شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر نے عوامی خدمت کے 24سال مکمل کر لیے

شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر نے عوامی خدمت کے 24سال مکمل کر ...

شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر ، عمران خان کی اپنی والدہ سے محبت کی ایسی نشانی ہے جس کی مثال دنیا بھر میں اور کہیں نہیں ملتی۔ 1985میں عمران خان کی والدہ، شوکت خانم، کینسر کے مرض کے باعث انتقال کر گئیں۔اس بیماری کے دوران والدہ کو علاج کی خاطر ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال اور ڈاکٹرزکے پاس لے جانے کے عمل میں عمران خان کو کینسر کے مریضوں اور ان کے خاندانوں پر گزرنے والی تکالیف کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ان مستحق مریضوں کی تکالیف کو دور کرنے کے لیے انہوں نے اپنی والدہ کی یاد میں ایک ایسا کینسر کا ہسپتال بنانے کا خواب دیکھا جہاں کینسر کے علاج کی جدید ترین سہولیات تمام مریضوں کو اس بات سے قطع نظر کے وہ علاج کے اخراجات ادا کر سکتے ہیں یا نہیں ، فراہم کی جائیں۔ اس ہسپتال کے قیام سے قبل ، پاکستان بھر میں کینسر کے علاج کی سہولیات انتہائی نا کافی تھیں ۔ علاج کے ساتھ ساتھ ، تشخیصی سہولیات کی کمی کی وجہ سے قابلِ علاج کینسر بھی ایڈوانس سٹیج پر تشخیص ہوتے تھے اور اس وقت علاج کے لیے بہت دیر ہو چکی ہوتی تھی۔ اس وقت جب وطنِ عزیز میں کسی شخص کو کینسر تشخیص ہونے کا مطلب صرف اور صرف موت تھا، عمران خان نے پاکستان کے پہلے کینسر ہسپتال کی تعمیر کا ارادہ کیا۔

ہسپتال کی تعمیر شروع کرنے کے لیے 1989میں ملک بھر فنڈریزنگ مہم اور دنیا بھر میں 50سے زائد مختلف شہروں میں فنڈ ریزنگ ایونٹس کا آغاز کیا گیا۔ اس مہم میں سوسائٹی کی تمام طبقات نے بڑ ھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 1994میں جب ہسپتال کی تکمیل اور آغاز کے لیے اضافی رقم کی ضرورت پڑی تو عمران خان نے اس رقم کے حصول کے لیے بڑے پیمانے پر عوامی رابطہ مہم کے دوران 27شہروں کا سفر کیا۔ اس سفر کے دوران انہیں عوام کی طرف سے بے انتہا تعاون حاصل ہوا ۔ عوام کے اس بیمثال تعاون، محبت، اعتماد اور سخاوت کی بدولت 29دسمبر 1994 کو پہلے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر کے دروازے مریضوں کے لیے کھول دیے گئے۔

آج، شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر لاہور نے غریب کینسر کے مریضوں کی خدمت کے24سال کامیابی سے مکمل کر لیے ہیں۔ کینسر کے مریضوں کے علاج پر اب تک 32ارب روپے (371ملین ڈالر)سے زائد کی رقم خرچ کی جاچکی ہے اور یقیناً یہ سب پاکستان کو لوگوں کی غیر مشروط مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

رواں برس شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر لاہور کوجوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل کی جانب سے صحت کے شعبے میں بین الاقوامی معیارقائم اور برقرار رکھنے پر "گولڈ سیل آف اپروول" سے نوازا گیا ہے ۔ گولڈ سیل آف اپروول مریضوں کی دیکھ بھال کے ضمن میں کسی بھی ہسپتال میں رائج اعلیٰ ترین پیمانوں اور مریضوں کی معیاری دیکھ بھال کے ضمن میں ہسپتال کی انتظامیہ کے عزم کی علامت ہے۔

معیاری سہولیات کی متواتر فراہمی میں ممکنہ کمی کا خطرہ ہر وقت رہتا ہے ، خاص طور پر اس وقت جب زیادہ تر لوگوں کو یہ معیاری سہولیات مفت فراہم کی جارہی ہوں ، لاہور ہسپتال میں مریضوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر یہ ضروری ہو گیا ہے تھا کہ ہم موجودہ سہولیات میں مزید اضافہ کریں ۔ لہٰذا سال 2015ء میں اس مسئلے کو حل کرنے اور خیبر پختوخواہ سے آنے والے کینسر کے مریضوں کو ان کے گھر سے قریب ترین علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پاکستان کے دوسرے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر کا آغاز کیا گیا۔

