زرداری کی کرپشن سب پر بھاری 

زرداری کی کرپشن سب پر بھاری 
زرداری کی کرپشن سب پر بھاری 

  


منصبِ دلبری پہ سب بحال ہو رہے ہیں ۔ہمارے زرداری صاحب کہتے ہیں کہ جیل ان کا سسرال ہے اور شنید ہے کہ وہ اپنے سسرال جا رہے ہیں لیکن ہر طرف کا شوروغوغا اور روزانہ کی تقاریر میں واویلہ بھی شاید دلبر کی اس نظرِ کرم کا منتظر ہے جس کے بعد میاں صاحب ایک کیس میں بری اور ایک میں سزا کے احکامات سنتے ہوئے اڈیالہ سے مائیکے سدھارے ہیں ۔

یومِ تاسیس پہ بھی ایک چپ ہے۔ ہاں وہی چپ جو روزہ توڑے کیوں نکالا کہتے ہوئے ہوئے ملک کے طول و عرض میں احتجاج کی صورت اختیار کئے ہوئے تھی ۔محترمہ کلثوم نواز صاحبہ (خدا انہیں غریقِ رحمت کرے) کا دکھ پھر ایک چپ بن گیا ہے یا یہ اشارہ ہے اس منصبِ دلبری پہ بحالی اور ڈیل کا جو میاں صاحب کو سداملتی آئی ہے۔ کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن مفاہمت کی مہک ہواؤں میں ہے۔ آشیانہ اسکیم ہو یا صاف پانی اس چپ نے انہیں بھی پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کے اس منصب پہ سرفراز کر دیا ہے جو کل نیب کی حوالات میں سخت بیمار تھے اور اب وہ وہاں ہیں کہ جہاں سے وہ ہر کسی کو بمعہ چئیرمین نیب طلب کر کے خود پوچھ سکتے ہیں کہ کیوں نکالا۔ کرپشن کے الزامات میں گرفتار خود کرپشن کا جائزہ لے تو اسے منصبِ دلبری پہ بحالی کا نام نہ دیا جائے تو کیا کہا جائے۔ 

11 دسمبر 2018 کے اسیران خواجہ برادران میں سے سعد رفیق صاحب اپنے ریمانڈ کے دنوں میں کسی کی مہربانیوں سے اسمبلی میں نمودار ہوئے اور نیب کے قانون کو کالا قانون کہتے ہوئے دھیمے سروں میں خوب برسے۔ نا انصافی کا رونا رونے والوں کے خلاف وعدہ معاف گواہ اور بنک ٹرانزینکشنز ان پہ وہ داغ لگا رہی ہیں کہ جواب کی بجائے ملکی اداروں پہ غصہ نکالنا ہی مستقبل کا راہِ فرار چنا گیا ہے۔ زرداری صاحب کے معاملات میں تو بلاول ہاؤس کے اخراجات ، ایان علی کے تعلقات اور جعلی اکاؤنٹس سب زیر بحث ہیں ۔کشمور میں اپنے خطاب کے دوران ججز اور جرنیلوں کے احتساب کی بات ہوئی سیاست دانوں پہ سارا نزلہ گرانے پہ لے دے ہوئی تو جواب پھر وہی سادہ سا ہے ۔جج آپ کے بنائے سسٹم اور ایک امتحان سے گذرتے اپنی قابلیت پہ وہاں پہنچتا ہے جس سے عام عوام کا کیا سرو کار ،جرنیل اپنی قوتِ بازو پہ اپنے آپ کو منواتا اوپر تک جاتا ہے اور اس کی تقرری پھر آپ کے قلم سے ہوتی ہے ۔آپ سیاست دان انگوٹھا چھاپ بھی چلتے ہیں ۔جہاں ضروری ہوا جعلی اسناد بھی ایسے دیتے ہیں کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے کہتے ہوئے محفل کو کشتِ زعفران بنا دیتے ہیں ۔آپ کو عوام اپنے ووٹ سے اس منصبِ دلبری پہ بحال کرتی ہے اور آپ سے صاف و شفاف گورنس کا تقاضا کرتی ہے ۔آپ سے سب کا احتساب چاہتی ہے ۔آپ کی قابلیت صرف اس سے حاصل ووٹ ہوتا ہے ۔ایک جج یا جرنیل پہ عوام کا زور کیا چلے اس پہ آپ کا زور چلتا ہے لیکن کرپشن میں لتھڑا ہوا کیا کسی کا احتساب کرے گا اسی لئے حاکم اور عالم کے لئے رب نے بھی دوزخ میں سب سے نچلا گڑھا رکھا ہے ۔آپ ای سی ایل پہ نام ہونے پہ جز بز ہیں تو کیا ان آنکھوں نے نہی دیکھا کہ صدر اتی محلات سے حسین حقانی ،وزیر اعظم کے جہاز پہ وزیرخزانہ ،ضمانتوں پہ ایان علی اور کمر کی درد میں ایک جرنیل صاحب کس کس کی اعانت سے اڑے ۔آپ جب کہتے ہیں کہ آپ کے پاس سے کرپشن ہو کے نہیں گذری تو میں اکثر سوچتا ہوں کہ سارے معاشرے کو اپنے اندر سمو لینے والی کرپشن نے آپ کو کیسے چھوڑ دیا اور جب آپ دودھ کے دھلے تھے تو آپ کی حکمرانی میں یہ کرپشن کیسے آپ کی آنکھوں سے اوجھل رہی کہ جعلی اکاؤنٹ بھرتے گئے اور آپ امیر سے امیر تر ہوتے گئے ۔لندن کے بحری قزاق کے خطابات ہوں یا نیو یارک میں جائیداد نمبری 524 ایسٹ ، اسٹریٹ نمبر 72 ،اپارٹمنٹ نمبر 37 ایف کا پراپرٹی ٹیکس ادا کرنے کے بعد بھی جب آپ کہتے ہیں کہ احتساب کا عمل کہیں اور سے شروع کرو تو صاحب اس کیا کہوں۔ سوشل میڈیا پہ چلتے میڈیا سیلز دن رات فوج اور ججز کے پیچھے پڑے ہیں میں کہتا ہوں آج احتساب کا عمل رک جائے تو یہ سب آنکھ کے تارے اور راج دلارے ہوں گے۔ ہم نے کیا نہیں دیکھے بریف کیس، گورنری کے عہدے اور اٹارنی جنرل کے ٹھاٹھ باٹھ۔ ایک جنرل کے بعد کب اس کا بیٹا اور ایک جج کے بعد کب اس کا پوت اس کرسی پہ براجمان ہوتا ہے یہ تو سب آپ کے ہاں ہی چلتا ہے صاحب کہ وصیت ملازمہ کے پرس سے نکلے اور حکمرانی کا ہما آپ کے سر بیٹھے ۔خود کو آئینی بالا دستی کے علمبردار ، سینٹ کے سابقہ چئیرمین اجلاس میں آنسو بہانے تو چلے آتے ہیں لیکن کیا کبھی انہوں نے اپنے قائدین کے کردار اور لوٹ مار پہ بھی بات کی ہے۔ فوج اور ججز پہ برس جانے والے صاحب اپنی پارٹی رہنماؤں کی کرپشن پہ ضمیر کو یوں تھپک تھپک سلادیتے ہیں کہ کہیں جاگ ہی نہ جائے اور انہیں سینیٹر شپ کی سہولیات ومراعات سے بے بہرہ نہ کر دے۔ 

