سا ل 2019: 29لاکھ سے زائد شہریوں کے چالان، 80کروڑ جرمانہ ٹریفک پھر بھی بے ہنگم

سا ل 2019: 29لاکھ سے زائد شہریوں کے چالان، 80کروڑ جرمانہ ٹریفک پھر بھی بے ہنگم

  



لاہور(لیاقت کھرل) سال 2019 میں سٹی ٹریفک پولیس افسران کی کمزور گرفت کے باعث ٹریفک وارڈنز بے لگام، توتکرار سے معاملات دست و گریبان تک پہنچتے رہے۔ بے ہنگم ٹریفک کے باعث لاکھوں شہری گھنٹوں ٹریفک میں پھنستے رہے، ہزاروں شہری گاڑیوں تلے روندے جاتے رہے، 29 لاکھ سے زائد شہریوں کے چالان 80 کروڑ کے جرمانے، شہری سال بھر سٹی ٹریفک پولیس کے رویے کے خلاف سراپا احتجاج رہے۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت کی کمزور گرفت کے باعث ٹریفک امور کے حوالے سے سٹی ٹریفک پولیس پر بھاری رہا ہے جس کے باعث سال بھر میں ٹریفک کی خلاف ورزیاں عرود پر رہی ہیں۔ بے ہنگم ٹریفک کے باعث مال روڈ، جیل روڈ، فیروز پور روڈ، کینال روڈ اور گلبرگ مین بلیووارڈ روڈ سمیت اہم شاہراہوں اور چوراہوں میں لاکھوں شہری گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہے ہیں جس میں شہریوں کو منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرنا پڑا ہے جس میں ہزاروں شہری گاڑیوں تلے روندے جاتے رہے ہیں جبکہ سال 2019ء میں ٹریفک وارڈنز کی جانب سے شہریوں کے ساتھ لڑائی جھگڑے کے واقعات میں بھی تیزی رہی ہے اور توتکرار سے معاملات دست و گریبان تک پہنچتے رہے ہیں جس میں وارڈنز کی جانب سے 4100 سے زائد شہریوں پر مبینہ تشدد اورمارکٹائی کے واقعات رپورٹ ہوئے جس میں شہری شدید زخمی ہوئے اور ٹریفک کی خلاف ورزی کے نام پر 3190 شہریوں کو مختلف تھانوں کی حوالات دیکھنا پڑی ہیں۔ سٹی ٹریفک پولیس اہم شاہراہوں اور سڑکوں سے تجاوزات کے خاتمے میں بھی کسی حد تک کامیابی حاصل نہ کر سکی ہے اور ملبہ سٹی گورنمنٹ اور دیگر محکموں پر ڈالنے کا سلسلہ جاری رہا ہے جس کے باعث شہریوں کو ٹریفک میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سال 2019ء میں سٹی ٹریفک پولیس سال بھر آگاہی مہم چلانے کے باوجود ٹریفک کی خلاف ورزیوں پر کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے اور شہریوں پر الٹا غصہ نکالنے کا سلسلہ جاری رہا ہے جس میں 29 لاکھ سے زائد شہریوں کے چالان کئے گئے ہیں جن میں سے ڈیڑھ لاکھ شہریوں کے چالان میں وارڈنز نے اختیارات سے تجاوز کرنے کے الزامات پائے گئے۔ سال 2019ء میں سٹی ٹریفک پولیس کی تمام تر کوششوں کے باوجود اہم شاہراہوں اور سڑکوں پر ون ویلنگ، ون وے اور اوورسپیڈ کی صورتحال کنٹرول سے باہر رہی ہے اور سیف سٹی کی جانب سے مسلسل پوائنٹ آؤٹ کرنے کے باوجود ایسے خطرناک کرتب کے کھیل جاری رہے ہیں۔ دوسری جانب سٹی ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2019ء میں سب سے زیادہ موٹرسائیکل سوار ٹریفک کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ہیں جس میں ون وے کی خلاف ورزی سے حادثات کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سٹی ٹریفک پولیس کے افسران کا کہنا ہے کہ سال 2019ء میں مجموعی طور پر 31 مختلف قسم کی پائی گئی ہیں جس پر 29 لاکھ سے زائد چالان کئے گئے اور اس میں 80 کروڑ سے زائد کے جرمانے وصول کئے گئے ہیں جس میں ایک لاکھ 87 ہزار ون ویلنگ، اڑھائی لاکھ ون وے، 4 لاکھ سے زائد چنگ چی رکشہ اور موٹر سائیکل رکشہ کے چالان کئے گئے ہیں۔ ہیلمٹ نہ پہننے پر 4 لاکھ موٹر سائیکلوں اور 30ہزار گاڑیوں کے سیٹ بیلٹ جبکہ 50 ہزار سے زائد بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں کے چالان کئے گئے ہیں۔ اس حوالے سے سٹی ٹریفک پولیس کے اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ شہر میں 598 پوائنٹس پر وارڈنز تعینات ہیں، صرف 90 پوائنٹس پر کیمرے نصب ہیں اورزیادہ آبادی کے باوجود وارڈنز کی انتہائی کم نفری کے ہمراہ شہر میں ٹریفک کو رواں دواں رکھے ہوئے ہیں۔ اس میں شہریوں کوبھی چاہیے کہ ٹریفک کی خلاف ورزی نہ کریں اس سے حادثات میں کمی آئے گی اور ٹریفک کے معاملات میں بھی بہتری آئے گی۔

ٹریفک پولیس

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...