جمہوریت کو خطرہ ہے تو قانون میں لکھ دیتے ہیں ’کرپشن کرنا عین عبادت ہے‘: فواد چوہدری

جمہوریت کو خطرہ ہے تو قانون میں لکھ دیتے ہیں ’کرپشن کرنا عین عبادت ہے‘: فواد ...
 جمہوریت کو خطرہ ہے تو قانون میں لکھ دیتے ہیں ’کرپشن کرنا عین عبادت ہے‘: فواد چوہدری

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر زرداری اور نواز شریف کے جیل میں جانے سے جمہوریت کو خطرہ ہے تو پھرقانون میں ترمیم کرکے کرپشن کو حلال قرار دے دیتے ہیں اور لکھ دیتے ہیں کہ کرپشن کرنا عین عبادت ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ سندھ کے عوام کا پیسہ دبئی اور لندن میں خرچ ہوا۔ آصف زرداری کامعاملہ ایف آئی اے اورنیب کے ریڈارپر تھا۔ سندھ حکومت کے خلاف مقدمہ ہم نے شروع نہیں کیا، تاثر دیا جا رہاہے کہ شائد ہم سندھ حکومت کا تختہ الٹ رہے ہیں حالانکہ کسی حکومتی وزیر نے نہیں کہا کہ سندھ میں گورنر راج لگے گا۔ نوازشریف کی چوری سے متعلق سابق حکومتوں کوسب علم تھا لیکن ماضی میں کرپشن پر پردے پڑے ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جعلی اکاﺅنٹس کا معاملہ 2016 میں سامنے آیا، چوہدری نثار نے بھی کہا تھا کہ جس پیسے سے ایان علی کی ادائیگیاں ہوئیں اسی پیسے سے بلاول ہاﺅس کے اخراجات بھی ادا ہوتے رہے لیکن کیا وجہ تھی کہ ن لیگ کی حکومت اس معاملے پر خاموش رہی۔

فواد چوہدری نے کہا بعض لوگ کہتے ہیں کہ نواز شریف اور زرداری جیل میں چلے گئے تو پھر جمہوریت کیسے چلے گی۔ اس بات کا سیدھا سا حل یہ ہے کہ ہم کرپشن کے خلاف بنائے گئے قوانین میں ترمیم کرکے کرپشن کو حلال قرار دے دیتے ہیں اور لکھ دیتے ہیں کہ کرپشن کرنا عین عبادت ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے بعد یہ تاثر پیدا ہو کہ جیسے ہم سندھ میں تبدیلی کرنا چاہتے ہیں۔ اسی معاملے پر میری وزیر اعظم سے تین ملاقاتیں ہوئیں تو انہوں نے کہا کہ یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ ہم سندھ کے معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔ہم یہ چاہتے ہیں کہ مراد علی شاہ کو فوری استعفیٰ دے دینا چاہیے اور پیپلز پارٹی کا ہی نیا وزیر اعلیٰ آجائے۔ گورنر راج کا کوئی جواز ہی نہیں ہے کیونکہ یہ جمہوری حکومت ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے بھی سوال اٹھایا کہ وزیر اعلیٰ کا نام ای سی ایل میں ہے اور اگر انہیں بیرون ملک جانا پڑجائے تو کیا ہوگا؟۔ہمارے دو وزرا نے صرف اس بات پر استعفیٰ دے دیا کہ ان پر الزامات لگے ۔ سندھ میں تحریک انصاف کا نہیں بلکہ سندھ کے ایم پی ایز کا دباﺅ ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیر اعلیٰ کا نام ای سی ایل میں ہونا اچھی بات تو نہیں ہے لیکن ہماری تاریخ تو یہ ہے کہ حاضر سروس وزیر خزانہ وزیر اعظم کے جہاز پر بیرون ملک گئے اور آج تک واپس نہیں آئے۔ ایس ای سی پی کا حاضر سروس چیئرمین بھی بیرون ملک گیا او رواپس نہیں آیا۔

فواد چوہدری نے اصغر خان کیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اصغر خان کیس پاکستان میں جمہوری عمل کو متاثر کرنے کی کوشش تھی ہمارا شروع سے جو موقف ہے آج بھی وہی موقف ہے اس پر مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ایف آئی اے نے سپریم کورٹ میں رپورٹ براہ راست جمع کرائی ہے۔ ایف آئی اے کا جواب مناسب نہیں ہے، اس حوالے سے ایک ہفتے کے اندر ڈی جی ایف آئی اے بریفنگ دیں گے جس کے بعد مزید کارروائی کریں گے۔

مزید : قومی /سیاست /علاقائی /اسلام آباد


loading...