2018: سٹاک مارکیٹ میں 3 ہزار 385 پوائنٹس کی کمی، بیرونی سرمایہ کاروں نے 53 کروڑ ڈالر کے حصص فروخت کیے

2018: سٹاک مارکیٹ میں 3 ہزار 385 پوائنٹس کی کمی، بیرونی سرمایہ کاروں نے 53 کروڑ ...
2018: سٹاک مارکیٹ میں 3 ہزار 385 پوائنٹس کی کمی، بیرونی سرمایہ کاروں نے 53 کروڑ ڈالر کے حصص فروخت کیے

  


کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سال 2018 کا اختتام ہوچکا ہے جو بہت سی تلخ و شیریں یادیں اپنے پیچھے چھوڑ رہا ہے لیکن اس کی سب سے تلخ یاد پاکستان کی معیشت کے حوالے سے رہی ہے۔ سال 2018 کے دوران سٹاک مارکیٹ مندی کا شکار رہی اور مجموعی طور پر اس میں 3 ہزار 385 پوائنٹس کی کمی ہوئی۔

سال 2018 کے آخری روز بھی سٹاک مارکیٹ 100 پوائنٹس کی مندی کے ساتھ بند ہوئی۔ مجموعی طور پر رواں سال سٹاک مارکیٹ میں 3 ہزار 385 پوائنٹس کی کمی ہوئی اور یہ 37 ہزار 66 پوائنٹس پر بند ہوئی۔ سٹاک مارکیٹ میں سال کے 246 دن کاروبار ہوا جن میں سے 129 دن منفی رہے ۔

2018 میں 8 اعشاریہ 7 فیصد کی کمی کے ساتھ پاکستان سٹاک ایکسچینج کا شمار اپنی کارکردگی کے باعث دنیا کی بدترین مارکیٹوں میں ہونے لگا۔ یہ 22 برس کے بعد مسلسل دوسرا سال رہا جب مارکیٹ مندی کی لپیٹ میں رہی۔ گزشتہ برس بھی انڈیکس 15 فیصد گراوٹ کا شکار رہا تھا۔کاروبار میں یومیہ بنیادوں پر 44 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور کاروباری حجم 6 سال کی کم ترین سطح پررہا۔ ایک سال میں بیرونی سرمایہ کاروں نے 53 کروڑ ڈالر مالیت کے حصص فروخت کیے ۔

2018 میں پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 16 ارب 71 کروڑ حصص کے سودے ہوئے جن کی مالیت 1945 ارب روپے رہی۔پورے سال میں سٹاک ایکسچینج کی بلند ترین سطح 47 ہزار 148 اور کم ترین 36 ہزار 274 پوائنٹس رہی۔ پورے سال کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس نے 10 ہزار 874 پوائنٹس کے بینڈ میں کاروبار کیا۔ انڈیکس میں کاروباری دن میں سب سے زیادہ اضافہ 1556 پوائنٹس رہا جبکہ 1335 پوائنٹس کی گراوٹ سب سے بڑی کمی رہی۔

مزید : Breaking News /قومی /بزنس


loading...