جعلی بینک اکاﺅنٹس کیس، سپریم کورٹ نے نجی ٹی وی پروگرام میں چلنے والی آڈیو ٹیپ کا ریکارڈ،اینکرپرسن کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا

جعلی بینک اکاﺅنٹس کیس، سپریم کورٹ نے نجی ٹی وی پروگرام میں چلنے والی آڈیو ...
جعلی بینک اکاﺅنٹس کیس، سپریم کورٹ نے نجی ٹی وی پروگرام میں چلنے والی آڈیو ٹیپ کا ریکارڈ،اینکرپرسن کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے جعلی بینک اکاﺅنٹس کیس میں نجی ٹی وی پروگرام میں چلنے والی آڈیو ٹیپ کا ریکارڈ ،اینکرپرسن اور چیئرمین پیمرا کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے جعلی بینک اکاﺅنٹس کیس کی سماعت کی،جے آئی ٹی کے سربراہ اور ارکان عدالت میں پیش ہوئے، سابق صدر آصف زرداری، بلاول بھٹو، فریال تالپوراور وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے، آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے مقدمے سے الگ ہونے کی درخواست کردی۔

سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ آصف زرداری،فریال تالپورکی نمائندگی فاروق نائیک کررہے تھے،فاروق ایچ نائیک کوبھی کیس میں ملوث کردیاگیا۔سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ 24 دسمبر کو نجی ٹی وی پر جعلی آڈیوٹیپ چلادی گئی،یہ میری آوازہی نہیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایف آئی اے سے پوچھتے ہیں کس نے یہ جعلی آڈیوٹیپ چلائی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ میڈیا نے کیس چلانا ہے تو یہ کیس میڈیا کو بھیج دیتے ہیں ،وزرا ٹی پر بیٹھ کر اپنی کارکردگی بتا رہے ہوتے ہیں سب سیاستدان سن لیں ہم نے قانون بنا کر اسمبلی کو بھجوائے ہیں کھوسہ صاحب اپنے موکل کو بتا دیں انصاف ہو گا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سب سے پہلے عثمان بزدار کا نام ای سی ایل میں ڈال دیتے ،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے مندرجات کیسے لیگ ہوئے؟

سربراہ جے آئی ٹی نے کہا کہ ہمارے سیکرٹریٹ سے کوئی چیز لیگ نہیں ہوئی میڈیا نے سنی سنائی باتوں پر خبر چلا دی،چیف جسٹس نے کہا کہ کامران خان کو سربراہ بنا دیتے ہیں اس ملک کو پرامن رہنے دیں ٹی وی پر بیٹھ کر آگ نہ لگائیں ،وزیروں کا کام ہے کہ قانون سازی کریں

چیف جسٹس نے کہا کہ ایف آئی اے سے پتہ کرتا ہوں کس نے غلط ٹیپ چلائی،بلالیں کامران خان کو، پیمرا کدھر ہے،زیر التوا مو پر رائے دینا شروع کر دیتے ہیں۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...