پیٹرولیم مصنوعات کا ممکنہ بحران !!!

پیٹرولیم مصنوعات کا ممکنہ بحران !!!
پیٹرولیم مصنوعات کا ممکنہ بحران !!!

  


قوم کو امید ہوچلی تھی کہ نئی حکومت کے آتے ہی ملک میں خود ساختہ بحران پیدا کرنے والی قوتوں اور سرمایہ داری کے نظام کو ہراساں کرنے والے اداروں کا بھی احتساب کیا جائے گا اور انہیں قومی فرائض کی ادائیگی کا پابند بنایا جائے گا تاکہ اداروں کی کارکردگی بہتر ہونے سے ملک میں معاشی پائیداری کا نظام بحال ہو سکے مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا ۔عمران خان اداروں کی کارکردگی بڑھانے اور ملک میں معیشت کی بحالی کا نعرہ لگارہے ہیں لیکن معیشت میں براہ راست کردار ادا کرنے والے ادارے ان کی پالیسیوں کے برعکس جمے ہوئے ہیں ۔اسکی ایک مثال پیٹرولیم کی صنعتہے جسکے خلاف غلط اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔

پاکستان کی صنعتی ترقی ,معاشی اورسماجی زندگی کا انحصار پیٹرولیم مصنوعات پر ہے۔ اگر خدانخواستہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا بحران پیدا ہواتو ملکی سلامتی واستحکام کو بڑاخطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ ملک میں ٹیکس نظام سے حاصل ہونے والی کل آمدنی کاچوتھا حصہ صرف پیٹرولیم مصنوعات سے حاصل ہوتا ہے۔ ایف بی آر کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالیاتی سال میں صرف پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت سے 498.9بلین روپے ٹیکسوں کی مد میں حاصل کئے گئے تھے۔اس وقت ملکی معیشت کا ساٹھ فیصد انحصار امپورٹ پر ہے۔ پاکستان اپنی روزمرہ ضروریات کی اسّی فیصد پیٹرولیم مصنوعات بیرون ملک سے منگواتاہے۔ اگرچہ اس شعبے کی ذمہ داری وزارت پیٹرولیم پر ہے مگر اس کا انفراسٹرکچر خود مختار ادارے ’’اوگرا‘‘ کی کارکردگی کا مرہون منت ہے جو پیٹرولیم مصنوعات کی امپورٹ اور مارکیٹنگ میں براہ راہ راست کردار اداکرتاہے۔

اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوچکا ہے کیونکہ ملک بھر کی پیٹرولیم مصنوعات مہیا کرنے والی کمپنیا ں بد ترین مالیاتی خسارے کا شکار ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اوگرا نے پیٹرولم مصنوعات مہیا کرنے والی کمپنیوں پر ڈالرپالیسی کا اطلاق کردیا ہے جبکہ ای سی سی کے قواعد و قوانین اسکی اجازت نہیں دیتے۔اوگرا نے پچھلے چند ماہ میں معمول کے طریقہ کار کو بدل کر اب آئل مارکیٹنگ کمپنیز کو پابند کردیا ہے کہ وہ اپنے ذمہ ادائیگیاں ڈالر کی بڑھتی ہوئی نئی قیمت کے مطابق کیاکریں گی۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے پہلے کمپنیوں نے تیل اوگرا کی پہلے سے طے شدہ قیمت کے مطابق فروخت کردیا تھا , چنانچہ جب انہیں حکومت کو ادائیگیاں ڈالر کی بڑھی ہوئی قیمت کے مطابق ادا کرنی پڑیں تو انہیں اربوں روپے کا مالیاتی خسارہ ہوا۔ جس کی وجہ سے یہ کمپنیاں مسلسل چیخ و پکار کررہی ہیں کہ اگر ان کے لئے موجودہ غیر قانونی طریقہ بند نہ کیا گیا اور انہیں ریلیف نہ دیا گیا تو وہ کوئی بڑا قدم اٹھاسکتی ہیں۔ اگر معاملے کی سنگینی کو محسوس نہ کیاتودلبرداشتہ آئل کمپنیاں پٹرول پمپس کوسپلائی اور بیرونِ ممالک سے تیل امپورٹ بندکردیں گی۔ جس سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا شدید بحران جنم لے سکتا ہے۔ ایسی صورت میں ملکی صنعتیں بند ہونا شروع ہوجائیں گی , اور معاشی و سماجی زندگی کا پہیہ جام ہوجائے گا۔ ہمارے پاس پہلے ہی محفوظ تیل کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہیں۔ اگرصورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دشمن جارحیت کردے تو ہماری افواج کیلیے ذرائع نقل و حمل مفقود ہوجائیں گے , جو کہ شکست کا سبب بن جائے گا۔ لہذا پیٹرولیم مصنوعات ملک کے لیے ایک دفاعی لائن کی حثیت رکھتی ہیں۔ سودی قرضوں میں ڈوبی ہوئی ملکی معیشت پہلے سے ہی اسٹرٹیجک طور پر ہمارے لیے خطرے کی گھنٹی بجاچکی ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کا مہلک بحران بھی دروازے پردستک دے چکاہے۔ 

حکومت کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ پیٹرولیم مصنوعات مہیا کرنے والی ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیاں اگر مالیاتی خسارے سے دوچار ہوئیں تو ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے پر بھی خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومتی پالیسیوں سے گھبرا کر غیرملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کریں گے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلیے حکومت کو چاہیے کہ وہ سرمایہ کار دوست پالیسی اپنائے۔ اوراس کی ابتداء پیٹرولیم مصنوعات مہیا کرنے والی کمپنیوں کی بے چینی دور کرنے سے ہونی چاہیے۔ اور اس کے دو ہی ممکنہ طریقہ ہائے کار ہیں۔ پہلا یہ کہ وزارتِ پیٹرولیم ایسے اقدامات کرے کہ پیٹرولیم مصنوعات مہیا کرنے والی کمپنیوں کو مالیاتی خسارہ پورا کرنے کیلیے خاطرخواہ ریلیف مل سکے۔ دوسرا یہ کہ اوگرا اپنی نئی پالیسی پر نظرثانی کرے۔ مجھے حیرت ہے کہ وزارتِ پیٹرولیم اور اوگرا صورتحال کی سنگینی کو نظرانداز کرتے ہوئے معاملے کا نوٹس لینے میں جان بوجھ کر تامل کیوں کررہے ہیں۔ کیا ایسا کرکے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا بحران پیدا ہونے کا انتظار کیا جارہا ہے؟؟؟ اور یہ کہ ایسا کس کے ایماء پر ہورہاہے؟؟؟

اگرملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ممکنہ پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کیلیے قبل از وقت اقدامات نہ کیے گئے تو تباہ حال معیشت کو سنبھالا دینا حکومت کیلیے ناممکن ہوجائے گا۔ 

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔

مزید : بلاگ


loading...