”ہماری کارکردگی تو بہت اچھی رہی ہے اور۔۔۔“ سرفراز احمد کی نظر میں قومی ٹیم کی 2018ءمیں کارکردگی کیسی رہی؟ ویڈیو بیان میں ایسی بات کہہ دی کہ مکی آرتھر پھر ’آگ بگولہ‘ ہو جائیں

”ہماری کارکردگی تو بہت اچھی رہی ہے اور۔۔۔“ سرفراز احمد کی نظر میں قومی ٹیم ...

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سال 2018ءکا آخری دن ہے اور پاکستانیوں سمیت پوری دنیا کے لوگ نئے سال کی آمد کا جشن منانے کی مکمل تیاریاں کر چکی ہیں۔ رواں سال پاکستانیوں نے ہر شعبے میں بہت سے اتار چڑھاﺅ دیکھے تاہم پاکستان کرکٹ کیلئے یہ کیسا رہا؟ سرفراز احمد نے وہ بھی بتا ہی دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کی جانب سے جاری ہونے والے ویڈیو بیان میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 2018ءپاکستان کیلئے اچھا سال رہا ہے۔ ٹی 20 فارمیٹ میں ہم پہلے نمبر پر ہیں جبکہ ون ڈے انٹرنیشنل رینکنگ میں دو درجے بہتری کیساتھ ساتویں سے پانچویں نمبر پر چلے گئے ہیں البتہ ٹیسٹ کرکٹ میں ہمیں بہت زیادہ بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم نے اس سال انگلینڈ کو اس کی سرزمین پر شکست دی جبکہ دبئی میں بالخصوص نیوزی لینڈ کیخلاف ہونے والی سیریز ہم جیت سکتے تھے مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمیں ٹیسٹ کرکٹ میں بہت زیادہ بہتری لانے کی ضرورت ہے اور آنے والے سال میں ضرور بہتری لائیں گے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں مصباح الحق اور یونس خان کے بعد یہ ہمارا پہلا سال تھا۔ ٹیسٹ ٹیم کی بات کی جائے تو میں، اظہر علی، اسد شفیق، اور محمد عامر ہی تجربہ کار ہیں باقی سارے کھلاڑی نوجوان ہیں اور ٹیسٹ کرکٹ میں تجربے کی ضرورت ہوتی ہے، لہٰذا کوشش کر رہے ہیں کہ نوجوان لڑکوں کو اعتماد دیں گے تاکہ وہ بہتری کھیل پیش کر سکیں۔

۔۔۔ویڈیو دیکھیں۔۔۔

سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ اگر ہم گزشتہ پانچ ٹیسٹ میچوں کی بات کریں تو ہماری پوزیشن اچھی ہوتی ہے مگر ایک گھنٹہ یا سیشن جو اچھا کھیلنا ہوتا ہے وہاں گڑبڑ ہوتی ہے اور ہم ہار جاتے ہیں۔ دبئی میں گزشتہ پانچ ٹیسٹ بالخصوص نیوزی لینڈ کیخلاف پہلا اور تیسرا ٹیسٹ بہت اچھا جا رہا تھا اور جو ایک، آدھ گھنٹہ اچھا کھیلنے کی ضرورت نہیں، وہاں کارکردگی نہیں دکھا سکے جس کے باعث سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سینچورین میں جنوبی افریقہ کیخلاف اس سال کا آخری ٹیسٹ میچ بھی پہلے دو روز بالکل متوازن جا رہا تھا اور ہماری پوزیشن بہتر ہو گئی تھی مگر پھر وہی ہوا جو گزشتہ دو تین سال سے ہوتا چلا آ رہا ہے اور اس وجہ سے ہم یہ ٹیسٹ میچ بھی ہار گئے۔

کپتان نے اس بات پر زور دیا کہ رواں سال پاکستان کرکٹ کیلئے مجموعی طور پر کافی بہتر رہا ہے، بابر اعظم نے ورلڈ ریکارڈ بنایا، فخر زمان ون ڈے انٹرنیشنل میں انفرادی 200 سکور بنانے والا پہلا پاکستانی بنا، ٹیسٹ کرکٹ میں حارث سہیل ٹاپ سکورر رہے، بابر اعظم، فخر زمان، اسد شفیق اور اظہر علی نے بھی رنز کئے۔ باﺅلنگ کی بات کی جائے تو یاسر شاہ کی باﺅلنگ شاندار رہی جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں تیز ترین 200 وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز اپنے نام کیا، محمد عباس کی صورت میں ہمیں ایسا باﺅلر ملا جس کی پوری دنیا نے تعریف کی، شاہین شاہ آفریدی پاکستان کا مستقبل ثابت ہوئے ہیں اور وہ پاکستان کیلئے بہترین کارکردگی دکھائیں گے۔

مزید : کھیل


loading...