سوئٹزر لینڈ میں چھپے ملکی دھن کو بچانے کے لئے خط نہ لکھنے والے نے صدر کی نشست اور عہدے کو خوار ہونے سے تو بچا لیا لیکن کیا عام انسان کے ساتھ جس کے ووٹ نے اسے اس عہدوں تک پہنچنے کے لئے سیڑھیوں کا کردار ادا کیا تھا۔ بس آپ آتے ہو پاگل بناتے ہو اور لوٹ مار کرتے جاتے ہو۔ ملکی خزانوں کے قانونی محافظ آپ ہو اور ہمیں بتاتے ہوکہ وہ وہ ادارے کرپٹ ہیں ۔اس کا مطلب کہ جرائم اور کرپشن کی سرپرستی کے باوجود آپ کے دامن کو کرپشن چھو کے نہیں گذری تو اسے آپ کی طبعِ مزاح کا ایک رخ سمجھو ں یا وہ معصومیت جو آپ کے چہرے پہ ہر وقت چھائی رہتی ہے۔ آپ بالکل درست کہتے ہیں کہ احتساب سب کا ۔اس کے بعد حکومتی بنچوں پہ بیٹھنے والوں کو شفاف کیا جائے ۔

باری باری کی قطار میں لگی سیاست کا اب پاکستان، نہ اس کی عوام متحمل ہو سکتی ہے ۔اگر یہ سب کسی کو منصبِ دلبری پہ بحال کرنے کی ایک سعی ہے تو خدارا آپ اس فضا کی کمر توڑ دیں گے جو چل نکلی ہے آپ اس امید کا گلا گھونٹ دیں گے جو روشن کل کے سپنے پھر سے دکھاتی ہے ۔ملکوں ملکوں مانگنے سے بہتر ہے کہ ملک سے لوٹا واپس لایا جائے ۔مجھ عوام کو بھی مراعات دے کر خوشحال کیا جائے اور پھر اگر میں چوری کروں تو میرے ہاتھ کاٹنے کی سزا کو پھر سے بحال کر دیا جائے لیکن آج کے دور میں صرف میرا گلا گھونٹنے کی بجائے ان کا بھی گریبان پکڑا جائے جن کے ذرائع آمدن اور رہن سہن پہ بات ہو تو کہتے ہیں آپ کو کیا۔ 

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔

مزید : بلاگ


loading...