ٹی ایم اے کی زیر نگرانی کروڑوں روپے کے پلازوں کی تعمیر کا ڈراپ سین

ٹی ایم اے کی زیر نگرانی کروڑوں روپے کے پلازوں کی تعمیر کا ڈراپ سین

  



کوھاٹ (بیورو رپورٹ) ٹی ایم اے کی زیر نگرانی کروڑوں روپے کے پلازوں کی تعمیر کا ڈراپ سین‘ شبستان پلازہ‘ عجب خان آفریدی پلازہ سمیت شادی ہال کی تعمیر کھٹائی میں پڑ گئی عدالتی حکم امتناعی کے باعث کنٹریکٹر نے ہاتھ اٹھا یے تفصیلات کے مطابق ٹی ایم اے کوھاٹ کی نگرانی میں کوتل پلازہ میں شادی ہال کی تعمیر‘ پراجی جیل کی حدود میں عجب خان آفریدی پلازہ اور شبستان ہوٹل اور ٹی ایم اے کے کوارٹرز کو مسمار کر کے شبستان پلازہ کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا تھا مگر ٹی ایم اے انجینئرنگ برانچ کی غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے شبستان پلازہ وغیرہ کے تاجروں نے حکم امتناعی حاصل کر لیا اور صرف ٹی ایم اے کے اندر ایک غریب کلاس فور اور ڈبلیو ایس ایس سی کے شکایت سیل کو مسمار کیا جا سکا جس کا ملبہ ابھی تک پڑا ہے ٹی ایم اے افسران کی کمزوری کو دیکھتے ہوئے کنٹریکٹر نے پیفراء کو درخواست دے کر مبینہ طور پر اپنا کال ڈیپازٹ واپس لے لیا ذرائع کے مطابق ان پلازوں کی تعمیر کے لیے اب دوبارہ ٹینڈر ہوں گے مگر اب ان پلازوں کی تعمیر پر جو رقم خرچ ہو گی اس سے مالی طور پر کمزور ٹی ایم اے کو 10 سے 15 کروڑ نقصان برداشت کرنا پڑے گا دوسری جانب ٹی ایم اے کوھاٹ کے افسران کی کمزوری اور بزدلی کی وجہ سے اباسین پلازہ میں تعمیراتی کام مکمل کیے بغیر کنٹریکٹر نے سرکاری دکانوں اور فلیٹوں کو کرائے پر دے رکھا ہے جس کی وجہ کنٹریکٹر کو اس کی رقم کی ادائیگی نہ کرنا ہے اسی طرح سستا بازار منصوبہ جس کی تعمیر پر بھی کروڑ روپے تک خرچ کیے گئے اس کی بھی تاحال نیلامی نہ ہو سکی شہریوں کے مطابق ٹی ایم اے افسران خصوصاً انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ بغیر منصوبہ بندی کے صرف اپنی کمیشن کے حصول کے لیے پلازوں کی تعمیر اور ان کے ٹینڈروں میں دلچسپی رکھتا ہے مگر انہیں منصوبوں کے معیار اور مکمل کرنے میں قطعاً کوئی دلچسپی نہیں ہوتی جس کی واضح مثال اباسین پلازہ‘ کوتل پلازہ اور سستا بازار کے نامکمل منصوبے ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر