ڈالر کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ دراصل کس سازش کے تحت ہوا؟ آخر کار سازش پکڑی گئی

ڈالر کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ دراصل کس سازش کے تحت ہوا؟ آخر کار سازش پکڑی ...
ڈالر کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ دراصل کس سازش کے تحت ہوا؟ آخر کار سازش پکڑی گئی

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) گزشتہ دنوں ڈالر کی قیمت میں بے تحاشہ ہونے والے اضافے کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئی۔ روپے کی بے قدری میں بینکوں کے ملازمین کا ایک گروہ ملوث تھا۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری کرنے والا گروہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں بے نقاب ہوا ہے۔

2018 کے آخری روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں حالیہ دنوں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمیٹی نے چار صفحات پر مشتمل سوالات اور ابتدائی تحقیقات جاری کردیں۔

ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں پاکستانی روپے کی قیمتیں گرانے میں بینکوں کے ملازمین کے ایک منظم گروہ کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈالر کو نیویارک ایجنٹ کے ذریعے روک کر مصنوعی بحران پیدا کیا گیا جس میں سٹیٹ بینک کا عملہ بھی ملوث ہے۔

نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق قائمہ کمیٹی کی ابتدائی تحقیقات میں مزید کہا گیا ہے کہ سٹیٹ بینک کے علاوہ نجی اور کمرشل بینکوں کے ملازمین کا منظم گروہ مارکیٹ میں ڈالر کی مصنوعی کمی پیدا کرنے میں ملوث ہیں۔ کمیٹی نے اس حوالے سے سفارشات بھی پیش کی ہیں۔

واضح رہے کہ موجود ہ حکومت میں دو مرتبہ روپے کی قدر میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور ڈالر 142 روپے تک چلا گیا تھا۔ ڈالر کی قیمت میں وزیر اعظم ، وزیر خزانہ اور گورنر سٹیٹ بینک کے متضاد بیانات سے معاملہ مبہم ہوگیا تھا۔ یہ بھی یاد رہے کہ 2018 کے دوران انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 26 فیصد اضافہ ہوا اور یہ روپے کے مقابلے میں 28 روپے 36 پیسے مہنگا ہوا۔سال 2018ءکے آخری روز انٹر بینک میں ڈالر 138 روپے 86 پیسے پر بند ہوا ہے۔

مزید : بزنس


loading...