خیبر پختونخوا کو قدرتی گیس کی فراہمی کیلئے پشاور ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر

خیبر پختونخوا کو قدرتی گیس کی فراہمی کیلئے پشاور ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر

  



پشاور(نیوزرپورٹر)خیبرپختونخواکوصوبے کی پیداوار اور ضرورت کے مطابق قدرتی گیس کی فراہمی کے لئے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائرکردی گئی ہے رٹ پٹیشن سیف اللہ محب کاکا خیل ایڈوکیٹ نے دائرکی ہے جس میں گیس کی فراہمی نہ ہونے کے برابر کو چیلنج کیا گیا ہے اور موقف اختیارکیاگیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے مطابق جو صوبہ گیس کی پیداوار کرتا ہے اس کی ضرورت پہلے پوری کی جائے گی اور پھر دوسرے صوبوں کو گیس ملے گی رٹ پٹیشن میں وفاقی حکومت، منسٹری آف انرجی اور صوبائی حکومت کو فریق بنایا گیاہے ہے رٹ میں موقف اختیارکیاگیاہے کہ یہ کام منتخب نمائندوں کا تھا جو اس عوام کی آواز اٹھاتے ہیں پر صوبائی اسمبلی اور نیشنل اسمبلی کے کسی ممبر نے صوبے کے لئے اسمبلی میں آواز نہیں اٹھائی رٹ میں مزید کہاگیاہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے پچھلی صوبائی حکومت میں دھرنے کیے اور بل جلا دیے اور عوام کو بھی بتایا کہ بل نہ جمع کریں کیوں کہ ہمارے ٹیکس کے پیسے سے عیاشی ہو رہی ہے اور ملک کو تباہ کیا جا رہا ہے اب پی ٹی آئی حکومت وفاقی حکومت میں ہے اور اب تک کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس میں گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کو ختم کیا جائے لوگوں نے مجبورا ایل پی جی گیس خریدنا شروع کی ہوئی ہے، جنریٹر لگائے ہوئے ہیں اور سولر پینل اور یو پی ایس لگا کر گذارا کر رہے ہیں۔ جس سے انکی جیب پر اور بھی بوجھ آگیا ہے رٹ میں مزیدکہاگیاہے کہ کافی لوگ سخت سردی میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جس میں بچے اور بزرگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ حکومت ناکام ہو چکی ہے اور لوگوں کی بنیادی سہولیات نہیں دے سکتی نہ تو مفت تعلیم و صحت، نہ غریب کو سر چھپانے کی جگہ، نہ نوکریاں، نہ کوئی پارک بنے جس میں بچے کھیل سکیں اور نہ اور کوئی ایسا کام حکومت نے سرانجام دیا جس میں عوام کا بھلا ہوا ہورٹ میں مزیدکہاگیاہے کہ غریب بھوک سے مر رہے ہیں اور پی ٹی آئی مدینہ کی ریاست کے دعوے کرتے ہیں مدینہ کی ریاست یعنی ویلفیئر سٹیٹ میں حکومت لوگو ں کو دیتی ہے نہ کے ان سے لیتی ہے۔ اگر ان پر ٹیکس لگایا جاتا ہے تو عوام پر ہی صرف ہوتا ہے رٹ میں مزیدکہاگیاہے کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ گیس کی فراہمی یقینی بنائے اور یہ عوام کا قانونی و آئینی حق ہے کہ انکو گیس جیسی بنیادی حق سے مستفید کرے رٹ میں انہوں نے عدالت عالیہ سے استدعا کی ہے کہ گیس کی فراہمی نہ کرنا اور زیادہ گیس پنجاب حکومت کو دینا غیر آئینی قرار دیا جائے اور جب تک گیس پختونخوا کے عوام کو نہ ملے تب تک گیس کے بل نہ بھیجے جائیں انہوں نے عدالت سے سردی کی وجہ سے مرنے والو کے لیے معاوضے کی بھی استدعا کی ہے جو کہ حکومت کی غفلت کی وجہ سے ہوئی ہیں پشاورہائی کورٹ کادورکنی بنچ آئندہ چند روز میں رٹ پٹیشن کی سماعت کرے گا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...