چین نے علمی اثاثہ جات کے تحفظ کیلئے عدالت قائم کر دی

چین نے علمی اثاثہ جات کے تحفظ کیلئے عدالت قائم کر دی

بیجنگ (آئی این پی ) چین نے علمی اثاثہ جات کے تحفظ کے لیے سپریم عوامی عدالت کے تحت علمی اثاثہ جات کی عدالت قائم کر تے ہوئے سپریم عوامی عدالت کے نائب سربراہ لو دونگ چھوان کو اس کا پہلا سربراہ مقررہ کر دیا ،لو دونگ چھوان نے کہا ہے کہ چین سپریم عدالت میں علمی اثاثہ جات کی کورٹ کو قائم کرنے والا پہلا ملک ہے ۔ چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق چین کی سپریم عوامی عدالت کے تحت علمی اثاثہ جات کی کورٹ کے اراکین کی پہلی کھیپ کا تقرر کر دیا گیا ۔ چین کی سپریم عوامی عدالت کے نائب سربراہ لو دونگ چھوان کو اس کورٹ کا پہلا سربراہ مقررہ کیا گیا ہے۔لو دونگ چھوان نے کہا ہے کہ علمی اثاثہ جات کی کورٹ کا قیام علمی اثاثہ جات کے تحفظ کے لیے چین کا اہم اقدام ہے جو سائنس و ٹیکنالوجی کی جدت کاری کی حوصلہ افزائی اور سازگار کاروباری ماحول کی تشکیل کے لیے مفید ثابت ہوگا۔ چین کی ریاستی کونسل کے پریس دفتر نے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جس پر لو دونگ چھوان نے مذکورہ خیالات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ علمی اثاثہ جات کے تحفظ کے حوالے سے خصوصی عدالتی ادارے کا قیام بین الاقوامی روایت ہے ۔تاہم سپریم عدالت میں علمی اثاثہ جات کی کورٹ کو قائم کرنے والا پہلا ملک چین ہے ۔اس سے علمی اثاثہ جات کے تحفظ میں چین کے بھرپور عزم کا اظہار بھی ہوتا ہے۔کورٹ کے نائب سربراہ وانگ چھوانگ کے مطابق بین الاقوامی سطح پر چین میں علمی اثاثہ جات کے مقدمات سے نمٹنے کی استعدادکار کو تسلیم کیا جا رہا ہے اور چین کو اس ضمن میں تنازعات کے حل کے لیے ترجیحی مقام سمجھا جاتا ہے۔

سپریم عوامی عدالت کے تحت علمی اثاثہ جات کی کورٹ آنے والے دنوں میں باقاعدہ طور پر فعال ہونے والی ہے۔

Back to Conversion Tool

مزید : عالمی منظر


loading...