ایبٹ آباد ٹرانسپوٹروں اور ڈرائیوروں کی من مانیاں جاری

ایبٹ آباد ٹرانسپوٹروں اور ڈرائیوروں کی من مانیاں جاری

ایبٹ آباد(نامہ نگار) ایبٹ آباد ٹرانسپوٹروں اور ڈرائیوروں کی من مانیاں بے لگام ٹرانسپوٹروں نے شہر کے مقامی اور اندرون شہر روٹس پر من مرضی کے کرایے مقرر کر رکھے ہیں سوزوکیاں، کیری ڈبے اور ویگنز کے منہ مانگے کرایے وصول کیے جا رہے ہیں جبکہ اسی کے ساتھ ساتھ ٹیکسی کے طور پر چلنے والے گاڑیاں دونوں ہاتھوں سے عوام کی چمڑی ادھیڑ رہے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ اور آر ٹی اے حکام اس پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ان کی خاموشی معنی خیز ہے جس کے پیچھے لینے دینے کے کارفرما ہیں ڈسٹرکٹ ایبٹ اباد لاوارث ھوگیا آرٹی اے کی نا اھلی نے ٹرانسپورٹر وں کو بے لگام۔ کردیا سواریوں سے اپنی من مرضی کرایہ وصول کرنے لگے کوء پوچھنے والا نہیں ایبٹ آّباد سے نتھیاگلی کے روٹس پر 150روپے کرایہ وصول کیا جا رہا ہے اسی طرح ایبٹ آباد سے ٹھنڈیانی اس سے بھی زائد کرایے لیے جا رہے ہیں ایبٹ آباد سے شیروان روڈ پر بھی آئے روز کرایوں میں من مانا اضافہ کیا جا رہا ہے شہر کے اندرونی روٹس پر پندرہ سے بیس روپے فی سواری کرایہ لیا جا رہا ہے فوارہ چوک سے نکگء فاصلہ پانچ کلو میٹر کرایہ 60 روپے فوارہ چوک سے ڈھیری میرہ فاصلہ ڈھاء سے تین کلومیٹر کرایہ 30روپے وصول کر رھے ھیں اسی طرح اندرون شہر ٹیکسی کے طور پر چلنے والے گاڑیاں دو سے آٹھ کلو میٹر کے فاصلے کا کرایہ 150سے تین سو روپے تک وصول کررہے ہیں جب ان کے مقابلے میں نجی کمپنی کریم کی گاڑیاں پچاس روپے سے دو سو روپے تک وصول کر رہی ہیں ٹریفک پولیس اپنا کمیشن بڑھانے کیلئے دن بھر دوسروں شہروں سے آنے والی گاڑیوں کے چالان کے ساتھ ساتھ مقامی روٹس پر چلنے والی گاڑیوں کے چالان در چالان کررہے ہیں اور عوامی شکایات پر کوئی نوٹس نہیں لیا جا رہا ہے اور آر ٹی اے نے ایبٹ آباد سمیت ہزارہ کے کسی بھی شہر میں نئے کرایے نامے جاری نہیں کیے ہیں جس کے باعث ٹرانسپورٹروں نے من مانے کرایے مقرر کرلیے ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...