پشاور کے شوکت خانم کینسر ہسپتال نے کینسر کے مریضوں کومعیاری علاج فراہم کرتے ہوئے اپنی خدمت کے تین سال مکمل کرلئے ہیں۔یہاں کام کرنے والے کنسلٹنٹ فزیشنزکے ساتھ ساتھ ان پیشنٹ اور کیمو تھراپی بیڈز کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔ سال 2019کے آغاز میں یہاں تمام جدید ترین آلات اور ٹیکنالوجی سے لیس نئے ریڈی ایشن اونکالوجی ڈپارٹمنٹ کا آغازہو چکا ہو گا۔ اس کے ساتھ ہی یہاں نئے آپریشن روم بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں جن میں 2020تک سرجیکل سروسز فراہم کی جا سکیں گی۔

اس حقیقت کے باوجود کہ لاہور اور پشاور کے دونوں ہسپتال اپنی تمام تر گنجائش کے ساتھ کینسر کے مریضوں کو علا ج کی خدمات فراہم کر رہے ہیں، اس وقت سندھ اوربلوچستان کے ہزاروں کینسر کے مریض مشکلات کا شکار ہیں۔ تیسرے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کی کراچی میں تعمیر سندھ اور بلوچستان کے لوگوں کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہو گی کیونکہ یہاں انہیں کینسر کی تشخیص و علاج کی تمام ترسہولیات ایک ہی چھت کے نیچے بلا معاوضہ دستیاب ہوں گی ۔ شوکت خانم میموریل ٹرسٹ اپنی روایت اور مشن کے پیشِ نظر شوکت خانم میموریل کینسرہسپتال کراچی میں بھی 75 سے 80فیصد سے زائد مریضوں کو کینسر کے علاج کیلئے مالی معاونت کی فراہمی جاری رکھے گا۔اس ہسپتال کی تعمیر تین سال کے اندر مکمل ہونے کی توقع ہے جس پر 6.2 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔

کراچی کے اس کثیر منزلہ، مکمل فنکشنل شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سینٹرکو دسمبر 2021ء میں مریضوں کیلئے کھولنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جس میں تمام ضروری کلینیکل اور متعلقہ شعبہ جات موجود ہونگے۔ ان طبی اور معالجاتی شعبہ جات میں میڈیکل اونکالوجی، پیڈیاٹرک اونکالوجی، کلینکل اورریڈی ایشن اونکالوجی، سرجیکل اونکالوجی، انیستھیزیا، ریڈیالوجی، انٹرنل میڈیسن، نیوکلیئر میڈیسن اور پتھالوجی کی سہولیات میسر ہونگی۔ اس کے علاوہ کینسر کے علاج میں درکار جدید ترین ٹیکنالوجی بشمول اعلیٰ ترین تشخیصی سہولیات، ریڈی ایشن ٹریٹمنٹ پلاننگ اور ڈلیوری سسٹم مہیا کیے جائیں گے۔ 47آؤٹ پیشنٹ کلینک،66بیڈ کی کیموتھراپی ، 175 ان پیشنٹ روم، 16آپریشن تھیٹر اور 24انتہائی نگہداشت یونٹ کی موجودگی میں یہاں زیادہ سے زیادہ کینسر کے مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے گی۔ پاکستان کے تیسرے ، سب سے بڑے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر کے تعمیراتی کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ انشاللہ کینسر کے علاج کی جدید ترین سہولیات سے آراستہ اس ہسپتال کے دروازے دسمبر2021میں مریضوں کے لیے کھول دیے جائیں گے۔

سال 2019میں شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کو 75فیصد سے زائد مستحق مریضوں کو مفت علاج کی فراہمی، لاہور میں کلینکل ٹاور ،پشاور میں سرجیکل سروسز اور کراچی میں ہسپتال کی تعمیر کے لئے تقریباً 13.5 ارب روپے درکار ہیں اور گذشتہ سالوں کی طرح اس مرتبہ بھی اس رقم کا نصف پاکستانی عوام کی زکوٰۃ و عطیات سے پورا ہو گا ۔ یہ ہسپتال ایک بیٹے کی اپنی ماں سے محبت کی ایسی لازوال نشانی ہے جس کی تکمیل میں ہر پاکستانی کا ہاتھ ہے۔ دو دہائیوں سے زائد عرصے پر مشتمل شاندار کارکردگی کی بدولت اب یہ ہسپتال پاکستان کے ہر کینسر کے مریض کے لیے زندگی کی امید بن چکا ہے ۔ انشاللہ پاکستان کے لوگوں کی بے لوث مدد کے ساتھ یہ ہمیشہ اسی طرح مستحق اور نادار لوگوں کو علاج کی سہولیات فراہم کرتا رہے گا۔

میڈیا سیل

شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر

مزید : رائے /کالم


loading...