نیب ترمیمی آرڈ یننس حکومت کا خاموش این آر او ہے: سراج الحق

نیب ترمیمی آرڈ یننس حکومت کا خاموش این آر او ہے: سراج الحق

  



لاہور(نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی صدارت میں جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ کے حالیہ اجلاس میں بھارت میں شہریت کے متنازع قانون بارے منظور کی گئی قرار داد میں کہاگیاہے کہ 2000ء کی دہائی میں گجرات کے قتل عام اور ریاست، ریاستی اداروں اور وزیراعلیٰ کی حیثیت میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والا نریندرمودی آج ہندو توا نظریے کے تحت بھارت میں مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کررہاہے۔ حقیقت میں کشمیر نریندرمودی کا پہلا پڑاؤ تھا۔ اوراس واحد مسلم اکثریتی ریاست جس کی متنازعہ حیثیت بین الاقوامی طور پر طے شدہ ہے،پرہاتھ صاف کرنے کے بعد اب بھارت کے عمومی کردار اور شناخت کو بدلنا اس کا اصل ہدف ہے۔ 5اگست کو نریندرمودی کا ذہن پوری طرح عیاں ہونے کے بعد جو کمی رہ گئی تھی اسے شہریت کے متنازع قانون نے پورا کردیا ہے۔قرار داد میں کہاگیاہے کہ این آر سی اورسی اے اے قوانین کے ذریعے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے جانے والے پانچ مذہب کے لوگوں کے لیے شہریت اور باہر سے آنے والے مسلمانوں کے لیے شہریت کے دروازے بند کرنے سے متعصب ہندوؤں کا ذہنی سانچہ پوری طرح عیاں ہوگیا۔ پہلے مرحلے میں آسام میں متنازع شہریت بل کا نفاذ اس کے نفاذ کے نتیجے میں 40لاکھ مسلمان متاثر ہورہے ہیں، جنہیں ملک سے بے دخل کرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں اور ان لوگوں کو گھروں سے نکالنے کے لیے وہی حکمت عملی اختیار کی جارہی ہے جو برما(روہنگیا) میں اختیار کی گئی۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے ہاتھ میں عوامی مسائل کے حل کی لکیر ہی نہیں ہے۔ آئی ایم ایف کے کہنے پر غریب عوام کا خون نچوڑا جا رہا ہے، نیب ترمیمی آرڈیننس حکومت کا خاموش این آر او ہے، سوموار کو منصورہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا جماعت اسلامی نیب قوانین سے متعلق حکومتی ترمیمی آرڈیننس کو مسترد کرتی ہے، کیا ملک میں ایمرجنسی لگی ہے جو پارلیمنٹ اور سینیٹ کو بیتوقیر کر کے آرڈیننس لائے جا رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کو مکمل ناکام قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیساکھیوں کے سہارے کھڑی حکومت ملک کو ترقی نہیں دے سکتی، سبز باغ دکھا کر عوام کو گمراہ کیا گیا۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کشمیر پر حکومتی پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

سراج الحق

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...