ ملکی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے۔ ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کیا ہے کہتے ہیں نا کہ ’’چور چوری سے جائے پر ہیرا پھیری سے نہ جائے۔‘‘ یہاں ملک کے عوام کو اس جگہ پر پہنچانے والے اُن افراد کی نشاندہی ہوچکی ہے جنہوں نے ہر شعبہ ہر محکمہ سے اپنی سوچ سے بڑھ کر اس ملک کو نقصان پہنچانے کا ارادہ کررکھا تھا اور وہ لوگ کامیاب بھی ہوئے پر کہتے ہیں کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے ایسا ہی کچھ ان افراد کے خلاف ہونے والا ہے۔ جنہوں نے ملک کی بدنامی میں اپنا موثر کردار ادا کیا۔ ملک میں احتساب کی ہوا کیا چلی بڑے بڑے مگر مچھوں اوہ سوری بڑے بڑے شریفوں کے نام منظر عام پر آنے لگے۔ نام آتے کیوں نہ آخر یہ نام ان اداروں کی طرف سے یا تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد جاری کیے گئے ہیں جنہوں نے انہی اداروں میں رہتے ہوئے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ملکی خزانے کو، ملک کو،عوام کو نقصان پہنچایا ہو۔ منی لانڈرنگ ہو یا تھر میں غذائی قلت صحت ہو یا اس سے متعلق کوئی ایشو پانی کا مسئلہ ہو یا پھر کرپٹ لوگوں کی پشت پناہی۔ جس کا ہاتھ پڑا اُسی شخص نے ملک کے درودیوار کو معاشی طور پر کھوکھلا کرنے کی کوششیں کی۔ اب جب کہ ان 172افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالے جا چکے ہیں۔کئی نام ایسے بھی سامنے آئے جن کے خلاف تحقیقات پہلے بھی ہوتی رہیں ہیں اور جاری بھی ہیں کئی افراد کے نام مختلف کیسوں میں ابھی تک چل رہے ہیں۔ ان افراد میں صوبہ سندھ کے بیشتر نام شامل ہیں جن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، فریال تالپور، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سابقہ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور اس پارٹی کے کئی ایسے جانے پہچانے نام شامل ہیں جن کے پاسپورٹ شناختی کارڈ ضبط ہوچکے ہیں اور اداروں نے ان کے خلاف عدالتی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اربوں کھربوں کی کرپشن میں ملوث ان 172افراد پر سفری پابندی کیا لاگو ہوئی ان لوگوں نے ان الزامات کو ماننے سے انکار ہی کردیا مگر میں نے جیسے اوپر پہلے ہی لکھا ہے کہ چور نے کبھی مانا ہے کہ اُس نے چوری کی ہے تو ہم نے کب کہا میاں کہ آپ نے چوری کی ہے آپ نے تو کروائی ہے آخر آپ نے اسی مجبور و بے بس عوام کے خون پیسوں کی کمائی کو ناجائز طریقے سے اپنی کمائی میں شامل کرکے حکومت اور عوام کو ماموں بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ لوگوں کے نام آج ای سی ایل میں شامل ہیں تو پھر احتساب تو ہوگا اور کیس بھی چلے گا۔ آج وہ دن نہیں کہ جب آپ اپنی مرضی کے فیصلے کروایا کرتے تھے۔

آج جو صوبہ سندھ کی حالت ہے اس پر رونے کے علاوہ اور کچھ کرنا بنتا بھی نہیں کیوں کہ عوام کو جینے کی سزا دی جا رہی ہے ،تھر کی عوام بھوک و پیاس میں مر رہی ہے غذائی قلت کے باعث سینکڑوں بچے مر چکے ہیں اور ہزاروں مرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں کہ کب اس صوبہ کے وفادار ان بچوں کے لہو سے اپنے ہاتھ صاف کریں گے،آپ چاہے گندم کی خریداری میں گھپلہ کروائیں یا چینی کی قیمتیں بڑھوائیں،

آپ کو غریب کے مرنے سے غرض نہیں،اُن کے علاج سے غرض نہیں،اُن کی بھوک و پیاس سے غرض نہیں،اُن روتے بلکتے بچوں کی آہوں ،سسکیوں سے غرض نہیں آپ کو غرض ہے تو اپنے بینک اکاؤنٹ سے،اپنے بچوں سے،اُن کے بہتر مستقبل سے،ان کے کاروبار سے ہے اس کے لیے آپ کو چاہے کسی کو مارنا پڑے یا مروانا پڑے آپ کے لیے کوئی بڑی بات نہیں۔

اب جب کہ مراد علی شاہ وزیر اعلیٰ سندھ کے استعفیٰ کی صدائیں گونج رہی ہیں اور سندھ اسمبلی سے لے کر قومی اسمبلی تک ،کراچی سے خیبر تک ان 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی آوازیں باز گشت کر رہی ہیں تو ایسے میں پیپلز پارٹی کے صدر ،چیئرمین اور مراد علی شاہ دیدہ دلیری سے اپنا دفاع کرتے نظر آ رہے ہیں حالانکہ انہیں چاہیے تھا کہ نام ای سی ایل میں آتے ہی اپنا استعفیٰ دے کر خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے مگر ایسا وہ کرتے ہیں جنہوں نے ملکی خزانے کو نقصان پہنچایا ہو،عوام کو خون کے آنسو نہ رلایا ہو،کروڑوں ،اربوں کے ٹھیکے من پسند افراد کو دے کر ان سے کمیشن وصول نہ کی ہواور سارا پیسہ باہر کے ممالک ٹرانسفر نہ کیا ہو، اداروں نے طے کر رکھا ہے کہ چاہے کچھ ہو جائے ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانی ہے اور ملک کو آئی ایم ایف سے قرضہ لے کر اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی بجائے ان افراد سے حاصل ہونے والی رقم سے ملکی خزانے کو بھرا جائے،اور ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا جاےئے اس کے لیے کسی پارٹی کا صدر ہو یا چیئرمین،وزیر ہو یا وزیر اعلیٰ سب کو احتساب کے کٹہرے میں لا کر بلا امتیاز کاروائی کی جائے گی۔

مزید : رائے /کالم


loading...